خلیج کے موجودہ تناطر میں

عطا فراست مومن ہو خالق کونین

ہے کربلا کی زمین آج مجمع البحرین

دعا کرو کہ سلامت رہے حرم کا وقار

لباسِ جنگ میں رقصاں ہیں خادم الحرمین

ہے روشنی کا طر ف دار آندھیوں کا حلیف

اسیر حب کلیسا ہے، خادم الحرمین

’’زمین خیبر و یثرب حدودِ اسرائیل‘‘

نہ پڑھ سکیں تری آنکھیں عبارت قوسین

سبائیوں سے کہا سامری نے چپکے سے

بدست پیر حرم ہو شہادتِ حسنین

بمصطفیٰ برساں خویش را کہ دیں ہمہ اوست

نقوشِ راہ وفا پائے شافع الثقلین

وجودِ یوسف و اخوان خار چشم جسے

اسی نظر کو سپاہِ فرنگ نور العین

نفاق و جبر کی آندھی میں آج بھی بزمی

حرم کا عشق سلامت ہے سدِّ ذو القرنین

شیئر کیجیے
Default image
سرفراز بزمی

Leave a Reply