پیاس بجھاتے چلو! (قسط-۵)

امی کیا ابو کچھ پریشان ہیں؟

فائزہ نے کسی قدر پریشانی کے ساتھ امی کو دیکھا۔ اگرچہ ابو نے تو اسے کوئی پریشانی والی بات نہیں بتائی تھی لیکن فائزہ کو کسی کھٹک کا احساس ہو رہا تھا۔ اس نے ابو کے لہجے میں معمولی سی لرزش محسوس کرلی تھی اور جب سے ان سے بات ہوئی تھی اس کے دل پر اک بے نام سی اداسی چھا گئی تھی۔

’’ایسی کوئی بات نہیں ہے چندا۔‘‘ انھوں نے اس سے نگاہیں چرائیں۔

’’تم کہتی ہو نا کہ ہر شر میں خیر ہوتا ہے… ہو سکتا ہے عنقریب تمہیں کوئی خوش خبری سننے کو ملے۔‘‘

(اللہ کرے ایسا ہی ہو) انھوں نے آہ بھری تھی۔

ان کی مبہم سی بات پر فائزہ نے کچھ نہ سمجھتے ہوئے انہیں دیکھا۔ وہ اس کی نظروںسے گڑ بڑا کر کٹی ہوئی سبزی کا تھال اٹھا کر کھڑی ہوگئیں۔

’’چلو تم اب جاؤ تایا جان کی طرف، کھانا بنانے کا وقت ہوگیا ہے۔

جاؤ جلدی ورنہ تائی جان خود ہی پکانے کھڑی ہوجائیں گی۔

’’آپ دونوں اکیلی یہاں کیا کرتی ہیں … چلیں ناں آپ لوگ بھی۔ پلیز دادی۔‘‘اس نے التجا کی۔

’’تایا جان تو کتنا کہہ رہے ہیں کہ صبا اور تائی جان کے ٹھیک ہونے تک آپ بھی ادھر ہی رہیں۔‘‘

’’نہیں بیٹی! تم جانتی ہو مجھے اپنے کمرے کے علاوہ اور کہیں نیند نہیں آتی… اور پھر روزانہ تو جاتے ہی ہیں ادھر۔ اب میں نے قیصر سے کہہ دیا ہے کہ اب یہ بیچ کا دروازہ کھلا ہی رہنے دے… باہر سے آنا جانا مشکل لگتا ہے۔ دو سیڑھیاں ادھر کی اور تین سیڑھیاں اس طرف کی چڑھنی پڑتی ہیں۔‘‘ انھوں نے دونوں ہاتھوں سے اپنے گھٹنوں کو ہلکے سے دبایا تھا۔

٭٭

رات کے کھانے کے بعد تایا جان چائے لازماً پیتے تھے۔ کچن میں تائی جان نے ان کے لیے چائے کا پانی چڑھایا ہوا تھا۔ داہنے ہاتھ پر تیل کے چھینٹوں کی وجہ سے آبلے پڑ گئے تھے اور بھاپ لگنے سے ان میں بہت جلن ہوتی تھی۔ تائی جان نے بائیں ہاتھ سے کیتلی پکڑ کر چائے کپ میں انڈیلنی چاہی لیکن عادت نہ ہونے کی وجہ سے بائیں ہاتھ کی گرفت مضبوط نہ رہ سکی، کیتلی ہاتھ سے چھوٹ گئی اور ساری چائے پیروں پر آرہی۔

تائی جان کی چیخیں نکل گئی تھیں۔ سارے لوگ گھبرا کر کچن میں ان کے ارد گرد جمع ہوگئے تھے۔ ہاتھ تو پہلے ہی جلا ہوا تھا اب پیروں پر بھی آفت آگئی تھی۔

فائزہ سب سے زیادہ شرمندہ تھی۔ تایا جان کو چائے دینا اسے یاد ہی نہ رہا تھا ویسے تو وہ دیگر تمام کام کرلیتی تھی لیکن چائے تائی جان ہی بناتی تھیں۔

اسے شدید ندامت نے آگھیرا تھا۔ اس نے دل ہی دل میں تہیہ کرلیا تھا کہ کل صبح سے وہ جلدی اٹھ کر تائی جان کو کسی بھی کام کو ہاتھ نہیں لگانے دے گی۔

٭٭

پھر صبح اٹھتے ہی صبا کو جگا کر وہ سیدھا کچن میں چلی گئی۔

تایا جان اور تائی جان کو ان کے کمرے میں چائے دے کر وہ سب کا ناشتہ تیار کرنے لگی۔

’’بچی پر کام کا دباؤ بہت بڑھ گیا ہے۔‘‘

تایا جان کچھ دکھ سے فائزہ کو کمرے سے باہر جاتا دیکھ کر بولے۔ تائی جان خاموشی سے چائے کے سپ لیتی رہیں۔

آٹھ بجے کے قریب اس نے تایا جان کو ٹیبل پر ناشتہ سرو کیا اور صبا کے لیے ناشتے کی ٹرے تیار کر کے اس کے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔

’’خدایا! میں تو مہران کو جگانا ہی بھول گئی۔‘‘

گھڑی دیکھ کر تو اس کے ہوش اڑ گئے۔ وہ بے چارہ شاید لیٹ ہو جائے گا۔ وہ بدحواس سی صبا کے روم میں جانے کی بجائے ایک ہاتھ میں ٹرے تھامے دوسرے ہاتھ سے مہران کا دروازہ دھڑدھڑانے لگی۔

’’مہران، جلدی کرو… اب اٹھ بھی جاؤ۔‘‘

ساتھ ہی ساتھ وہ دروازہ بھی پیٹ رہی تھی۔

مہران نے بکھرے بالوں اور مندی مندی آنکھوں سے دروازہ کھولا تھا۔

’’جاگو فوراً …ٹائم دیکھو ذرا…‘‘

’’کتنے بج رہے ہیں؟‘‘ اس نے جماہی روکتے ہوئے پوچھا۔

’’آٹھ بج گئے ہیں۔‘‘

’’وہا اٹ۔‘‘ اس کے اونچا چلانے پر فائزہ گھبراکر دو قدم پیچھے ہٹی۔ صبا کے لیے ٹرے میں رکھی ہوئی چائے کپ سے چھلک گئی تھی۔

’’ک کک کیا ہوا؟ دیر ہوگئی؟‘‘

اس نے ڈرتے ڈرتے پوچھا۔

’’جلدی ہوگئی ہے… میں تو دس بجے اٹھتا ہوں، چھٹیاں تو انجوائے کرلینے دیں۔ خوامخواہ نیند خراب کردی۔‘‘

’’دفع ہوجاؤ۔‘‘ اس کے زور سے دروازہ بند کرنے پر وہ اس پا لعنت بھیجتی صبا کے کمرے کی طرف چلی ابھی ناشتہ کے لیے ان محترمہ کے ساتھ بھی ماتھا پچی کرنی تھی۔

٭٭

کھانے کی ٹیبل پر تایا جان دل کھول کر اس کی تعریف کر رہے تھے۔ اسے بخوبی پتہ تھا کہ تایا جان اچھا اور لذیذ کھانے کے شوقین ہیں۔ فائزہ نے کچن کی ساری ذمہ داری بحسن و خوبی سنبھالی ہوئی تھی اور خوش اسلوبی سے اپنا کام انجام دے رہی تھی۔ لیکن ہر کھانا تائی جان کی نگرانی میں ہی بن رہا تھا۔ یہ الگ بات ہے کہ تائی جان کی کرخت آواز اس کے ہاتھ پیر پھلا دیتی تھی اور ان کی تیز نظروں کے حصار میں کام کرنا اس دنیا کا مشکل ترین عمل لگ رہا تھا۔ تاہم اس نے یہ پہاڑ سر کر ہی لیا تھا۔

آج اس نے مٹن طاہری بنائی تھی اور ساتھ ہی ساتھ تائی جان کی ایماء پر پہلی بار نرگسی کوفتے بھی ٹرائی کیے تھے۔

ابلے انڈوں پر قیمے مسالے کی کوٹنگ کرتے ہوئے گھبراہٹ ہو رہی تھی کہ تایا جان کی پلیٹ میں پہنچنے تک آیا یہ کوٹنگ برقرار اور صحیح سلامت رہے گی بھی یا نہیں۔

لیکن تائی جان نے جو طریقہ بتایا تھا وہ بہت پرفیکٹ تھا اور تایا جان کے اس توصیفی جملے پر اس کی جان نکل گئی کہ …

’’آج تو تم نے اپنی تائی کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔‘‘

وہ انگلیاں چاٹتے ہوئے اس کی بنی ڈش کو سراہ رہے تھے۔

اس نے گھبرا کر تائی جان کو دیکھا لیکن ان کے چہرے پہ کہیں جلن یا غصہ وغیرہ کے تاثرات نہیں تھے بلکہ وہ تائیدی انداز میں اسے اور تایا جان کو دیکھ کر مسکرا رہی تھیں۔

اس چھوٹی سی لڑکی نے جس طرح ان کی ذمہ داری اٹھالی تھی اور اس مشکل وقت میں ساتھ دیا تھا اس نے ان کے دل میں اس کے لیے نرم گوشہ پیدا کر دیا تھا۔ صبا کو وقت پر دوائیاں کھلانا، تایا جان کے لیے انواع و اقسام کی چیزوں سے ٹیبل بھر دینا اگرچہ وہ اسے اتنی محنت و مشقت کے لیے منع کرتے تھے لیکن اسے منظور نہیں تھا کہ اس کے ہوتے ہوئے تایا جان کو مرضی کے مطابق کھانا نہ ملے اور یہ سب معمولی کام نہیں تھے۔

ان کے ہاتھ کی تکلیف کہ وجہ سے فائزہ نے تائی جان کے سر میں تیل ڈال کر ان کی کنگھی بھی کردی تھی اور تو اور وقت بے وقت کی جانے والی مہران کی چائے کی فرمائش کو بھی بغیر منہ بنائے پوری کر دیتی تھی۔ ورنہ اتنی دفعہ چائے بنانا صبا کی جان پہ آتا تھا۔ اور وہ گاہے بگاہے مہران کو سخت سست سناتی جاتی تھی۔

فائزہ کو ان کے تبسم نے قدرے حیرت زدہ کیا۔ تائی جان کا مسکراتا چہرہ اس کے لیے قطعاً نیا تھا۔

تاہم ان کے مثبت رویے نے اسے فطری طور پر مسرت سے ہمکنار کیا تھا۔

٭٭

اگلے دن سہہ پہر کے چار بجے…

نیند میں ڈوبی صبا نے کراہتے ہوئے آنکھیں کھولیں۔ اسے اپنا دایاں بازو جکڑا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔ پلکیں جھپکاتے ہوئے اس نے ادھر ادھر گردن گھما کر اٹھنے کی کوشش کی کہ کسی نے اسے واپس تکیے پر دھکیل دیا۔

’’لیٹی رہو چپ چاپ۔‘‘

فائزہ کی غراتی آواز آئی۔ ساتھ ہی اس کے بازو پر کسی کی گرفت اور مضبوط ہوگئی۔

’’آپ کو ڈرپ لگی ہے صبا… ہاتھ کو حرکت نہ دیںـ۔‘‘

ایک نسوانی آواز آئی کچھ مانوس سی۔‘‘

’’کیا…‘‘ اس کے حواس پوری طرح بیدار ہوگئے اس نے چونک کر اپنی دائیں کلائی کو دیکھا… واقعی ڈرپ لگی تھی اور فائزہ نے اس کے ہاتھ کو اس طرح پکڑ رکھا تھا کہ وہ نیند میں اسے ذرا بھی نہ ہلا سکے۔ ڈاکٹر افراح DNS کی باٹل میں پتہ نہیں کون کون سے انجکشن ڈال رہی تھیں۔

’’یہ کیا چالاکی کی ہے تم نے…‘‘ وہ فائزہ پر بگڑ گئی۔

فائزہ نے شانے اچکائے۔ ’’میڈم آپ دوائیاں نہیں کھا رہی تھیں… نہ ہیلتھ ڈرنکس لے رہی تھیں تو ہمیں تو پھر ایسی ہی چالاکیاں کرنی آتی ہیں۔‘‘

فائزہ نے فاتحانہ مسکراہٹ اس کی طرف اچھالی۔ لیکن صبا کو وہ مسکراہٹ زہر سے بھی زیادہ بری لگی تھی۔

’’چالاکی نہیں دھوکہ کہتے ہیں اسے۔‘‘ فائزہ کو دل جلانے والے انداز میں مسکراتا دیکھ کر وہ تلخی سے بولی۔

’’ارے رے… آرام سے۔‘‘ ڈاکٹر افراح نے اس کے پلٹنے پر سوئی کی طرف اشارہ کیا جو اس کی دائیں کلائی پرلگی ہوئی تھی۔

’’تم اس بے چاری کو کیوں ڈانٹ رہی ہو…‘‘ ڈاکٹر افراح نرمی سے صبا سے مخاطب ہوئیں۔

’’اس نے اچھا کام کیا ہے… اب تم انشاء اللہ جلدی ٹھیک ہوجاؤگی… رمضان کی آمد آمد ہے کیا تمہیں روزے نہیں رکھنے ہیں ڈیئر۔‘‘

وہ چپ ہوگئی۔ ڈاکٹر افراح کے سامنے بولتی بھی کیا۔ لیکن اسے فائزہ پر رہ رہ کر غصہ آرہاتھا۔ فائزہ اچھی طرح جانتی تھی کہ اسے انجکشن کی سوئی سے ڈر لگتا ہے۔ صبا کو خود پر حیرت بھی تھی کہ کیا وہ اتنی بے سدھ ہوئی تھی کہ سوئی کی چبھن تک اسے جگا نہ سکی…

وہ فائزہ کو کھا جانے والی نظروں سے دیکھ رہی تھی۔ اور فائزہ ان نگاہوں کا پورا پورا لطف اٹھاتے ہوئے مسکرانے میں مصروف تھی۔ اس کا مقصد جو پورا ہوگیا تھا۔

٭٭

فضاؤں اور ہواؤں میں رمضان کے بابرکت دنوں کی خوشبوئیں مہک رہی تھیں۔ زمین، آسمان، چاند، ستارے، درخت، پرندے،پھول، پہاڑ اور ندیاں سب کچھ پہلے جیسا تھا لیکن دن اور رات کے بدلنے سے یہ موسم اور فضائیں بھی تبدیل ہوچکے تھے۔ ہر طرف روحانیت، عبادت، سکون اور سرور، ہمدردی و غم خواری کے جذبات پروان چڑھنے لگے تھے۔

فائزہ خوش تھی بہت خوش کیوں کہ اب ابو بھی آنے والے تھے۔ وہ ہر سال عید سے قبل انڈیا پہنچ جایا کرتے تھے۔ ایک دوبار ابو نے سرسری طور پر فائزہ سے کہا تھا کہ کام کا پریشر زیادہ ہے، کیوں کہ رمضان میں اکثر امپلائز چھٹیوں میں گھر چلے جاتے ہیں سو اس دفعہ انھیں چھٹی ملنا ذرا مشکل ہے۔ وہ آگے بھی اسے کچھ سمجھا رہے تھے لیکن اس کی اس بات پر ہی وہ اتنی آزردہ اور روہانسی ہوگئی تھی کہ اس کی دلجوئی کے لیے انہیں کہنا پڑا کہ وہ پوری کوشش کریں گے کہ ان کی چھٹی منظور ہوجائے۔مگر فائزہ فون کان سے لگائے اس وقت تک چپ چاپ کھڑی رہی اور لگا تار روتی رہی جب تک انھوں نے ہار مان کر اس سے وعدہ نہ کرلیا۔

’’تم میری زندگی ہونا!!… بس اب رونا بند کردو۔ میں اپنی زندگی کو اداس اور روتا ہوا نہیں دیکھ سکتا۔‘‘

’’آپ کو کیسے پتہ میں رو رہی ہوں۔‘‘

اس نے آنسو صاف کرتے ہوئے پوچھا۔ وہ تو سانس بھی اتنی آہستہ لے رہی تھی کہ فون میں آواز نہ جائے اور مسلسل چپ سادھے ہوئے تھی۔ پھر ابو کیسے جان گئے تھے۔

’’کیوں کہ تم میری زندگی ہو۔‘‘

وہ بغیر سلام کیے فون کاٹ چکے تھے۔

جانے کیوں اسے ایسا لگا کہ ان کا لہجہ کچھ پھیکا پھیکا سا تھا۔ وہ ہاتھ میں فون پکڑے ساکت و خاموش کھڑی رہ گئی تھی۔

٭٭

فائزہ کے روزے بہت اچھے گزر رہے تھے۔ ایمان اور مکمل احتساب کے ساتھ۔ زندگی میں پہلی بار مئی کے روزے رکھ رہی تھی۔ اس سے قبل تو ان روزوں کا صرف چرچا ہی سنا تھا۔ شدید گرمی میں بھی شام چار بجے کچن میں کام کرتے ہوئے اسے پیاس نڈھال نہیں کر رہی تھی۔ خشک لبوں پر زبان پھیرتے ہوئے اور تھوک نگلتے اسے ایک انجانا سرور مل رہا تھا کہ وہ یہ پیاس اپنے رب کے لیے برداشت کر رہی ہے اور یہ پیاس اس قیامت کے دن والی پیاس کے مقابلے کچھ بھی نہیں تھی۔

دوران رمضان وہ کافی ایکٹیو رہی تھی۔ تلاوت قرآن، نوافل، صدقات، اسلامک لیکچرز سننا، غریبوں کو کھانا کھلانا اور افطاری بھجوانا۔ تفسیر کا مطالعہ کرنا اس کے معمولات تھے۔

پہلی بار اس نے رمضان کے ہر لمحے کا تعمیری و بہترین استعمال کیا تھا۔ اللہ کا احسان تھا رمضان… گناہگاروں کی بخشش کا سامان۔ نہ جانے کیا سوچتے ہوئے اس کی آنکھیں بھر آئی تھیں۔ اس نے امسال سے پہلے کبھی اتنے شعور کے ساتھ رمضان نہیں گزارا تھا۔ اب تو بھوک پیاس سب پتہ چل گئی تھی۔

اگر اللہ ہماری خطاؤں اور گناہوں کے بخشش کے لیے رمضان عطا نہ کرتا تو پھر ہم کیا کرتے؟؟

اللہ سے ڈھیر ساری باتیں کرتے بے شمار دعائیں مانگتے وہ ذرا نہ تھکتی تھی۔ یہ اس کی زندگی کا سب سے بہترین رمضان تھا، جس میں اللہ سے اس کا تعلق مضبوط سے مضبوط تر ہوتا جا رہا تھا۔ اس کا قرب اسے ایک انجانی اور انوکھی مٹھاس سے روشناس کروا رہا تھا۔

اللہ کے بارے میں سوچتے ہوئے وہ اکثر محبت سے مسکرا دیتی تھی، جو رب اپنے بندوں سے ۷۰ ماؤں سے زیادہ محبت کرتا ہو یہ جانتے ہوئے بھی انسان کو اس سے محبت نہ ہو، عشق نہ ہو یہ کیسے ممکن تھا۔

٭٭

وہ تائی جان کی طرف افطاری لے کر آئی تھی۔ تائی جان نے ٹھیک ہوتے ہی پھر یہ مزے مزے کے کھانے بنانے شروع کردیے تھے۔ صبا بھی اب مکمل طور پر صحت یاب ہوگئی تھی۔

اس نے افطاری کا تھال صبا کو دیا ہی تھا کہ اس کے پیچھے امی بھی وہاں پہنچ گئیںـ۔

’’بھائی صاحب! فائزہ کے ابو کا فون ہے۔‘‘

انھوں نے موبائل تایا جان کی طرف بڑھایا۔ وہ ہانپ رہی تھیں۔ شاید تیز قدموں سے تایا جان کے گھر آئی تھیں۔

’’میں اس سے کہہ رہا ہوں کہ ذرا بھی فکر نہ کرے لیکن …‘‘

تایا جان امی سے فون لے کر باہرنکل گئے۔

سب لوگ امی کو دیکھنے لگے… اور فائزہ کی سوالیہ نگاہوں سے تو انہیں خوف آنے لگا تھا۔

’’اب کیا نیا شوشہ چھوڑا ہے کمپنی والوں نے؟‘‘

تائی جان نے ماتھے پر بل ڈالتے ہوئے پوچھا:

’’حیدر بھائی کو آنے دیا جا رہا ہے یا نہیں…‘‘

صبا اور فائزہ نے چونک کر انہیں دیکھا اور امی نے گھبرا کر ان دونوں کو۔lll

شیئر کیجیے
Default image
سلمیٰ نسرین آکولہ

Leave a Reply