بڑھاپا اور ورزش

بڑھاپا اور ورزش

امریکی ماہرین نے بڑھاپے میں ورزش کو دماغی صحت کے لئے بہترین سرگرمی قرار دے دیا ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق آسٹریلیا کے شہر کینبرا میں یونیورسٹی آف کینبرا کے شعبہ طب کے ماہرین نے بڑھاپے میں ورزش اور دماغی صحت کے تعلق کو جاننے کے لئے 39تحقیقات کا جائزہ لیا ہے جس سے یہ نتیجہ اخذ ہوا ہے کہ بڑھاپے میں معمول سے ورزش کرنے والوں کا دماغ صحت مند اور چاک چوبند رہتا ہے اور ان کی یاداشت کی صلاحیت بھی ان کے ہم عمروں کی نسبت بہتر رہتی ہے اس کی اہم وجہ یہ ہے کہ ورزش کرنے سے دماغ میں آکسیجن اور خون کی سپلائی کا نظام بہتر ہوتا ہے اور نئے نیورون کی افزائش ہوتی ہے۔

50 سال سے زائد عمر کے افراد کو ورزش کی قسم ٹائی چی کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے اس سے جسم اور دماغ دونوں کی صحت بہتر رہتی ہے، مہلک امراض جیسے امراض قلب،سرطان اور ذیابطیس اور دیگر سے بھی تحفظ فراہم ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق بالغ عمر کے افراد کو ہفتہ میں کم از کم تین گھنٹے ورزش ضرور کرنی چاہئیے تاکہ صحت مند اور فعال زندگی کے حصول کو ممکن بنا سکیں۔

امریکی ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ورزش بیماریوں سے بچاؤ کے ساتھ ساتھ بصارت کے لیے بھی بہترین ہے اور صبح کے اوقات میں ہلکی ورزش بصری قشر (وزول کورٹیکس) پر اچھا اثر ڈالتی ہے اوریہ وہ جگہ ہے جو ہمیں کسی منظر دیکھنے کے قابل بناتی ہے۔

کیلی فورنیا یونیورسٹی کے شعبہ صحت کے ماہرین کی جانب سے چوہوں اور دیگر جانوروں پر کیے گئے تجربات سے ثابت ہوا ہے کہ جسمانی سرگرمی کے دوران ان کے دماغ کے بصری حصے میں نیورونز پہنچنے کا سلسلہ (نیورون فائرنگ) بڑھ جاتا ہے جو نظر کو بہتر بناتا ہے اور اسے برقرار رکھتی ہے۔ اس کے بعد ماہرین نے ایک تجربہ وضع کیا جس میں انسانی رویوں اور نیورل امیجنگ کے درمیان تعلق کو نوٹ کیا گیا۔ اس میں دیکھا گیا کہ جسمانی ورزش سے سے انسانی بصارت سے وابستہ دماغی افعال پر کیا اثر پڑتا ہے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
عائشہ نوید

Leave a Reply