بلا عنوان!!

انسان بھی عجیب ہے، عم بھر بیساکھیاں بناتا رہتا ہے اور خود چلنا بھول جاتا ہے۔ وقت کے قبرستان میں کچھ لوگ تابوت کی مانند ہوتے ہیں، جن کے در اور دل کسی صدا اور دستک سے نہیں کھلتے۔ دروازوں کو ہمیشہ کھلا رہنا چاہتے۔ جانے والوں کے لیے بھی اور آنے والوں کے لیے بھی۔ جب کوئی رب سے مایوس ہوجائے تو آسمان والا بھی اس سے ناراض ہو جاتا ہے۔ پھر اس سے محبت کی نعمت واپس لے لی جاتی ہے اور پھر ایسا شخص تمام عمر دوسروں کی خامیاں تلاش کرتے اور اندر ہی اندر کڑھتے گزار دیتا ہے۔ بابا کہتے ہیں: ’’یہاں کوئی فرض ادا کرنے والا نہیں، اسی لیے تو اکثریت کو حقوق نہیں ملتے۔ غلام قوموں کی عمریں، زندگی کی گاڑی کھینچتے کھینچتے گزر جاتی ہیں۔ ان کی زندگیاں کتاب، علم اور روشنائی سے خالی ہوتی ہیں۔ ہاتھ میں قلم کی بجائے عقیدے کا خنجر ہوتا ہے، اسی لیے یہاں انسانیت لہولہو پھرتی ہے۔ یہاں محبتیں ہجر اوڑھ لیتی ہیں اور آنکھ میں ٹھہرے لوگ اجل کی جھیل کے ٹھہرے، ٹھنڈے یخ پانی کی تہہ میں اتر جاتے ہیں۔ غلام قوموں سے علم اٹھا لیا جاتا ہے اور جہاں علم کی پیاس مر جائے، تو وہاں خون کی پیاس بھڑک اٹھتی ہے۔‘‘ میں لفظوں کی جگالی کرنے والا شخص تھا، مگر میرا باپ ہمیشہ گہرے چپ کی بگل لیے پھرتا۔ وہ اکثر کہتے: ’’جہاں شور ہوگا، وہاں شعور نہیں ہوگا۔‘‘ وہ بہرہ کر دینے والی خاموشی کے قائل تھے کہ بحث مباحثے، فضول گفتگو اور شور بندے کو اندر سے خالی کر دیتے ہیں اور جو اندر سے خالی ہو جائے، وہ فٹ بال کی طرح جوتے کی نوک پر دھر لیا جاتا ہے۔‘‘ زندگی میں مجھے دو چیزیں کبھی نہیں بھولیں۔ گاؤں میں ہماری زمینوں پر لگے ایک سرسبز شیشم کے پیڑ سے لپٹی، کاسنی بیل، جو مجھے ایک لمحے کے لیے وجود سے عدم میں لے جاتی تھی اور دوسرا بھورے رنگ کا وہ کتا جو ہمیشہ بھونکتے یا چیختے اپنی دم پکڑنے کی کوشش کرتا ہوا گھومتا رہتا، مگر کبھی بھی اسے پکڑ نہ سکا۔ میں اس وقت بہت چھوٹا تھا اور بابا سے پوچھتا کہ یہ کتا ایسا کیوں کرتا ہے؟ تب بابا مسکراتے، آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے دونوں ہاتھ معافی کے انداز میں جوڑ لیتے اور خاموش ہوجاتے۔

اس دن شام نے گہرے سیاہ بادلوں کی ردا اوڑھ رکھی تھی۔ ہمیشہ کی طرح اس شام، میں کئی ہفتوں کے بعد اپنے والدین سے ملنے ان کے گھر پہنچا تھا۔ اس دن وہ دونوں بہت اداس تھے۔ ماں کے برف چہرے پر درد کی نیلی رگیں ابھر آئی تھیں اور جھریوں نے چہرے کو فتح کرلیا تھا۔ میرا باپ بھی عمر کے اس حصے میں تھا، جہاں لوگ جھولے جیسی نیند کی خواہش لیے فقط نیند کی رسم پوری کرتے ہیں، ورنہ حقیقتیں انسان کو سونے نہیں دیتیں۔ اس عمر میں ذرا سی کسی کی بے رخی زخم بن جایا کرتی ہے۔ دونوں علم والے تھے اور علم والے ردعمل نہیں دیتے۔ خوشی ملے تو بھی خاموشی سے شکر ادا کرتے ہیں۔ دکھ کا پہاڑ بھی گر جائے تو چیخ و پکار نہیں کرتے۔ شکوہ شکایت نہیں کرتے۔ ان کے اندر ماتمی دھنیں بجتی رہتی ہیں، اسی لیے آنکھیں ویران ہو جاتی ہیں۔ اس دن بھی دونوں کی آنکھیں ویران تھیں جب میں نے ان کا حال پوچھا تو ماں بولی: ’’بیٹے! تم شہر کی بے راستہ بھیڑ میں گم ہوچکے ہو اور اللہ کسی کو انتظار کا دکھ نہ دے۔‘‘ میں نے بابا کی طرف دیکھا۔ وہ مسکرانے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے بولے: ’’تمہاری زباں سے گرے، توتلے لفظ اب بھی گاؤں کی حویلی میں پیپل کے درخت کے نیچے گرے پڑے ہیں۔ بیٹے!زہر احساس میں ہوتا ہے، ورنہ بچھو کی کیا اوقات۔‘‘ اس دن مجھے لگا میں کسی بڑے شہر کی مصروف ترین شاہ راہ کے درمیان لگا ایک تنہا، گرد آلود درخت ہوں، جس پر شور اور آلودگی کی وجہ سے کوئی پرندہ بھی اپنا آشیانہ بنانے کو تیار نہیں اور پھر میں یادوں کے جنگل میں کھوسا گیا۔ اداس خاموش، گم صم، پرانے گیتوں جیسی بھولی بسری، سیلن زدہ یادیں لیے۔

یہ اس دور کی بات ہے جب ہم گاؤں میں رہا کرتے تھے۔ برسات میں گھروں کی چھتیں ٹپکا کرتی تھیں اور گھر کے پرانے برتن کیچڑ نہیں ہونے دیا کرتے تھے۔ اس دور میں در دستکوں سے آباد اور زخمی نہیں تھے کہ دستک دینے والے بھی بہت تھے اور دستک سن کر دوڑ کر آنے والے بھی بہت۔ تب اگر کوئی مسافر سفر کرتا ہوا کسی آبادی میں پہنچتا اور رات قیام کے لیے جو بھی در کھٹکھٹاتا، اس گھر کا باسی اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے اسے مہمان بنا لیا کرتا اور اللہ کی رحمت سمجھ کر خوب خاطر مدارات اور مہمان نوازی کرتا۔ اسی لیے لوگوں کی عمریں لمبی تھیں کہ جتنا وقت آپ مہمان نوازی میں صرف کرے ہیں زندگی کا اتنا وقت بڑھا دیا جاتا ہے۔ تب لوگوں کی ضروریات اور خواہشات کے ہوا کرتی تھیں۔ بابا کہتے تھے: ’’پہلے کے لوگ زندگی کو انعام سمجھ کر شکر گزاری سے بسر کرتے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ یہ کائنات عشق کی نسبت سے ملی ہے، اسی لیے تو زندگی کے ساز میں سوز بہت تھا۔‘‘ پھر ایک دن میں نے گاؤں چھوڑ کر شہر جانے کی ضد شروع کردی۔ ماں کی آنکھوں میں برسات برسنے لگی۔ بابا نے پوچھا: بیٹے! شہر جاکر کیا کریں گے؟ میں نے بھی پڑھائی کے دوران کچھ عرصہ شہر میں گزارا ہے، مجھے وہ مصنوعی زندگی پسند نہیں۔‘‘ مگر جب میں نے زیادہ ضد کی تو بولے: ’’دیکھو اطاعت میں جو راحت ہے، وہ فتح میں بھی نہیں، شہروں میں ہر شخص نے انا کی دستار پہنی ہے اور وہ دوسروں کے جھکنے کا انتظار کر رہا ہے۔ وجود کے تال پر اتنا ہی رقص کرو، جس سے پاؤں کے گھنگھرو نہ ٹوٹیں۔ شہر کے لوگ سومنات مزاج ہیں۔ وہاں لوگ کیکر اگاتے اور فاختہ کے بیٹھنے کی خواہش کرتے ہیں۔ نفسا نفسی کا عالم ہے اور شناسا بھی اجنبیت پہن کر پھرتا ہے۔‘‘ پھر میں کئی دن تک سوچتا رہا۔ میرے ساتھ بھی عجیب المیہ ہے کہ دیر تلک سوچوں، تو میرے سامنے بھورے رنگ کا وہ کتا آجاتا ہے، جو اپنی دم پکڑنے کی ناکام کوشش میں گھومتا اور بھونکتا رہتا تھا۔ جب والدین شہر آنے کے لیے راضی نہ ہوئے تو میں ان سے روٹھ کر شہر آگیا۔ یہاں آکر جائز و ناجائز ذرائع سے دولت اکٹھی کی۔ ایک بہت بڑا گھر تعمیر کروایا، جس کی تعمیر میں دنیا جہاں کی نادر و نایاب اشیا استعمال کیں۔ کچھ برسوں بعد والدین نے زمین مزارعوں کے حوالے کی اور فقط میری خاطر میرے گھر کے ساتھ تیسرے مکان میں منتقل ہوگئے۔ میں ہر مہینے کچھ دیر کے لیے ان سے ملنے ضرور جاتا تھا۔ اگرچہ میری بیوی کو ان سے میرا ملنا پسند نہیں تھا، مگر میرے بچے دادا، دادی کے دیوانے تھے۔ میرے پاس زندگی کی ہر نعمت موجود تھی، مگر اندر ایک عجیب سی بے چینی محسوس ہوتی۔

وقت گزرتا رہا مجھے میرا گھر برا لگنے لگا۔ ہر چیز سے نفرت ہونے لگی۔ دل بے چین تھا اور عجیب طرح کی بے سکونی تھی۔ کبھی مجھے لگتا، مرکز بدل گیا ہے، مگر محور وہی ہے۔ کبھی لگتا محور بدل گیا ہے، مگر مرکز وہی ہے۔ کبھی کبھی مجھے لگتا میں ہجر اور وصال کے درمیان کا ایک لمحہ ہوں۔ پھر مجھے اس کا سنی بیل کے چھوٹے چھوٹے پھول یاد آتے جو سرسبز شبنم کے ساتھ لپٹی ہوئی تھی اور پھر مجھے وہی کتا یاد آجاتا، جو اپنی دم پکڑنے کی ناکام کوشش میں بھونکتا، گھومتا رہتا تھا۔ پھر میں کچھ دنوں کے لیے گاؤں چلا گیا۔ مگر گاؤں میں ہماری حویلی خالی تھی اور مکان، مکینوں کے بغیر قبرستان ہوتا ہے۔ سو میں واپس شہر لوٹ آیا۔

اس شام خلاف توقع عجیب بات ہوئی۔ میری بیوی جو میری اس حالت پر پریشان تھی، میرے پاس آئی اور بولی: ’’مجھے لگتا ہے کہ ہم امی، ابو سے زیادتی کر رہے ہیں۔ ان کی خدمت اور دیکھ بھال ہمارا حق بنتا ہے۔ ہمارے بچے بھی دادا، دادی کو بہت یاد کرتے ہیں۔ مجھے ان کے پاس لے چلو، میں ان سے معافی مانگ کر درخواست کرنا چاہتی ہوں کہ وہ ہمارے پاس رہیں۔ ہم دونوں بچوں سمیت والدین سے ملنے ان کے گھر پہنچے۔ میں نے ماں کے پاؤں چھوئے اور ان سے معافی کی درخواست کی۔ ماں رونے لگی۔ اس کی سسکیاں ہی ختم نہیں ہو رہی تھیں۔ پھر بولی: ’’میں تمہیں صرف اس شرط پر معاف کرسکتی ہوں کہ جب تمہارا باپ تمہیں معاف کردے۔‘‘ میں بابا کے پاؤں سے لپٹ گیا اور روتے سسکتے ہوئے بولا: ’’بابا! مجھے معاف کردو‘‘ بابا کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ انھوں نے مجھے اٹھا کر گلے لگالیا اور بولے: بیٹا! جب میں کاشت کاری کرتا تھا تو مصنوعی کھاد اور کیڑے مار دوائیوں کا بے جا استعمال کر کے منافع کے لالچ میں قوم کی صحت کے ساتھ کھیلتا تھا، اسی لیے تم نافرمان تھے۔ پھر میں نے زمینوں پر قدرتی طریقے سے کاشت کی اور اس کی مخلوق کی صحت کا خیال کیا ۔ تم میں کچھ تبدیلی آئی، مگر پھر بھی کچھ فاصلہ رہا۔ پھر مجھے یاد آیا کہ میں اپنی گاڑی گلی میں کھڑی کرتا ہوں، جس سے لوگوں کو گزرنے میں تکلیف ہوتی ہے اور یہ مخلوق، رب تعالیٰ کا کنبہ ہے جو اس کو ناراض کرے گا وہ خود خوش کیسے رہے گا۔ سو، آج میں نے گاڑی گیراج میں کھڑی کر دی اور آج ہی تم میرے پاس چلے آئے۔ بیٹے! یہ جو دنیا ہے ناں، کتے کی دم کی طرح ہے، اس کو پکڑنے کی خواہش اور کوشش میں صرف چیخ و پکار اور تھکن ہی ہے۔ یہ دم کسی بھی دنیا دار سے پکڑی نہیں جاسکے گی۔ بس، میری ایک نصیحت ہے، رحمت للعالمین کی سنت پر عمل کرتے ہوئے، اس کی مخلوق کے لیے رحمت بن جاؤ۔‘‘

والدین کے میرے گھر شفٹ ہوتے ہی میرے دل کو سکون جیسی بے پایاں دولت مل گئی۔ اب یاد کے گلشن میں صرف شبنم سے لپٹی، سفید پھولوں والی کاسنی بیل رہ گئی ہے کہ اند رکے نفس کا کتا تو اپنی دم پکڑنے سے تائب ہوچکا۔

میں اپنی اس تحریر کو عنوان دینے سے قاصر ہوں۔ میرے دل کی کیفیت اور آپ بیتی جو ٹھہری تو کیا آپ میری اس آپ بیتی کو کوئی عنوان دے سکتے ہیں؟ میں قارئین کے پاؤں پکڑ کر درخواست کرتا ہوں کہ اسے کوئی عنوان ضرور دیں مگر وہ ’’آپ بیتی نہ ہو۔‘‘lll

شیئر کیجیے
Default image
شکیل انور

Leave a Reply