شہزادی

اس کا دن اندھیرے سے شروع ہوکر اندھیرے ہی پر ختم ہوتا ہے اور نہ جانے ہوتا بھی ہے کہ نہیں۔ تھکن، بوریت اور طبیعت کی خرابی اس کی لغت میں نہیں ہے۔ اس نے نہ جانے کیسے کیسے خواب دیکھے تھے، ہر لڑکی کی طرح خوب صورت اور سہانے خواب۔ لیکن زندگی اس کے لیے بھاری پتھر بن گئی ہے، خواب عذاب ہوگئے ہیں۔ خواب دیکھنا اس نے اب بھی نہیں چھوڑا، لیکن ان خوابوں کی دنیا بدل گئی ہے۔ اب وہ اپنے معصوم، پیارے اور سہمے ہوئے بچوں کے سہانے مستقبل کے خواب دیکھتی ہے۔

نصیب کا لکھا کون مٹا سکتا ہے؟ انسان خود تو اپنی تقدیر لکھتا نہیں ہے۔ لکھنے والا لکھتا ہے وہ جیسی چاہے لکھ دے۔ میں سات بھائیوں کی اکلوتی بہن ہوں۔ مجھے سب گھر والے پیار سے ’’شہزادی‘ کہتے تھے، کہتے تو اب بھی ہیں ۔ ماں باپ کے گھر دن اچھے گزرے۔ پھر میری شادی ہوگئی۔ شروع کے دن بہت اچھے گزرے۔ شوہر صبح جاتا اور شام کو واپس آجاتا، میں پوچھتی کیا کام کرتے ہو، تو کہتا مزدوری کرتا ہوں، تمہیںخرچ سے مطلب ہے، اپنا خرچ لو اور کیا پولیس والوں کی طرح پوچھ گچھ کرتی رہتی ہو؟ میں خاموش ہوجاتی اور پھر ہمارے ادھر کا ماحول بھی ایسا ہے کہ شوہر سے بیوی پوچھنے کی جرأت نہیں کرسکتی کہ وہ کیا کرتا ہے؟ پیسے پورے ملتے تھے، ساس سسر ساتھ تھے، گزارا اچھا ہو رہا تھا۔ مجھے اللہ نے دو بیٹیاں اور دو بیٹے دیے۔

ایک دن پولیس والے ہمارے گھر آئے اور میرے سسر سے کہا:

’’تمہار ابیٹا حوالات میں ہے، اس سے مل لو۔‘‘

میں بہت پریشان ہوئی لیکن سسر آرام سے بیٹھے رہے۔ میں نے کہا کیا ہوا؟ تو انھوں نے کہا:

’’آرام سے بیٹھ جاؤ، تیرے کو کیا مصیبت ہے؟ہم خود سنبھال لیں گے۔‘‘

میں نے کھوج لگائی تو پتا چلا کہ میرا شوہر منشیات بیچتا تھا اور پکڑا گیا ہے۔ میں تو کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہی تھی۔ میں سوچتی تھی کہ وہ اچھا آدمی ہے نوکری کرتا ہے، مزدوری کرتا ہے ہمارا خیال رکھتا ہے۔

دو سال بعد وہ جیل سے رہا ہو کر گھر آگیا۔ گھر کا سب کچھ ختم ہوگیا تھا۔ برے کام کا برا نجام ہوتا ہے۔

جیل سے رہا ہوکر وہ گھر آیا تو کم زور ہوگیا تھا۔ سگریٹ تو وہ شروع سے پیتا تھا، ایک دن میں چھت پر گئی تو میں نے دیکھا کہ وہ سفید سا پوڈر سگریٹ میں ڈال رہا ہے۔ میںنے پوچھا یہ کیا کر رہے ہو؟ تو کہنے لگا تم تم جاؤ دفع ہوجاؤ، میں کچھ بھی کر رہا ہوں، تمہیں اس سے کیا؟ پھر جو اس نے مجھے مارنا شروع کیا تو بتا نہیں سکتی۔

ساس سسر تو قریب بھی نہیں آئے۔ مار پٹائی کے دوران اس کی جیب سے ایک پڑیا گر گئی جو میں نے اٹھالی۔ دوسرے دن میں نے اپنے پڑوسی سے پوچھا کہ یہ کیا ہے تو اس نے بتایاکہ یہ ہیروئن ہے۔ جب سے میری زندگی برباد ہوگئی۔ جیل میں اسے کسی نے یہ لت لگا دی تھی۔ میں نے اپنے ماں باپ کو لکھا تو انھوں نے کہا:

’’ہم نے تمہاری شادی کرا دی ہے۔ وہ اب جیسا بھی ہے تمہارا شوہر ہے۔ اس کے ساتھ گزارا کرو، تم اب اکیلی جان تو ہو نہیں، تمہارے چار بچے ہیں۔ صبر کرو۔‘‘

صبر کرلیا، سارا زیور، سارا سامان بک گیا، کچھ پلے نہ رہا۔ میرا شوہر تو ملنگ بن گیا تھا وہ آج بھی شہر کے ایک مزار پر موجود ہے، بھیک مانگتا ہے اور ہیروئن پیتا ہے۔ اسے تو سب کچھ وہاں مل جاتا ہے، میں عورت ذات کیا کرتی؟ ایک رشتے دار سے کچھ پیسے لیے اور ماں باپ کے پاس آگئی۔

کچھ دن یہاں رہی تو بھابھی کا رویہ اچھا نہیں تھا۔ ماں باپ بھی اتنے سوہاکار نہیں ہیں کہ میرا خرچ برداشت کرتے۔ میں نے سوچا کب تک ان پر بوجھ بنوں گی۔ میں نے کام کی تلاش شروع کی۔ محلے کی ایک عورت نے ایک مکان کرائے پر دلا دیا۔ میں کام کرنے لگی۔ برتن دھونا، پونچھا لگانا، شروع میں تو مجھے بہت رونا آیا اور سچی بات یہ ہے کہ میں نے اپنی آنکھیں لال کرلیں۔ پھر یہ ہونے لگا کہ میں روتی تو بچے بھی رونے لگتے۔ میں نے سوچا یہ رونے دھونے سے کام نہیں چلے گا۔ بس میں نے رونا دھونا چھوڑا اور ہمت کر کے میدان میں آگئی۔

بہت بے حس ہیں لوگ۔ سب کو ایک ہی نظر سے دیکھتے ہیں۔ ان کی نظر میں ہر کام کرنے والی عورت بدکرارہوتی ہے۔ یہاں پر بے سہارا عورت پر ہر ایک نظر رکھتا ہے۔ ہر ایک ہم دردی کے روپ میں اسے گم راہ کرنے کی کوشش کرتا ہے اور جب کوئی گم راہ ہوجائے تو اسے زندہ درگور کر دیتے ہیں۔ اس کی نسلیں بھی اس کی گم راہی کے چرچے سنتی ہیں اور خود کیا ہیں۔ یہ شریف لوگ؟

صبح منہ اندھیرے گھر سے نکلتی ہوں ایک اسکول کی صفائی کرتی ہوں۔ پھر اسکول کے قریب کے تین گھروں میں برتن دھونا، صفائی ستھرائی اور پونچھا لگاتی ہوں، دوپہر میں گھروں کے کپڑے دھونا ہوتے ہیں، کبھی زیادہ کبھی کم، محلے میں کسی کے گھر کوئی تقریب ہو تو وہاں کام کے لیے بھی چلی جاتی ہوں۔

اب میں یہاں ’’کام والی شہزادی‘‘ مشہور ہوگئی ہوں۔ اگر کبھی وقت مل جائے تو سلائی بھی کرلیتی ہوں۔ کام سے جی نہیں چراتی، محنت کرتی ہوں اللہ دیتا بھی ہے۔ سب ہی برے نہیں ہوتے، کچھ اچھے بھی ہوتے ہیں۔ وہ اپنا بچا ہوا کھانا دے دیتے ہیں تو گھر لے آتی ہوں۔ بچے اور میں کھاکر گزارا کرتے ہیں۔ اسی طرح کپڑے مل جاتے ہیں۔ جب میں اپنے بچوں کو اترن کے کپڑے پہناتی ہوں تو دل میں ہوک اٹھتی ہے، آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں۔ خود پہنوں تو کچھ محسوس نہیں ہوتا۔ خرچ زیادہ ہے، دکھ بیماری ہے، ابھی بچیوں کو اسکول میں داخل کرایا ہے۔ ایک بھائی کے گھر ولادت ہوئی تو اس نے کہا ہمارے گھر کا کام بھی کر دیا کرو۔ اس نے بھی تو مجھے ماسی ہی سمجھا ناں۔ آپ کے پاس دھن دولت ہے تو سب رشتے دار ہیں، نہیں ہے تو کوئی بھی نہیں ہے، ہم محنت بھی کرتے ہیں اور لوگ ہم پر احسان کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں ہم نے تمہیں ترس کھا کر کام پر رکھا ہے، اگر نہیں کروگی تو بھوک سے مر جاؤگی۔ یہاں تو سب خدا بن گئے ہیں۔ کوئی بندہ بننے کو تیار ہی نہیں ہے، جس کے پاس پیسا ہے وہ سمجھتا ہے ساری دنیا اس کی غلام ہے اور وہ ان سب کو روزی رزق دیتا ہے۔

میرے بچے بہت اچھے ہیں، کوئی ضد نہیں کرتے جو کچھ دوں لے لیتے ہیں، جو پہناؤ پہن لیتے ہیں، محنت کروں گی اور اپنے بچوں کے لیے نئے کپڑے بناؤں گی۔ انہیں عید پر اترن نہیں پہناؤں گی اس بار۔lll

شیئر کیجیے
Default image
عبد اللطیف ابو شامل

Leave a Reply