چھوٹوں پر رحم اور بڑوں کی عزت

لَیْسَ مِنَّا مَنْ لَّمْ یَرْحَمْ صَغِیْرَنَا وَ مَنْ لَّمْ یُؤَقِّرْ کَبِیْرَنَا

’’وہ شخص ہم (مسلمانوں) میں سے نہیں جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہیں کرتا اور ہمارے بڑوں کی عزت نہیں کرتا۔‘‘

گویا ایک مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ چھوٹوں پر رحم و شفقت اور بڑوں کا ادب و احترام کرے۔ اس کے بغیر اس کی مسلمان خام ہے۔

چھوٹوں سے مراد چھوٹے بچے ہیں، اپنے ہوں یا بیگانے حتی کہ دوست کے بچے ہوں یا دشمن کے، سب کے ساتھ پیار اور شفقت کا معاملہ کرنا ضروری ہے۔

بڑوں سے مراد عمر میں بڑا ہونا ہے۔ چھوٹی عمر کے لوگ اپنے سے بڑی عمر کے لوگوں کا احترام کریں۔ جیسے چھوٹے بہن بھائی، بڑے بہن بھائی کا، اور اولاد اپنے ماں باپ کا اور عام افراد اپنے خاندان، قبیلے اور محلے کے بزرگوں کا ادب کریں۔ اسی طرح کوئی علم و فضل اور شرف و مجد میں ممتاز ہے تو وہ بھی قابل احترام ہے اور اس کی تکریم ضروری ہے۔

نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے یہ ارشاد اس وقت فرمایا تھا جب آپ لوگوں کے ساتھ ایک مجلس میں تشریف فرما تھے کہ ایک بزرگ آدمی آپ سے ملنے آیا لیکن لوگوں نے اس کے لیے مجلس کو فراخ کرنے میں تاخیر کی، جس پر آپ نے مذکورہ بات ارشاد فرمائی۔ اس سے ادب و احترام کی بعض صورتوں کی نشان دہی بھی ہوتی ہے۔

شیئر کیجیے
Default image
؟

Leave a Reply