خطبۂ حجۃ الوداع کی اہمیت اور تقاضے

ماہ  قعدہ سن ۱۰ ہجری میں حضور پرنور ؐ نے حج کا اعلان فرمایا۔ یہ حج آپؐ کا آخری تھا اس لیے تاریخ میں حجۃ الوداع کہا جاتا ہے۔ حج سے فارغ ہوکر آپؐ نے ایک تاریخی اور یادگار خطبہ دیا۔ حج کی مناسبت سے اسے خطبہ حجۃ الوداع کہا جاتا ہے۔ اس حج میں ایک لاکھ سے زائد افراد نے شرکت کی۔ ۲۶ ذی قعدہ کو حضور پرنور صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل فرمایا اور نماز ظہر کے بعد مدینہ سے روانہ ہوئے۔ ۹ دن کے سفر کے بعد آپؐ اتوار کے روز چار ذو الحجہ کو مکہ میں داخل ہوئے جب کعبہ نظر آیا تو فرمایا: اے خدا اس گھر کو اور زیادہ عزت اور شرف عطا کر۔‘‘کعبہ کا طواف کیا پھر صفا و مردہ کے درمیان سعی کی۔ آٹھویں ذو الحجہ کو تمام مسلمانوں کے ہمراہ منی میں قیام فرمایا۔ اگلے دن وہاں سے روانہ ہوکر عرفات تشریف لے گئے اور ناقہ پر سوارہوکر وہ آخری اور مشہور ومعروف خطبہ ارشاد فرمایا جو کہ اسلامی تعلیمات کا خلاصہ ہے۔ یہ وہ دن تھا جب اسلام اپنے پورے جاہ و جلال کے ساتھ نمودار ہوا اور جاہلیت کی تمام رسومات مٹا دی گئیں۔

آپؐ نے فرمایا:جاہلیت کے تمام دستور و رسومات میرے قدموں کے نیچے ہیں۔ لوگو! یقینا تمہارا اللہ ایک ہے۔ تمہارا باپ بھی ایک ہے۔ عربی کو عجمی پر فضیلت ہے نہ عجمی کو عربی پر، نہ گورے کو سیاہ پر فضیلت حاصل ہے۔ فضیلت کا مدار تقویٰ پر ہے۔ سب مسلمان بھائی بھائی ہیں۔ غلاموں سے برابر کا سلوک کرو جو خود کھاؤ خود پہنو ان کو بھی کھلاؤ اور پہناؤ۔ جاہلیت کے تمام خون معاف کردیے گئے سب سے پہلے میں ربیعہ ابن حارث کا خون معاف کرتا ہوں۔ دورِجاہلیت کے تمام سود باطل کردیے گئے، سب سے پہلے میں عباس بن عبد المطلب کا سود باطل کرتا ہوں۔

اے لوگو! عورتوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرتے رہو۔ تمہارا عورتوں پر حق ہے اور عورتوں کا تم پر۔ ان سے نرمی کا سلوک کرو اور مہربانی سے پیش آؤ۔ جس طرح تم اس مہینے، اس دن اور اس جگہ کی عزت کرتے ہو، اسی طرح تمہارا خون اور تمہارا مال ایک دوسرے پر حرام ہیں۔ کوئی چیز جو ایک بھائی کی ملکیت ہے دوسرے کے لیے حلال نہیں جب تک کہ وہ خود اپنی خوشی سے نہ دے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ میں تم میں ایک چیز چھوڑ کر جا رہا ہوں، اگر تم نے اسے مضبوطی سے تھام لیا تو گمراہ نہ ہوگے اور وہ چیز کتاب اللہ ہے۔ لوگو! اگر کوئی حبشی غلام بھی تمہارا حاکم ہو اور وہ تمہیں خدا کی کتاب کے مطابق چلائے تو اس کی فرماں برداری کرو۔ اپنے رب کی عبادت کرو۔ نمازیں پڑھو، روزے رکھو۔ میرے احکام کی پیروی کرو جنت میں داخل ہوجاؤگے۔

آپؐ نے فرمایا: عمل میں اخلاص مسلمانوں کی خیر خواہی اور جماعت میں اتحاد ایسی چیزیں ہیں جو سینہ کو پاک رکھتی ہیں۔ تمہارے لیے ضروری ہے کہ میری یہ باتیں ان لوگوں تک پہنچادو جو یہاں موجود نہیں، ممکن ہے وہ ان لوگوں سے زیادہ بہتر طور پر ان کو محفوظ رکھنے والے ہوں جو یہاں اپنے کانوں سے سنتے ہیں۔

یہ خطبہ ارشاد فرمانے کے بعد آپؐ نے حاضرین سے پوچھا: قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تم سے میرے متعلق دریافت فرمائے گا تو تم کیا جواب دوگے؟‘‘ سب نے عرض کیا کہ ہم جواب دیں گے:

’’آپؐ نے اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دیا اور اپنا فرض ادا کر دیا۔‘‘ یہ سن کر آپؐ نے آسمان کی طرف دیکھا اور ہاتھ اٹھا کر تین مرتبہ فرمایا: ’’اے اللہ تو گواہ رہنا۔‘‘ خطبہ کے بعد وحی نازل ہوئی، جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا:

’’آج میں نے تمہارے دین کو کامل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کردی اور تمہارے لیے دین اسلام کو پسند کرلیا۔‘‘ (المائدۃ)

اس کے بعد نزول وحی کا سلسلہ ختم ہوگیا۔ کیوں کہ آپؐ کی بعثت کا مقصد پور اہوچکا تھا (صحاح ستہ نیز سیرت ابن ہشام و تاریخ طبری)

خطبہ سے فارغ ہونے کے بعد ظہر کی نماز اور عصر کی نماز ایک ساتھ ادا کی پھر قبلہ رو کھڑے ہوکر دیر تک دعا میں مصروف رہے۔ غروب آفتاب کے بعد مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نماز ادا فرمائی۔ رات بھر آرام فرما کر نماز فجر کے بعد طلوع آفتاب سے پہلے مکہ کی طرف روانہ ہوئے ، راستے میں لوگ حج کے مسائل دریافت کرتے تھے اور آپؐ فرماتے: ’’حج کے مسائل سیکھ لو شاید اسی کے بعد مجھے دوسرے حج کی نوبت نہ آئے۔‘‘ (صحیح مسلم)

حضرت ابراہیم علیہ السلام کے طریقہ حج میں عربوں نے اپنے اعتراض کی بنا پر بہت سی ترامیم کرلی تھیں۔ حج کے مہینے میں خونریزی حرام ہے۔ اس لیے عرب جنگ کا جواز پہیدا کرنے کے لیے مہینوں میں تبدیلی کر دیتے تھے۔ اب حج بھی اپنی اصلی شکل میں نمودار ہو رہا تھا، اس لیے آپؐ نے اعلان فرمایا سال کے بارہ مہینے ہیں جن میں چار مہینے قابل احترام ہیں تین متواتر ذی قعدہ، ذو الحجہ اور محرم اور چوتھا رجب۔‘‘

دنیا میں عدل و انصاف اور امن او امان کا انحصار تین چیزوں پر ہے۔ جان مال اور آبرو کی حفاظت۔ آپؐ نے نہایت بلیغ الفاظ میں ان کی تاکید فرمائی۔ ہادیِ اکبر ﷺ نے عربوں کو مخاطب کر کے فرمایا: کچھ معلوم ہے کہ آج کون سا دن ہے؟

لوگوں نے عرض کیا، خدا اور اس کا رسول بہتر جانتا ہے۔ آپؐ کچھ دیر خاموش رہے پھر فرمایا: کیا آج قربانی کا دن نہیں ہے؟ لوگوں نے کہا ہاں، بے شک، پھر فرمایا یہ کون سا مہینہ ہے؟ لوگوں نے پھر اسی طریقہ سے جواب دیا۔ آپؐ نے کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد فرمایا: کیا یہ ذو الحجہ نہیں ہے؟ لوگوں نے کہا بے شک۔ پھر پوچھا: یہ کون سا شہر ہے؟ لوگوںنے وہی جواب دیا۔ آپﷺ نے خاموشی کے بعد فرمایا: کیا یہ بلد الحرام نہیں ہے؟ لوگوں نے عرض کیا بے شک۔

جب لوگوں کے دلوں میں یہ خیال پوری طرح جاگزیں ہوگیا کہ آج کا دن، مہینہ اور شہر سب قابل احترام ہیں یعنی اس دن اس مقام پرجنگ و خونریزی جائز نہیں ہے تو ارشاد فرمایا:

تمہارا خون تمہاری آبرو تاقیامت اسی طرح محترم ہے جس طرح یہ دن اس مہینہ میں اور اس شہر میں محترم ہے۔

خطبہ الوداع میں حضور پرنور ؐ نے جن سیاسی سماجی اور اخلاقی تصورات کا نقشہ پیش کیا آئیے اس کا جائزہ لیتے ہیں:

دور جاہلیت کا پرانا نظام چکنا چور ہوچکا تھا۔ زمانہ جاہلیت کے وحشیانہ قوانین اور رسوم منسوخ ہوگئے۔ عرب تمدنی کے لحاظ سے دوسری قوموں سے پست تھے، جان و مال کی کوئی قیمت اور قدر نہ تھی۔ لوٹ مار روزی کا ذریعہ تھی۔ معمولی باتوں پر قتل و غارت کا بازار گرم ہو جاتا۔ آپؐ نے آخری خطبہ میں لوگوں کو صلح و آشتی سے رہنے کا پیغام دیا۔ قتل و غارت گری کو حرام قرار دیتے ہوئے فرمایا جس طرح تم اس مہینے، اس سال اور اس شہر کی عزت کرتے ہو اسی طرح تمہاری جان تمہاری مال اور تمہاری آبرو ایک دوسرے کے نزدیک قابل احترام ہیں۔ آپ نے صلح و آشتی سے رہنے کا حکم دیا اور تمام مسلمانوں کو ایک دوسرے کا بھائی قرار دیتے ہوئے غم اورخوشی میں شریک ہونے پر زور دیا۔

دور جاہلیت میں کئی بے ہودہ قوانین اور رسومات رائج تھیں جن کا آپؐ نے خاتمہ کر دیا۔ ریاست یا مرکزی حکومت کی غیر موجودگی میں ’’خون کا بدلہ خون‘‘ کی وجہ سے لاقانونیت اور وحشیانہ پن کا سلسلہ مدتوں تک چلتا تھا۔

زمانہ جاہلیت کے تمام خون و انتقام باطل کیے جاتے ہیں اور سب سے پہلے میں اپنے خاندان اک خون باطل کرتا ہوں۔ یہ فیصلہ عربوں کے سیاسی ارتقاء کی طرف ایک قدم تھا جس کے سبب عرب کی سرزمین ہمیشہ آپؐ کی ممنون رہے گی۔

زمانہ جاہلیت میں سود بھی ایک قبیح رسم تھی۔ یہ رسم یہودی عرب لائے تھے اور آہستہ آہستہ سارے عرب میں یہ مرض پھیل گیا تھا۔ انھوں نے سود کی بھاری بھاری رقمیں اور شرطیں مقرر کیں اور غریب لوگ ہمیشہ کے لیے ان کے غلام بن کر رہ گئے، یہاں تک کہ مدینہ کے یہودی،انصار اور دیگر قبائل کی عورتیں اور بچے رہن رکھ لیتے۔ آپ نے اس ظالمانہ کاروبار کا خاتمہ کرتے ہوئے فرمایا کہ سب سے پہلے میں اپنے خاندان کے عباس بن عبد المطلب کی سود کی رقمیں چھوڑتا ہوں۔ آپؐ نے اپنے خاندان سے ابتدا فرما کر عملی نمونہ پیش کر دیا۔

عورت ایک مظلوم طبقہ تھا۔ اسلام سے پہلے عورت کی حیثیت ایک غلام سے کسی قدر بہتر نہ تھی اور وہ اپنے خاوند کی ملکیت سمجھی جاتی تھی اور باپ کے مرنے کے بعد بیٹا اپنی ماں کے سوا باقی تمام سوتیلی ماؤں کا مالک بن جاتا۔ آپ نے واضح طور پر فرمایا کہ عورتوں کے حقوق مردوں کے حقوق کے برابر ہیں۔ دنیا کی تاریخ میں عورت کو پہلی مرتبہ مرد کے مساوی حقوق ملے۔

عورتوں کی طرح غلاموں کی حیثیت بھی معاشرہ میں ناگفتہ بہ تھی۔ انسانیت سا سلوک ان کے ساتھ نہیں کیا جاتا تھا۔ آپ نے فرمایا کہ غلام بھی اللہ کی مخلوق ہیں اور آدم علیہ السلام کے بیٹے ہیں، دیگر انسانوں کی طرح ان کے بھی احساسات ہیں ان کے ساتھ برابر کا سلوک کرنا چاہیے۔ آپ نے مسلمانوں کو تاکید کردی کہ جو خود کھاؤ وہی ان کو کھلاؤ اور جو خود پہنو وہی ان کو پہناؤ۔ آج تمام امتیازات اور تمام حد بندیاں ٹوٹ گئیں۔ زید بن حارثؓ اور اسامہ بن زیدؓ کو امیر لشکر بنا کر آپؐ نے عملی ثبوت دیا اور بعض لوگوں نے اعتراض کیا تو آپؐ نے سختی کے ساتھ اس کو رد کر دیا۔

دنیا میں آج تمام فسادات کی اصلی بنیاد نسلی و جغرافیائی امتیازات ہیں۔ ظہور اسلام کے وقت اور آج بھی خاص طور پر سفید سامراج برطانیہ اور امریکہ میں ان دنوں جو فسادات ہو رہے ہیں، ان کے علاوہ جنوبی افریقہ کی مثال بھی ہمارے سامنے ہے۔ اس کی وجہ نسلی امتیاز ہے۔ حبشیوں کو انسان سمجھا ہی نہیں جا رہا ہے اور گورے سمجھتے ہیں کہ تمام انسانیت کے حقوق کا ٹھیکہ انہیں کے پاس ہے۔ اسلام نے آکر ان تمام قیود کا صفایا کر دیا۔ آپ نے فرمایا کہ اللہ کے نزدیک تمام انسان برابر ہیں عجمی کو عربی پر اور عربی کو عجمی پر کوئی فوقیت نہیں ہے۔ ہاں مگر نیکی اور تقویٰ کے سبب جو خدا سے زیادہ ڈرتے ہیں وہی زیادہ معزز ہوں گے اگر آج دنیا اس بات پر عمل کرنے لگے تو اس کے سارے دکھڑے ختم ہوجائیں گے۔

کوئی تحریک خواہ وہ سیاسی ہو یا مذہبی بغیر امیر کی اطاعت اور لیڈر کی فرماں برداری کے نہیں چل سکتی۔ آپ نے امت کو متحد رکھنے کے لیے اور نظم و نسق برقرار رکھنے کے لیے مسلمانوں کو اطاعت امیر کا سبق دیا۔ یہاں تک کہ آپؐ نے ہدایت کردی کہ اگر کوئی ناک کٹا حبشی بھی تم پر امیر مقرر ہوجائے اور وہ تمہیں احکام کتاب و سنت کی ترغیب دے تو اس کی اطاعت کرو۔

کسی بھی قوم کا ارتقا اور ترقی اس کے اتحاد اور اتفاق میں مضمر ہے۔ وہ قوم خاندان یا قیبلہ حتی کہ چند افراد بھی بغیر اس دولت کے کبھی بھی مال دار نہیں ہوسکتے۔ قوم کیلیے اس عنصر کا ہونا لازمی ہے۔ اس لیے آپؐ نے واشگاف الفاظ میں امت کو اتحاد و اتفاق کا سبق دیا اور مسلمانوں کو خانہ جنگی سے منع فرمایا کیوں کہ تفرقہ بازی قوموں کو گھن کی طرح کھا جاتی ہے۔ آپؐ نے فرمایا ہاں میرے بعد گمراہ نہ ہوجانا کہ خود ایک دوسرے کی گردن مارنے لگو۔ تم کو خدا کے سامنے حاضر ہونا پڑے گا اورتم سے تمہارے اعمال کی بازپرس ہوگی۔

جس معاشرے میں اخلاقی اور سماجی برائیاں موجود ہوں، وہ خواہ کتنا ہی دولت مند اور بااثر ہو، اندر سے کھوکھلا ہوتا ہے اس میں پائیداری نہیں ہوتی کیوں کہ معاشرتی اصول ناپید ہوتے ہیں۔ آج کل کے مغربی معاشرے اور سوسائٹی میں اخلاقی اقدار کو بالائے طاق رکھ دیا گیا ہے اور معاشرتی و سماجی اصول جو روندے جا رہے ہیں، اس کی وجہ سے اس قوم کا اخلاق بہت بگڑ چکا ہے۔ اسلام نے چند بنیادی اصول مقرر کردیے ہیں جن کے اندر رہ کر معاشرہ ترقی پذیر ہوسکتا ہے۔ ان سے باہر نکل کر چلنا اخلاق وانسانیت کی موت کے مترادف ہے۔ آپؐ نے فرمایا لڑکا اس کا ہے جس کے بستر پر پیدا ہو، زنا کار کے لیے پتھر ہے۔ جو لڑکا اپنے باپ کے علاوہ کسی اور سے نسبت کرے اس پر خدا، رسول اور فرشتوں کی لعنت ہو۔فرض ادا کیا جائے، عاریت واپس کی جائے، عطیہ لوٹایا جائے، ضامن تاوان کا ذمہ دار ہے۔ دیکھئے اور سوچئے معاشرہ کی تمام خرابیوں اور برائیوں کا حل ہے کہ نہیں۔

اسلام سے پہلے دنیا میں بڑے بڑے مذاہب پیدا ہوئے لیکن ان کی بنیادی صاحب شریعت کے تحریری اصولوں پر نہ تھی۔ ان کو خدا کی طرف سے جو ہدایات ملی تھیں، بندوں کی ہوس پرستیوں نے ان کی حقیقت گم کر دی تھی۔ مگر اب پیغمبر اسلام اپنے بعد خدا تعالیٰ کے تمام احکامات کا مجموعہ اپنی امت کے سپرد کرتے ہوئے یوں ارشاد فرماتے ہیں کہ میں تم میں ایک چیز چھوڑے جا رہا ہوں، اگر تم نے اس کو مضبوطی سے پکڑ لیا تو کبھی گمراہ نہ ہوگے۔ چیز کیا ہے؟ کتاب اللہ۔

اس کے بعد فرمایا: مذہب میں غلو اورمبالغہ نہ کرنا کیوں کہ تم سے پہلی قومیں اسی سبب سے تباہ ہوئیں۔ حج کے مسائل سیکھ لو، اپنے پروردگار کی عبادت کرو، پانچ وقت نماز پڑھو، رمضان کے روزے رکھو، زکوٰۃ ادا کرو، میرے احکام کی اطاعت کرو۔خدا کی جنت میں داخل ہوجاؤگے۔ واقعی اللہ نے دین کو مکمل کر دیا ور اپنی نعمت تمام کردی، اور مذہب اسلام کو ہمارے لیے پسند فرمایا۔

اب ذراموجودہ زمانہ اور حالات پر نظر ڈالیے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ حضور پاک نے اپنی امت کو اس موقع پر جو ہدایات دی تھیں پوری امت کس طرح ان ہدایات کو پامال کر رہی ہے۔ مسلمانوں کے باہمی جھگڑوں، قتل و غارت گری اور سیاسی چپقلش نے امت کو کہاں لاکھڑاکیا ہے اس کے بیان کی ضرورت نہیں۔

آج ہم بھی ان ہدایات پر عمل کرنے اور ان کو اپنی عملی زندگی نافذ کرنے کے زیادہ ضرورت مند ہیں کیوں کہ انہی ہدایات پر عمل کی برکت سے ہمارے مسائل حل ہوسکتے ہیں۔ آئیے اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگیوں میں ان ہدایات کو نافذ کرنے کاعہد کریں جورسول پاکؐ نے حجہ الوداع کے موقع پر امت کو دی تھیں۔lll

شیئر کیجیے
Default image
راؤ محمد اسلم

Leave a Reply