زیادہ منافع کے لیے جانوروں کی غیر فطری نمو

ایک دوا ہے Zimax جو جانوروں کو کم وقت میں بڑا کرنے اور دبلے جانوروں کو موٹا کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ 2006 میں اسے Food and Drug Authority (FDA) نے تصدیق شدہ قرار دیا۔ اس کے بعد یہ امریکہ کے کسانوں کی آمدنی بڑھانے کا بہترین ذریعہ بنی۔ اس دوا کے آنے کے بعد امریکہ کے متوسط طبقے کو بڑا گوشت آسانی سے ملنے لگا۔ اس سے پہلے گوشت کی پیداوار کم ہونے کی وجہ سے قیمتیں بڑھ جاتی تھیں۔ امریکہ کے نظام میں قیمتیں اسی نظریے کے تحت طے ہوتی ہیں، یعنی Rescurces less Human Are More۔ اب اگر چیز کم ہو تو قیمت بڑھانا اور زیادہ منافع لینا جائز ہے۔

اس دوا کے جانوروں میں استعمال سے گوشت میں تیس فیصد اضافہ ہوگیا۔ یہ دوا بھی Rectopramine کی طرح Agonist ہے، زیادہ طاقتور ہے، لیکن بیف کے لیے زیادہ استعمال ہوتی ہے۔ امریکہ کی بڑی کمپنیاں اسی دوا والا گوشت امریکہ میں بھی فروخت کرتی ہیں اور امریکہ سے باہر بھی۔ اسے ایک معروف دوا ساز کمپنی جو ایشیا میں بھی کام کرتی ہے، بناتی ہے۔ اس دوا ساز کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اس نے امریکہ کے کسانوں کو بہت فائدہ پہنچایا ہے۔ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ یہ دوا جانوروں کو دینے سے کم جانوروں سے کم وقت میں زیادہ گوشت ملا۔ کسانوں کو فائدہ ہوا، گوشت زیادہ فروخت ہوا، چارے کی بچت ہوئی، پانی کی بچت ہوئی۔ اس طرح ہم نے دوا کے ذریعے زرعی زمین کو بھی بچایا۔

یہ سارے دلائل جو امریکی کمپنی اور میڈیا فخر سے بیان کرتے ہیں ان کی بنیاد اس نظریے پر ہے کہ اصل مسئلہ کم وقت میں زیادہ سے زیادہ نفع کمانا ہے۔ انسانوں کو اس دوا یافتہ گوشت کھانے سے کیا نقصان ہوتا ہے، اس سے پہلے یہ سوال کہ جانوروں کو کیا نقصان ہوتا ہے، اس کا جواب ہے کہ یہ FDAسے Approvedہے۔ ایف ڈی اے کی تصدیق کا مطلب ہے، سب ٹھیک ہے۔ ہم نے دیکھ لیا۔ اس طرح امریکہ میں رہنے والا عام شہری چاہے جھٹکے کا گوشت کھائے یا حلال کر کے کھائے، اسے دوا والا گوشت ہی کھانا پڑتا ہے۔ ایسا گوشت جسے چین، یورپی یونین کے ممالک اور روس مضر صحت قرار دے کر درآمد نہیں کرتے۔ امریکی فوجیوں کو بھی یہی گوشت کھانا پڑتا ہے۔ یہ سرمایہ دارانہ سوچ کہ مال اہم ہے، وسائل کم نہ پڑ جائیں، قدرت نے کم وسائل پیدا کیے ہیں، دراصل شیطانی سوچ ہے۔ شیطان انسان کو یہ سمجھاتا ہے کہ اللہ نے کائنات بنا کر چھوڑ دی، اب انسانوں کی آبادی کو کنٹرول کرنا، پانی، رزق کو محفوظ کرنا اس کا کام ہے۔ قدرت کا بنانے کے بعد اب دنیا میں کوئی کردار نہیں۔ اسی سوچ کے نتیجے میں امریکہ کے حکمرانوں نے یہ طرزِ عمل اختیار کیا ہے۔ شیطان نے کہا تھا: ’’میں آدم کی نسل کو مٹا کر رکھ دوں گا۔‘‘ (بنی اسرائیل)

اسی سوچ اور شیطان کی چال کے مطابق امریکہ نے عمل شروع کیا۔ اس نے انسانوں کو تباہ کرنے کے لیے ہیرو شیما، ناگا ساکی پر ایٹم بم گرائے۔ لاکھوں انسانوں کو جنگ عظیم میں مار دیا۔ پھر اس کے بعد انہیں احساس ہوا کہ جنگ میں بم گرانے اور میزائل برسانے میں رقم اپنی خرچ ہوتی ہے اور تباہی ایک مخصوص علاقے میں ہوتی ہے۔ شیطان نے انہیں راہ دکھائی کہ ایسی دوائیں ایجاد کرو جن کے دینے سے جانور وقت سے پہلے موٹے اور تیار ہوجائیں اور تمہیں زیادہ منافع ہو۔ اس کام کے لیے دوائیں ایجاد کی گئیں جو بیماریاں پیدا کرنے والی اور انسانوں کو ہلاک کرنے والی ہیں اور ان کی FDA سے تصدیق کرالی گئی۔ اس طرح اللہ کی تخلیق اور اس کے نظام میں تبدیلی کی گئی۔

’’اور چوپایوں میں سے وزن اٹھانے والے اور چھوٹے جانور کھاؤ، یہ اللہ کا رزق ہے اور شیطان کے قدموں کی پیروی نہ کرو، یقینا وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔ (الانعام)

اب شیطان نے کھلی دشمنی یہ دکھائی کہ آدم کی اولاد کو نقصان پہنچانے کا ایسا ذریعہ اپنے چیلوں کو بتایا کہ تم جو رقم توپ اور میزائل پر خرچ کرتے تھے وہ خرچ نہ ہو، بلکہ اس طرح نقصان پہنچاؤ کہ تمہیں مالی فائدہ بھی پہنچے، لوگ اپنے مال سے تمہاری چیز خریدیں اور خود کو نقصان پہنچا کر تمہیں شکریے کے ساتھ رقم ادا کریں۔

سورہ بقرہ میں اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو مخاطب کیا ’’حلال اور طیب چیزیں کھاؤ، شیطان کا کہا نہ مانو۔ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔‘‘

شیطان نے آدم علیہ السلام کی اولاد کو تباہ و برباد کرنے کا ارادہ کیا ہے، وہ ہر طرف سے ان پر حملہ کرتا ہے۔

اللہ نے جانوروں میں خاص تناسب سے گوشت اور چربی بنائی ہے۔ اللہ کی بنائی ہوئی تخلیق کے مطابق اس کا جگر پروٹین، چربی اور دیگر اجزا کے مختلف مراحل کے لیے کام کرتا ہے۔ جگر کے اندر غذا میں کیمیائی تبدیلیاں ہوتی ہیں، جس کے بعد چربی، گوشت (پروٹین) اور دیگر اجزا کے بننے کے لیے بنیادی اجزا مہیا ہوتے ہیں۔ انسان جانور کو تکلیف دہ غذائیں دیتا ہے جس سے اللہ کی بنائی ہوئی ترتیب متاثر ہوتی ہے۔ مثلاً Zimax وغیرہ چربی کو کم کر کے مسلز کو بڑھاتی ہیں۔ اس طرح انسان جانور سے بظاہر تیس فیصد گوشت زیادہ حاصل کرتا ہے۔ شیطان انسان کا دوست بن کر کہتا ہے: ’’وسائل کم ہیں اور انسان زیادہ ہیں۔‘‘

اس حقیقت کو تسلیم کرنے کا عملی اظہار یہ ہے کہ انسان شیطان کو دوست بنا رہا ہے۔ ’’اور جو بنائے اللہ کے سوا شیطان کو دوست، تو وہ ایسے بڑے نقصان میں پڑ گیا جو دیکھا جاسکتا ہے۔‘‘ (سورہ نساء)

انسان کو اللہ نے بتایا کہ یہ امیدیں کہ اللہ کی تخلیق میں، جسم کے بڑھنے کی ترتیب میں تبدیلی کر کے تم مالی فائدہ اٹھالوگے، یہ شیطان کا دھوکا ہے۔ ان مضر صحت دواؤں کے کھانے سے انسانوں میں منفی جسمانی اور اعصابی اثراب مرتب ہو رہے ہیں۔ اس کا عملی مشاہدہ امریکہ کے تعلیمی اداروں میں اکثر نظر آتا ہے۔

ایسی غذاؤں کے استعمال سے طالب علموں کے دماغ اور اعصاب پر ایسے اثرات مرتب ہوتے ہیں کہ وہ تعلیمی ادارے میں آکر فائرنگ کر کے اپنے ہی دوستوں کو ہلاک کر دیتے ہیں۔ ان ہلاک ہونے والوں میں ان کے بچے بھی ہوتے ہیں جو شیطان کی بتائی ہوئی ترکیب پر زیادہ منافع کے لالچ میں ایسی چیزیں دنیا اور امریکہ کے انسانوں کو کھلاتے ہیں۔ لیکن فائدہ شیطان کا ہوتا ہے مرتے آدم کے بچے ہیں۔ FDA کی تصدیق کے یہ کارنامے ہیں۔lll

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر خالد مشتاق

Leave a Reply