غزل

کیسی قسمت ہے! لال رکھا ہے

اس نے دریا کھنگال رکھا ہے

فیصلہ دل پر ہاتھ رکھ کے کرو

کس نے کس کا خیال رکھا ہے

مبتلا ہے وہ یوں عذابوں میں

گھر سے ماں کو نکال رکھا ہے

وہ ہیں آمادہ خون ریزی پر

ہم نے خود کو سنبھال رکھا ہے

ہر بشر ہے فدا، خدا نے تری

گفتگو میں کمال رکھا ہے

یوں تو لنگر لٹا رہا ہے مگر

گھر یتیموں کا مال رکھا ہے

راہِ حق ہم نے چھوڑ کر ناداںؔ

خود کو مشکل میں ڈال رکھا ہے

شیئر کیجیے
Default image
نعیم ناداں سہسپوری

Leave a Reply