برف

برف کے فائدے

برف کے استعمال کے کئی فائدے ہیں اور کئی نقصانات بھی ہیں۔ آپ برف سے پانی کو ٹھنڈا کرنے کے علاوہ اور بھی کئی فوائد حاصل کرسکتے ہیں۔ کھجلی اور خارش زدہ جگہ پر اگر آپ زور زور سے کھجائیں گے تو جلد پر زخم پڑ سکتے ہیں۔

اگر آپ برف کے ایک تکڑے کو خارش زدہ جگہ پر پھیریں تو کھجلی ہونا بند ہوجائے گی۔

l ہسٹریا کے دورے میں برف کے ٹکڑے کو گردن پر رکھنے اور ملنے سے آرام مل جاتا ہے۔

lاگر جسم کے اندر کسی رگ میں خراش آگئی ہو اور اندر ہی اندر خون بہنے لگے تو ایسی جگہ پر برف کا ایک ٹکڑا رکھ دیا جائے۔ رگ کے سکڑنے کی وجہ سے خون بند ہوجائے گا۔

lذہنی پریشانی یا دماغی الجھن میں برف کے پانی میں کپڑا بھگو کر گردن کے گرد لپیٹ لیں تو اس سے آپ کو بہت سکون حاصل ہوگا۔

lسر میں شدید درد ہونے کی بناء پر برف کو کوٹ کر کسی کپڑے میں لپیٹ لیں اور اس کپڑے کو سر پر رکھ لیں۔ اس سے تھوڑی ہی دیر میں سر کا درد دور ہوجائے گا۔

lاگر کھیل کے دوران یا کسی وجہ سے چوٹ لگ جائے اور درد ہونے لگے اور خون بہنے لگے تو اس جگہ فورا برف ملیں۔ اس سے نہ صرف خون بند ہوجائے گا بلکہ درد بھی کم ہوجائے گا۔

lبرف سے آپ جراثیم کی نشو و نما کو بھی روک سکتے ہیں کیوں کہ جب درجہ حرارت بہت کم ہو تو جراثیم نشو ونما نہیں پاسکتے۔ لہٰذا اگر زخم پر برف کا ٹکڑا رکھ دیا جائے تو ڈاکٹر کو دکھانے تک زخم میں جراثیم داخل نہیں ہوسکتے۔

lشہد کے بارے میں قرآن پاک میں بھی آیا ہے کہ اس میں لوگوں کے لیے شفاء ہے۔ کہاجاتا ہے کہ شہد ہر مرض کی دوا ہے۔ شہد استعمال کرنے والے بیماریوں سے محفوظ رہتے ہیں۔ آپ بھی صبح و شام مکھن کے ساتھ ایک چمچ شہد ملا کر کھانے سے اپنے اعضا کو تقویت دے سکتے ہیں۔ اگر آنکھوں سے پانی بہنے کی شکایت ہو یا بینائی کم ہو تو آنکھوں میں شہد ٹپکانا چاہیے یا شہد میں سلائی ڈبو کر آنکھوں میں لگائیں۔ کوئی بھی زخم ہو تو اس پر شہد کا بھاہا بنا کر رکھیں تو بہت فائدہ حاصل ہوگا۔ حسب خواہش بالائی کے ساتھ ایک بڑا چمچ شہد کا ملا کر کھانے سے دماغ کو بہت تقویت حاصل ہوتی ہے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
ماخوذ

Leave a Reply