غزل

وہ طرح طرح کی شوخی، وہ نئی نئی ادائیں

انہیں یاد کیا نہیں ہے، انہیں یاد کیا دلائیں

مرے شوق کی صداقت، مری بے غرض وفائیں

یہ طلسم عاشقی ہے، وہ فریب میں نہ آئیں

تری خامشی کو سمجھا تو چٹک گئے شگوفے

ترے گیسوؤں کو دیکھا تو ٹھٹک گئیں گھٹائیں

مرے عرض غم پہ ان کو ابھی سوچنا پڑے گا

یہ معاملہ ہے دل کا وہ سمجھ کے مسکرائیں

کوئی خوش جمال ہوگا، کوئی بے مثال ہوگا

ہمیں کس سے ہے محبت تمہیں نام کیا بتائیں

مجھے دل کی دھڑکنوں کا نہیں اعتبار ماہرؔ

کبھی ہوگئے ہیں شکوے، کبھی بن گئیں دعائیں

شیئر کیجیے
Default image
ماہر القادری

Leave a Reply