تعلیمِ-نسواں

لڑکیوں کی تعلیم: چند غور طلب پہلو

علم حاصل کرنا نہ صرف ہر عورت اور مرد کا حق ہے بلکہ معاشرے پر بھی یہ ذمہ داری ہے کہ علم کا حصول سماج کے تمام انسانوں کے لیے ممکن اور آسان بنائے۔ خواہ وہ امیر ہو یا غریب اور مرد ہو یا عورت۔

بات اگر عورت کی ہو تو سمجھ لیں کہ عورتوں کو جہالت میں رکھنا اور تعلیم کے دروازے ان پر بند رکھنا معاشرے کے ترقی نہ کرنے کی وجوہات میں سے ایک ہے۔ اس بات کے درست ہونے سے کون انکار کر سکتا ہے۔

جہاں تک تعلیم کے حق کا سوال ہے تو گزشتہ بیس برسوں میں خواتین کی شرح تعلیم میں کافی اضافہ ہوا ہے۔ اس کے علاوہ ایک خاص بات یہ بھی مشاہدے میں مسلسل آرہی ہے کہ اسکولی سطح پر بھی اور اعلیٰ تعلیم میں بھی لڑکیوں کی کارکردگی مسلسل بہتر ہو رہی ہے اور وہ لڑکوں سے آگے جا رہی ہیں۔ دوسری طرف غریب خاندانوں اور پسماندہ طبقات کی لڑکیاں تمام تر مشکلات اور مسائل کے باوجود آگے بڑھ رہی ہیں اور سماج کے لیے مثال بن رہی ہیں۔ یہ خواتین کی تعلیمی ترقی کے مثبت اور حوصلہ افزا اشارے ہیں۔

لیکن اس سب کے باوجود کچھ ایسے مسائل اور چیلنجز ہیں جو اپنی جگہ جوں کے توں باقی ہیں اور رہیں گے ۔ یہ وہ مسائل ہیں جو عورت کی اس ترقی کو معاشرے کی ترقی بننے نہیں دیں گے۔

یہ چیلنجز کیا ہیں؟ اس کو سمجھنے کے لیے ان دو سوالوں کا جواب تلاش کرنا ہوگا۔

۱- پہلا سوال یہ ہے کہ مروجہ تعلیم کا سسٹم ہم سے چاہتا کیا ہے اور یہ ڈگری جو ایک عورت حاصل کر رہی ہے اس کے حصول کا مقصد کیا ہے۔

۲- دوسرا سوال یہ ہے کہ جو تعلیم ایک خاتون اپنی عمر کے بیس برس یا اس کے بعد تک حاصل کرتی رہتی ہے، اس میں کیا مضامین پڑھتی ہے۔ یعنی Curriculum Content کیا ہے۔

سماج کے تمام انسانوں کے لیے یہ کہنا درست نہیں ہے کہ آج کل ڈگری کے حصول کا مطلب اچھی نوکری حاصل کرنا بنا لیا گیا ہے بلکہ کہنا یوں چاہیے کہ بین الاقوامی سطح پر سکنڈری سے لے کر ہائر ایجوکیشن تک کا سارا کورس اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ طالب علم اسے حاصل کرنے کے بعد مارکیٹ ویلیو کے حساب سے جانچا جائے گا۔ وہ اس ڈگری کو لے کر جہاں جائے گا وہاں اس کے اخلاق، علم، بصیرت وغیرہ کو نہیں بلکہ اچھا نوکر بن کر کارپوریٹ مارکیٹ میں فٹ ہونے کی صلاحیت کو پرکھا جائے گا۔ یہی سوچ خواتین طالبات بھی اپنا رہی ہیں۔ پھر جب تلاش معاش کو اپنا مقصد ٹھہرا کر وہ اعلی تعلیم حاصل کرتی ہیں اور اچھی جگہ نوکری پر لگ جاتی ہیں تو بقیہ ساری زندگی نوکری اور گھر کو ساتھ لے کر چلنے کی تگ و دو میں گزارتی ہیں۔ کبھی کامیاب ہوتی ہیں کبھی ناکام اور کبھی ففٹی ففٹی میں ہی کام چلایا جاتا ہے۔

جن گھرانوں میں یہ سکھایا جاتا ہے کہ پڑھ لکھ کر نوکری نہیں کرنی ہے وہاں بھی عجیب حالات ہیں۔ والدین اپنی لڑکیوں کو تعلیم تو ڈھیر ساری دلوانا چاہتے ہیں مگر اتنی بھی ’’تعلیم یافتہ‘‘ نہیں بنانا چاہیے کہ پھر مرد کی کفالت سے بے نیاز ہو جائے۔ اونچا بولنے لگے، معاملے میں اپنی رائے رکھنے لگے اور دوسرے لفظوں میں دماغ خراب کرلے۔ سو پہلی بات تو یہ کہ ہمارے اوپر اس حصول تعلیم کا مقصد ہی واضح نہیں ہے اور جو مقصد اسے بنانے والوں نے طے کیا ہے وہ درست نہیں ہے۔

دوسرا چیلنج یہ ہے کہ ہم اپنی طالبات کو آخر پڑھا کیا رہے ہیں۔ ہم نے بیس برس پڑھانے کے بعد بھی کسی درجے میں اسے اکنامکس بطور مضمون نہیں پڑھایا۔ حالاں کہ بجٹ بنانا، بجٹ چلانا اور گھر سے لے کر کاروبار مملکت تک کی اکنامکس کا جاننا اس کے لیے حد سے زیادہ فائدہ مند ہوتا۔

ہم نے کسی مضمون میں یہ نہیں پڑھایا کہ بیرون خانہ سرگرمیوں اور اندرون خانہ ذمے داریوں کو کس طرح منظم کر کے چلے، بلکہ ہم نے تو اس کی اندرونِ خانہ ذمے داریاں کبھی اسے بتائی ہی نہیں۔ انسانوں کی مزاج شناسی نہیں سکھائی۔ نہ ہیومن سائیکالوجی پڑھائی نہ ہی چائلڈ سوئیکا لوجی پڑھائی۔

غذا اور غذائیت (Food & Nutrition) کے اسباق نہیں سکھائے۔ صحت سے متعلق معلومات بہم نہیں پہنچائیں۔ کیا یہ تمام مضامین اٹھارہ برس کی عمر تک یعنی انٹر کی تعلیم تک آسانی سے پڑھائے نہیں جاسکتے؟

ان دو اہم ترین سوالات پر ہم نے کبھی غور کرنے کی کوشش ہی نہیں کی۔ یہی وجہ ہے کہ آج ساری تعلیم یافتہ لڑکیاں ڈھیر ساری معلومات تک رسائی ہونے کے باوجود انتہائی درجہ Confused ہیں اور ایک کشمکش ہے جس کا دن رات سامنا کر رہی ہیں۔ ان کے پاس سوالات ہیں مگر تسلی بخش جواب نہیں ملتے۔ اس لیے کہ جب ایک لڑکی ڈگری کے حصول میں کامیابی کے بعد آفس کی سیٹ سنبھالتی ہے تو وہ دن کا 75 فی صد باہر گزارنے کے بعد گھر کے قابل نہیں رہتی۔ پھر اس کا ماں والا رول نانی، وادی یا آیا سنبھالتی ہے اور معلمہ کا رول Tutor سنبھالتا ہے۔

جب وہ حاملہ ہوتی ہے تو نہ دفتر میں رعایت ملتی ہے اور نہ گھر میں، لہٰذا زندگی کا خوب صورت ترین وقت ٹینشن کی نذر کرتی ہے۔ چھوٹے بچے کے ساتھ ڈیوٹی کرنے کا کوئی انتظام نہیں اس لیے وقت سے پہلے شیر خوار کا دودھ چھڑوانے کی تکلیف سہتی ہے۔

جب ذہنی یکسوئی کے ساتھ گھریلو امور نہیں سنبھال پاتی اور تربیت اولاد میں اپنا حصہ نہیں ڈال پاتی تو کمی رہ جانے کی صورت میں طعنے بھی وہی سہتی ہے۔

وہ نوکری جس کے حصول کے لیے … تعلیم حاصل کی تھی جب اسے چھوڑ چھاڑ کر گھر بیٹھتی ہے تو معاشرے کی ترقی میں اس کا رول صفر گردانا جاتا ہے اور پوچھا جاتا ہے ’’گھر بیٹھ کر ڈگری ضائع کر رہی ہو؟‘‘

سماج کی اس سوچ کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے کہ لڑکی کی تعلیم کا مقصد ہی نوکری ہے اور یہ بھی غلط ہے کہ اگر نوکری نہیں کرنی تو پڑھ لکھ کر کیا فائدہ۔ اس کے برخلاف یہ سمجھنا چاہیے کہ تعلیم کا مقصد انسان کے اخلاق اور عمل کی اصلاح اور مسائل زندگی کی رہ نمائی ہے اور اگر یہ نہ ہو تو علم بھی بے کار ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ ہماری عورت نے معکوس ترقی کی ہے اور معکوس ترقی کا فارمولا یہ ہے کہ اپ جتنا آگے بڑھتے جاتے ہیں منزل سے اتنا ہی دور ہوتے چلے جاتے ہیں۔

ہمارے گھروں سے جو سکون رفو چکر ہوگیا ہے اس کے پیچھے بھی اس تعلیم یافتہ عورت کا اپنے رول کے بارے میں احساسِ کمتری ہی ہے۔ اسے کب یہ بتایا گیا تھا کہ تم پڑھو لکھو تاکہ اچھی انسان بن سکو، ایک صحت مند اور باکردار نسل معاشرے کو دے سکو تاکہ تم اچھی اور قابل قدر شہری بنو، تاکہ تم بہتر انسان، بہتر مسلمان بنو بلکہ اسے تو یہ سکھایا گیا تھا کہ تہذیب جدید نے تمہارے لیے جو خانے بنا دیے ہیں ان میں خود کو زبردستی فٹ کرنا ہے، خود کو ’’کچھ‘‘ ثابت کر کے دکھانا ہے اور مردوں کے برابر اور بلکہ برتر ثابت کر کے دکھانا ہے۔‘‘

بتائیے کیا ایسا ہی نہیں ہے؟ ہم نے اپنی بچیوں کو خود ہی Confusedکیا ہے؟ ہم نے خود ہی ان کو زہریلی تعلیم مہیا کی ہے جو ان سے ان کی نسوانیت چھین کر انھیں اس رول کے لیے تیار کر رہی ہے جو ان کا تھا ہی نہیں یا پھر اس رول کی ادائیگی میں کوتاہی کے لیے مجبور کی جا رہی ہے جس رول کو فطری طور پر نبھانے کی وہ سب سے زیادہ اہل ہے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
رُمانہ عمر

Leave a Reply