نکھری نکھری رنگت

خوب صورت نظر آنا صنف نازک کی فطرت میں شامل ہے۔ گھر، کالج یا دفتر۔۔۔ چاہے وہ کہیں بھی ہو، خوب صورت نظر آنا چاہتی ہے۔ عمر رسیدہ خواتین کی نسبت لڑکیوں میں یہ جذبہ توانا ہوتا ہے۔ اس مقصد کے لیے وہ مہنگی سے مہنگی بیوٹی کریمیں استعمال کرتی ہیں۔ بیوٹی پارلر جا کے مہنگے مہنگے فیشل کرواتی ہیں۔ وہ سمجھتی ہیں کہ ایسا کرنے سے ان کے چہرے میں نکھار پیدا ہوگا۔ تاہم کئی لڑکیوں کی جلد ایسی ہوتی ہے کہ چہرے پہ کوئی کریم لگانے یا فیشل کروانے سے جلد خراب ہو جاتی ہے۔ کریموں میں موجود مختلف کیمیکلز جلد کو نقصان پہنچاتے ہیں۔اس کے باوجود حسین نظر آنے کی فطری خواہش انہیں پارلر جانے پر اکساتی رہتی ہے۔ پارلر جانے سے وقتی طو رپہ تو چہرہ نکھر جاتا ہے لیکن کچھ دنوں کے بعد پھر سے وہی بے رونقی چھا جاتی ہے۔ پھر لڑکیاں اپنی ماؤں سے کہتی ہیں کہ ان کے چہرے پہ کوئی تازگی نہیں ہے اور مائیں اپنے تجربوں کی بدولت بیٹیوں کو گھریلو ٹوٹکے بتاتی ہیں۔ کئی لڑکیاں ان مشوروں کو مفید نہیں سمجھتیں۔ ان کا کہنا ہوتا ہے کہ ان ٹوٹکوں کا استعمال محض وقت کا ضیاع ہے۔ لیکن ایسی بات نہیں ہے۔

گھر میں استعمال ہونے والی کئی چیزیں چہرے پر نکھار پیدا کرسکتی ہیں۔ انھی میں سے ایک بیسن ہے جس کے بے شمار فائدے ہیں۔ بیسن کا استعمال جلد کے مسائل سے چھٹکارا دلانے اور چہرے پر نکھار لانے میں معاون ہوتا ہے۔ جیسے کہ سورج کی شعاعوں سے خراب ہوتی رنگت میں بیسن کا استعمال بے حد فائدہ پہنچاتا ہے۔ وہ لڑکیاں جو کالج اور یونیورسٹی جاتی ہیں، تیز دھوپ میں آنے جانے سے ان کی جلد متاثر ہوتی ہے۔ ان کو چاہیے کہ بیسن کو فیس ماسک کے طور پر استعمال کریں۔ دو چائے کے چمچے بیسن میں تھوڑا سا ہلدی پاؤڈر، چند قطرے لیموں کا رس اور تھوڑی سی دہی ڈال کر پیسٹ بنالیں اور اسے چہرے پہ لگائیں۔ جب ماسک سوکھ جائے تو سادہ پانی سے دھولیں۔ اس ماسک کے چند دن کے استعمال سے دھوپ سے متاثر ہوتی جلد ٹھیک ہوجائے گی۔

اس کے علاوہ جلد کی چکناہٹ دور کرنے کے لیے بھی بیسن کا استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ایک مٹھی بیسن میں گلاب کا عرق ملا کر پیسٹ بنالیں۔ اس پیسٹ کو چہرے پہ بیس منٹ تک لگا رہنے دیں اور پھر ٹھنڈے پانی سے منہ دھولیں۔ ایک دن کے وقفے سے اس کا استعمال کریں۔ چہرے سے چکناہٹ دور ہوجائے گی۔ ایکنی بھی لڑکیوں کا اہم مسئلہ ہے۔ اکثر چہرے پہ دانے نکل آتے ہیں جو جاتے ہوئے چہرے پر نشانات چھوڑ جاتے ہیں۔ ان دانوں اور نشانات سے نجات پانے کے لے بھی بیسن کا استعمال مفید ہے۔ ایک کھانے کے چمچے کے برابر بیسن میں تھوڑا سا صندل پاؤڈر، ہلدی پاؤڈر اور دودھ شامل کریں۔ تمام چیزیں اچھی طرح ملالیں اور پیسٹ بنالیں۔ اس پیسٹ کو چہرے پہ آدھے گھنٹے تک لگا رہنے دیں، بعد میں سادہ پانی سے چہرہ دھولیں۔

جلد کو نکھارنے کے لیے بھی بیسن کا استعمال کیا جاتا ہے۔ اس مقصد کے لیے ایک چائے کا چمچہ بیسن لے کر اس میں ایک چائے کا چمچہ دودھ، آدھا چائے کا چمچہ شہد اور دو قطرے لیموں کا رس شامل کریں۔ تمام اجزا کو اچھی طرح ملا کر پیسٹ بنالیں اور چہرے پر لگائیں۔ خشک ہونے پر سادہ پانی سے دھولیں۔ چار ہفتوں تک اس ماسک کو باقاعدگی سے لگائیں، چہرے پہ تازگی آجائے گی۔ دانوں کے نشانات ختم کرنے کے لیے دو کھانے کے چمچے بیسن میں اتنی ہی مقدار میں دودھ اور آدھا چائے کا چمچہ ہلدی پاؤڈر ملا کر چہرے پہ لگالیں۔ پھر نیم گرم پانی سے چہرہ دھوئیں۔ اس ماسک کو ہفتے میں دو بار استعمال کریں۔ دانوں کے نشانات آہستہ آہستہ ختم ہوجائیں گے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
سحرش پرویز

Leave a Reply