غزل

ستم کو آپ کے ہم بے نقاب کیا کرتے

بس اتنی بات پہ خانہ خراب کیا کرتے

ہمیں یقین تھا جو بھی ہو، زخم ہی دیتا

ہجوم خار سے ہم انتخاب کیا کرتے

جنہیں شعور نہ تھا اپنی راہ کا خود بھی

وہ دوسروں کو بھلا راہ یاب کیا کرتے

بہت ثواب تھا حضرت کی چاپلوسی میں

مگر یہ لے کے ہم آخر ثواب کیا کرتے

ہمیں تو آتا نہیں ہے خوشامدیں کرنا

ہم ان کے سامنے ہاں، جی، جناب کیا کرتے

حیات اپنی ذرا بھی نہ سہل تھی تنویر

زمانے بھر کا تھا ہم پر عتاب کیا کرتے

شیئر کیجیے
Default image
تنویر آفاقی

Leave a Reply