سیدہ زینبؓ بنت محمد ﷺ

سیدہ زینتؓ آج نہایت مضطرب ہیں، ان کے شوہر ابو العاص مدینے میں قید ہیں۔ سیدہ زینب کے لاکھ سمجھانے اور منع کرنے کے باوجود ابو العاص اپنی تجارتی اور خاندانی مصلحتوں کی بنا پر بادل نخواستہ مشرکین مکہ کے ہم راہ غزوہ بدر میں شریک ہوئے۔ اس جنگ میں اللہ نے مسلمانوں کو شاندار فتح نصیب فرمائی۔ ابو جہل سمیت کفار کے ۷۰ سرکردہ سردار اور جنگجو مارے گئے، جب کہ اتنے ہی قید کرلیے گئے۔ ان قیدیوں میں ابو العاص بھی تھے، جنہیں ایک صحابی، عبد اللہ بن جبیر انصاریؓ نے گرفتار کیا۔ دیگر قیدیوں کے ساتھ یہ بھی بارگاہِ رسالت مین پیش ہوئے۔ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابیوں کے مشورے سے فیصلہ کیا کہ جو قیدی زر فدیہ ادا کرے گا، اسے رہا کر دیا جائے گا۔ ابو العاص خالی ہاتھ تھے، انھوں نے یہ پیغام مکے میں موجود اپنی اہلیہ، سیدہ زینب کو بھجوایا۔ سیدہ کو اس بات کا اندازہ تھا کہ والد محترم ان کے ساتھ وہی سلوک کریں گے جو دیگر قدیوں کے ساتھ روا رکھا جائے گا، لہٰذا اگر شوہر کی رہائی مطلوب ہے تو زر فدیہ کا بندوبست کرنا ہوگا۔ اس وقت گھر میں کچھ بھی نہ تھا اور سیدہ زینب کے مسلمان ہونے کی وجہ سے مشرک عزیز رشتے دار بھی خوش نہ تھے۔ وفا شعار بیوی فدیے کی رقم کے بارے میں سوچ بچار اور فکر میں مبتلا تھیں اور کسی غیبی مدد کے لیے اللہ سے دعا گو تھیں کہ اچانک ذہن کے کسی گوشے سے اماں کا وہ قیمتی ہار یاد آگیا، جو انھوں نے رخصتی کے وقت اپنے محترم ہاتھوں سے پہناتے ہوئے بڑے پیار سے کہا تھا کہ ’’بیٹی، میرا یہ ہار تمہیں ہمیشہ ماں کی یاد دلاتا رہے گا۔‘‘ لاشعور میں منقش ان سنہری یادوں نے دکھی بیٹی کے ضبط کے سارے بندھن توڑ دیے۔ نم پلکوں میں چھپے سفید موتی چھلک پڑے اور پھر آنکھوں سے امڈنے والے آنسوؤں نے سیلاب کی صورت اختیار کرلی۔ اماں کی یاد نے بے قرار کر دیا۔ ہار کو ہاتھ میں پکڑا تو یوں لگا جیسے ہار کے سفید موتیوں کے درمیان اماں مسکراتے ہوئے اپنے مخصوص انداز میں کہہ رہی ہیں کہ ’’بیٹی تو کیوں فکر کرتی ہے، میں ہوں نا…‘‘ اور پھر سیدہ کو یاد آیا کہ جب بابا اپنوں اور پرایوں کی دشمنی اور دشنام سے پریشان اور غمگین گھر آیا کرتے تھے تو اماں، بابا سے محبت بھرے لہجے میں کہتی تھیں: ’’آپؐ کیوں پریشان ہوتے ہیں، میں آپ کے ساتھ ہوں ناں…‘‘ بے اختیار ہار کو چوم کر آنکھوں سے لگایا، تو خاموشی سے آنسوؤں کے شبنمی قطرے ہار کی لڑیوں میں جذب ہوگئے … اور … آج ماں کی یادگار یہ ہار ہی شوہر کی رہائی کے کام آرہا ہے۔ ’’بیٹیوں کو ماؤں کی جانب سے دیے گئے تحفے خواہ وہ دعاؤں کی صورت ہوں یا مال و زر کی، کبھی نہ کبھی کسی نہ کسی آڑے وقت میں کام آہی جاتے ہیں۔‘‘ اور پھر … نم دیدہ نگاہوں اور لرزتے ہاتھوں سے ماں کے پیار کی نشانی مدینہ روانہ کرتے ہوئے درد کی ایک لہر دل کے کسی گوشے سے اٹھی اور یوں لگا، جیسے بابا کے لیے لازوال قربانیاں دینے والی ماں ایک بار پھر ہار کی صورت بیٹی کا سہاگ بچانے بابا کے پاس جا رہی ہے… اور پھر عظیم المرتبت والدین کی سعادت مند بیٹی نے ماں کو آنسوؤں سے خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے نظریں جھکالیں۔

عمر بن الربیع اپنے بھائی ابو العاص کا زر فدیہ لے کر بارگاہِ نبویؐ میں حاضر ہوئے ’’اے اللہ کے رسولؐ! میری بھابھی زینب بنت محمدؐ نے اپنے شوہر کی رہائی کے لیے زر فدیہ بھیجا ہے، قبول فرمائیے، صحابہ نے زر فدیہ حضور اکرمؐ کی خدمت میں پیش کیا۔ آپ کی نظر جب اس بیش قیمت ہار پر پڑی، تو بے اختیار اپنی جاں نثار زوجہ خدیجہؓ یاد آگئیں۔ نبی مکرمؐ سے نکاح کے وقت یہ ہار ان کے گلے میں تھا۔ان سب یادوں نے آپؐ پر رقت طاری کردی۔ صحابہؓ سے فرمایا کہ ’’اگر مناسب سمجھو تو بیٹی کو ماں کی یادگار واپس کردو۔‘‘ صحابہؓ نے سر تسلیم خم کرتے ہوئے نہ صرف ہار واپس کردیا، بلکہ ابو العاص کو بھی رہا کر دیا۔ رہائی کے بعد ابو العاص حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپﷺ نے فرمایا: ’’ابو العاص! جب تم مکہ پہنچو، توہماری بیٹی کومدینہ روانہ کر دینا۔‘‘ ابو العاص نہایت سمجھ دار، معاملہ فہم اور شریف النفس انسان تھے۔ انھوں نے اپنے وعدے کا پاس کرتے ہوئے اپنے چھوٹے بھائی کنانہ بن الربیع کے ساتھ سیدہ زینبؓ اور دونوں بچوں علی اور امامہ کو مدینہ روانہ کر دیا۔ کنانہ کو اہل قریش کی جانب سے خطرے کا احساس تھا، لہٰذا انھوں نے ہتھیار اپنے ساتھ رکھ لیے تھے۔ قریش مکہ کو جیسے ہی صاحب زادیِ رسولؐ کی مدینہ ہجرت کی اطلاع ملی، انھوں نے ہبار بن اسود کے ہم راہ نوجوانوں کا ایک گروہ تعاقب میں روانہ کر دیا، جس نے اس مختصر سے قافلے کو ’’وادیِ طویٰ‘‘ کے مقام پر جالیا۔ ہبار بن اسود نے سیدہ زینب کی اونٹنی کو تیر مارا، جس سے وہ زمین پر گر گئیں۔ اس وقت سیدہ چار ماہ کی حاملہ تھیں، گرنے سے ان کا حمل ضائع ہوگیا، جس کی وجہ سے وہ شدید تکلیف میں مبتلا تھیں۔ دونوں معصوم بچے بھی نیچے گرے اور اب ماں سے لپٹ کر زار و قطار رو رہے تھے۔ سیدہ کبھی اپنی تکلیف کو دیکھتیں اور کبھی زخمی اور خوف زدہ بچوں کو دلاسا دیتیں۔ سیدہ زمین پر پڑی ہوئی ہیں۔ لبوں پر والد محترم سے سنی ہوئی آیت مبارکہ کے الفاظ ہیں (ترجمہ): ’’جو لوگ اللہ کی راہ میں صعوبتیں اور مشقتیں برداشت کرتے ہیں، ہم ان کو اپنا راستہ ضرور دکھاتے ہیں۔‘‘ (العنکبوب:۲۹) کنانہ نے جب بھابھی کو زخمی حالت میں زمین پر گرے اور بچوں کو بلکتے دیکھا تو غصے سے بپھر گیا، ایک ہاتھ میں تیر اور دوسرے میں ننگی تلوار لے کر نہایت جوشیلے انداز میں بولا: ’’اب اگر کسی میں ہمت ہے تو قریب آئے۔‘‘ لوگ کنانہ کے غصے اور جلال کو دیکھ کر خوف سے پیچھے ہٹ گئے۔ قریش کے سردار ابو سفیان بھی اطلاع ملنے پر وہاںپہنچ چکے تھے۔ انہیں معاملے کی نزاکت کا احساس تھا، وہ جانتے تھے کہ اگر کنانہ کو کچھ ہوگیا تو قریش کے قبیلوں میں نہ ختم ہونے والی جنگ چھڑ جائے گی اور اگر زینب کو کچھ ہوا تو مسلمان مکے پر چڑھائی کردیں گے۔ غزوہ بدر کی شکست کا زخم ابھی تازہ ہی تھا۔ انھوں نے کنانہ کو بات کرنے کی دعوت دی۔ جب کنانہ کا غصہ ذرا ٹھنڈا ہوا تو ابو سفیان نے انہیں سمجھایا کہ ’’ابھی بدر کے میدان میں مسلمانوں اور محمدؐ کے ہاتھوں ہمیں بڑا بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے، اگر تم اس طرح اعلانیہ انہیں مدینہ لے جاؤ گے تو اسے اہل قریش کی ایک اور شکست تصور کیا جائے گا۔ لہٰذا بہتر ہے کہ تم ابھی انہیں مکہ واپس لے جاؤ اور پھر کسی وقت خاموشی سے انہیں مدینہ لے جانا۔ کنانہ کو بھابھی کے زخمی ہونے کا احساس تھا، لہٰذا واپس مکہ آگئے اور چند دن گزارنے کے بعد دوبارہ رات کے وقت انہیں مدینہ لے گئے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زید بن حارثہ کو پہلے ہی مدینہ سے روانہ کر دیا تھا، وہ بطن کے مقام پر موجود تھے۔ کنانہ نے حضرت زینب اور بچے ان کے حوالے کیے اور وہ اپنی منہ بولی بہن کو لے کر مدینہ روانہ ہوگئے۔ (زرقانی)

حضرت زینب اپنے بچوں، علی اور امامہ کے ساتھ والد محترمؐ کی سرپرستی میں زندگی گزارنے لگیں۔ حضورؐ ہر طرح سے اپنے نواسے اور نواسی کا خیال رکھتے اور ان سے بہت پیار کرتے۔ اہل سیر تحریر کرتے ہیں کہ اس سانحے کے بعد سیدہ زینبؓ مستقل بیمار رہنے لگیں، جو بعد ازاں ان کی وفات کا سبب بنا۔

٭٭

حضرت زینبؓ آں حضرتؐ کی پہلی زوجہ، ام المومنین حضرت خدیجۃ الکبریٰ کے بطن سے جنم لینے والی خاندان نبویؐ کی پہلی چشم و چراغ تھیں۔ آپ کی ولادت بعثت نبویؐ سے ۱۰ برس قبل ہوئی۔ اس وقت نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر مبارک ۳۰ برس اور حضرت خدیجہ ۴۵ برس کی تھیں۔ حضرت زینبؓ کی پیدائش پر حضور بہت خوش تھے۔ وہ اسے اللہ کا ایک انمول انعام قرار دیتے تھے۔ جب آپ گھر آتے تو حضرت زینبؓ کے ساتھ کھیلتے۔ ان کی معصوم باتوں پر خوش ہوتے اور اللہ کا شکر ادا کرتے۔ حضرت خدیجہؓ جب اپنے شوہر کا خوشی سے سرشار، چہرہ مبارک دیکھتیں تو خود بھی خوشی سے نہال ہوجاتیں۔ حضرت خدیجہؓ نے اپنی بیٹی کی تربیت نہایت عمدہ طریقے سے کی اور انہیں تمام امور نہایت مہارت سے سکھائے۔ سیدہ زینبؓ جب دس برس کی ہوئیں تو آپؓ کی خالہ ہالہ بنت خویلد نے آپ کا رشتہ اپنے بیٹے ابو العاص کے لیے مانگا۔ ابو العاص بچپن ہی سے عمدہ عادات و خصائل او رشریفانہ اخلاق کے مالک تھے۔ ان کا شمار مکے کے مشہور تاجروں میں ہوتا تھا۔ لہٰذا حضورؐ نے حضرت خدیجہؓ کے مشورے اور حضرت زینبؓ کی رضامندی سے ان کا نکاح ابو العاص بن ربیع سے کر دیا۔ حضور اکرمؐ سے انہیں بہت محبت تھی۔ ان کا بے انتہا احترام کیا کرتے تھے۔ اسی طرح سیدہ زینبؓ کے ساتھ ان کا رویہ نہایت محبت والا اور شریفانہ تھا۔ حضرت زینبؓ نے اسلام کے ابتدائی دنوں ہی میں اسلام قبول کرلیا تھا، لیکن ابو العاص نے قریش سے اپنے تجارتی اور کاروباری تعلقات کی مصلحتوں کی بنا پر اسلام قبول نہ کیا۔ نبی اکرمؐ کی دو صاحبزادیوں، حضرت رقیہؓ او رحضرت ام کلثومؓ کا نکاح حضور کے چچا ابو لہب کے دو بیٹوں سے ہوا لیکن ابھی رخصتی نہیں ہوئی تھی۔ ابو لہب نے اسلام دشمنی کی انتہا کرتے ہوئے اپنے دونوں بیٹوں کو مجبور کر کے حضورؐ کی صاحب زادیوں کو طلاق دلوادی۔ مشرکین نے ابو العاص پر بھی دباؤ ڈالا کہ وہ اپنی بیوی کو طلاق دے دیں، لیکن انھوں نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔ آں حضرتؐ نے ان کی اس بات پر تعریف کرتے ہوئے فرمایا کہ ’’ابو العاص نے بہترین دامادی کا ثبوت دیا۔‘‘ ابو العاص نے حضرت زینبؓ سے نکاح کے وقت یہ کہہ دیا تھا کہ ان کی موجودگی میں کسی دوسری عورت سے نکاح نہیں کروں گا، اسی طرح جب قید سے رہا ہوکر مدینے سے مکہ پہنچے تو حضور اکرمؐ سے کیے ہوئے وعدے کے مطابق سیدہ زینبؓ کو بچوں سمیت مدینہ روانہ کر دیا۔ نبی مکرمؐ آپ کی بڑی تعریف کیا کرتے تھے۔ آپؐ نے فرمایا: ’’ابو العاص نے مجھ سے جو بات کی اسے سچا کر دکھایا اور مجھ سے جو وعدہ کیا پورا کیا۔‘‘ (بخاری) مشرکین مکہ نے آں حضرتؐ کو جو درد ناک اذیتیں پہنچائیں، ان تمام تکالیف، مصائب و آلام میں حضرت زینبؓ سمیت آپ کی تمام صاحبزادیاں اپنے والدین کے ساتھ شریک رہیں۔ اللہ کے حکم سے حضور اکرمﷺ نے جب مکے سے مدینہ ہجرت فرمائی تو حضرت زینبؓ اپنے شوہر کے ساتھ مکے ہی میں مقیم رہیں۔ اس وقت تک مسلمان عورت کے غیر مسلم کے نکاح میں نہ رہنے کے احکامات نازل نہیں ہوئے تھے۔

…٭…

سورہ انعام میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: (ترجمہ) اور اللہ جسے ہدایت دینا چاہتا ہے، تو اس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے۔ (سورۃ الانعام، ۱۲۶) حضرت ابو العاص کے قبول اسلام کا واقعہ بھی ایسا ہی ہے۔ دو ہجری میں ابو العاص نے اپنی بیوی بچوں کو مدینہ بھیج دیا تھا۔ جمادی الاول ۶ ہجری میں وہ قریش کے ایک قافلے کے ساتھ ملک شام روانہ ہوئے۔ اس سفر میں انہیں کافی منافع ہوا۔ واپسی پر ’’عیص‘‘ کے مقام پر حضرت زید بن حارثہ کی امارت میں ۱۷۰ مجاہدین کی ایک جماعت سے ان کی مڈبھیڑ ہوگئی۔ مسلمانوں نے قافلے والوں کا تمام مال و اسباب لوٹ لیا اور کچھ کو قیدی بنا لیا۔ ابو العاص وہاں سے مدینہ آگئے، رات کو حضرت زینبؓ کے پاس پہنچ کر ان سے پناہ کی درخواست کی۔ حضرت زینبؓ کو ان کے ساتھ گزارا ہوا وقت ان کی محبت اور حسن سلوک یاد تھا وہ ان کے بچوں کے باپ بھی تو تھے، لہٰذا انھوں نے پناہ دے دی۔

آں حضورﷺ مسجد نبویؓ میں نماز فجر سے فارغ ہی ہوئے تھے کہ سیدہ زینبؓ نے با آواز بلند پکار کر کہا: ’’اے لوگو! میں نے ابو العاص کو پناہ دے دی ہے۔‘‘ حضورؐ نے آواز سن کر صحابہؓ سے فرمایا کہ ’’کیا تم لوگوں نے سنا، زینب نے کیا کہا؟‘‘ صحابہؓ نے فرمایا: ’’جی ہاں، یا رسول اللہؐ! ہم نے سنا۔‘‘ آپؐ نے فرمایا: ’’قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے، اس وقت سے پہلے مجھے بھی علم نہیں تھا۔ یہاں تک کہ میں نے بھی وہی سنا، جو تم نے سنا ہے۔ مسلمانوں کا ادنیٰ ترین شخص بھی پناہ دے سکتا ہے اور جس کو زینبؓ نے پناہ دی، اس کو ہم نے پناہ دی۔‘‘ (البیہقی) مسجد نبویؐ سے اٹھ کر آپ بیٹی کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا کہ ’’ابو العاص کے ساتھ اچھا سلوک کرو، لیکن یہ خیال رہے کہ اب تم اس کے لیے حلال نہیں ہو۔‘‘ (المستدرک) حضرت زینبؓ نے فرمایا: ’’یا رسول اللہؐ! یہ اپنا لوٹا ہوا مال و اسباب واپس لینا چاہتے ہیں۔‘‘ حضور اکرمؓ نے یہ سنا تو آپ نے صحابہؓ کو جمع کر کے فرمایا: ’’اگرچہ اس مال پر تمہارا حق ہے، لیکن ابو العاص کا ہمارے ساتھ ماضی میں حسن سلوک اور صلہ رحمی کا حق ادا کرتے ہوئے اگر تم چاہو تو ان کا مال واپس کردو اور تم اگر ایسا نہ کرنا چاہو تو میں تمہیں مجبور نہیں کروں گا۔‘‘ حضورﷺ کے ارشادات سن کر صحابہ نے تمام مال جمع کروا دیا۔ ابو العاص یہ سب دیکھ کر حیران رہ گئے، انہیں اپنی آنکھوں پر یقین نہ آتا تھا۔ ان کا خیال تو یہ تھا کہ اس مرتبہ کی گرفتاری کے بعد اہل مدینہ انہیں زندہ نہیں چھوڑیں گے اور یہی وہ لمحہ تھا کہ جب دل کے کسی کونے میں چھپی ہوئی اسلام کی چھوٹی سی چنگاری نے بھڑکتے ہوئے شعلے کا روپ ڈھال لیا۔ وہ مال و اسباب لے کر مکہ پہنچے، سب کو جمع کر کے ان کی امانتیں اور رقم مع منافع ان کے حوالے کی، پھر اہل قریش سے اس بات کی گواہی لی کہ اب کسی کا کوئی لین دین ان کے پاس نہیں ہے۔ جب سب نے گواہی دے دی تو اسی مجمع میں کلمہ شہادت پڑھ کر اپنے مسلمان ہونے کا اعلان کر دیا۔ یہ واقعہ صلح حدیبیہ کے بعد کا ہے، جس میں مسلمانوں اور قریش میں معاہدہ ہوچکا تھا۔ لہٰذا ابو العاص پھر فوراً ہی مدینہ تشریف لے آئے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تجدید نکاح کے بعد حضرت زینبؓ کو ان کے ساتھ کر دیا، لیکن اس کے بعد آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بہت کم عرصہ حیات رہیں۔

…٭…

مدینہ ہجرت کے دوران حضرت زینب زخمی ہونے کے بعد سے مستقل علیل رہنے لگی تھیں۔ نبی مکرمؐ نے آپ کی دل جوئی میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی، لیکن اس کے باوجود وہ صحت مند نہ ہوسکیں اور آٹھ ہجری کو ۳۱ سال کی عمر میں اپنے رب سے جاملیں۔ حضرت سودہؓ، حضرت سلمہؓ، حضرت ام ایمنؓ اور حضرت عطیہؓ نے رسول اللہؐ کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق انہیں غسل دیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز جنازہ پڑھائی، خود قبر میں اترے اور اپنے متبرک ہاتھوں سے اپنی لخت جگر کو سپرد خاک کیا۔ جنت البقیع میں تدفین ہوئی۔ اس وقت آپ کے چہرۂ مبارک پر حزن و ملال کے آثار نمایاں تھے۔ (طبقات) حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے بطن سے ایک صاحب زادے علیؓ اور ایک صاحب زادی امامہؓ پیدا ہوئیں۔ ابن عساکر نے لکھا ہے کہ علی بن ابو العاصؓ نے یرموک کے معرکہ میں شہادت پائی۔ فتح مکہ کے وقت وہ حضور اکرمﷺ کے ساتھ اونٹنی پر سوار تھے۔ حضرت امامہؓ کافی عرصہ حیات رہیں اور حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے انتقال کے بعد حضرت علیؓ کے نکاح میں آئیں۔

حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا نہایت سنجیدہ، برد بار، قناعت و تدبر، برداشت و تحمل، تسلیم و رضا، ایثار و شجاعت کا مجسمہ، شرم و حیا کی پیکر، وفاداری و وفا شعاری کا مظہر تھیں۔ اپنے شوہر ابو العاص رضی اللہ عنہ سے بے انتہا محبت کرتی تھیں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم آپ سے بے حد محبت کرتے تھے۔ آپ کی محبت میں کئی بار آب دیدہ ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے:

’’زینب میری بہت اچھی بیٹی تھیں، اس نے میری محبت کی وجہ سے کافی اذیتیں برداشت کیں۔‘‘lll

شیئر کیجیے
Default image
محمود نجمی

Leave a Reply