معاملات بچوں کے سپرد کیجیے !

والدین کی اکثریت کا یہ خیال ہے کہ ان کا بچوں سے لاڈ و پیار دراصل محبت، شفقت اور ہمدردی کی ایک قسم ہے اور ماں باپ کو بچوں کے ساتھ ہمیشہ خوب لاڈ کرنا چاہیے جب کہ حقیقت یہ ہے کہ اس زائد لاڈ پیار میں بہت سے خطرات ہیں اور بچوں کی شخصیت کی تعمیر پر اس کے منفی اثراب میں سے نمایاں ترین نقصان یہ ہے کہ اس بے جا ناز برداری سے ایک مضطرب و بے قرار شخصیت وجود میں آتی ہے۔ ایک ایسی ہستی جس کی علامات اور جس کا رنگ و بو عجیب و غریب ہوتا ہے۔ یہ نمایاں اثرات واضح طور پر اکلوتے بیٹے، یا کئی بہنوں کے اکلوتے بھائی اور یا پھر اس بچے میں جو ماں باپ کے ہاں کافی تاخیر سے پیدا ہوتا ہے، میں بہ آسانی دیکھے جاسکتے ہیں۔

حد سے بڑھتی ہوئی ناز برداری کبھی براہِ راست ظاہر ہوتی ہے اور کبھی بالواسطہ طور پر بھی نمودار ہوتی ہے۔ لاذ پیار اور ناز برداری خواہ کسی صورت میں ظاہر ہو، اس میں خاص بات یہ ہوتی ہے کہ بچوں کو مکمل کنٹرول نہیں دیا جاتا۔ معاملات ان کے سپرد نہیں کیے جاتے بلکہ ان پر زندگی کی مہارتوں کو سیکھنے اور اختیار کرنے کے دروازے بالکل بند کردیے جاتے ہیں۔ ان کو سماجی طور پر قوت و مضبوطی حاصل کرنے کے لیے ضروری فرائض سر انجام دینے کا بھی موقع نہیں دیا جاتا۔ یوں وہ زندگی کی مشکلات کا مقابلہ کرنے سے قاصر رہتے ہیں۔

اس قماش کے والدین اکثر اپنے بیٹے یا بیٹی سے کہتے رہتے ہیں تم ابھی کم سن ہو، تمہیں کسی چیز کے اختیار کرنے کا حق نہیں بلکہ ہم تمہارے لیے پسند کریں گے۔ تم اپنی ذات کے مالک نہیں ہو، بلکہ تم خود ہماری ملکیت ہو۔ اپنے آپ کو نہ تھکاؤ، اپنے آپ کو مشقت میں نہ ڈالو، ہمارے سوا کسی سے دوستی نہ کرو۔ دوسروں سے بچ کے رہو۔ سب لوگ حسد کرنے والے ہیں، کینہ رکھنے والے ہیں، ظلم و زیادتی کرنے والے ہیں۔ تمہارے مطالبے ہمارے لیے حکم ہیں۔ تمہاری خواہشیں ہمارے لیے حتمی فیصلے ہیں۔ جن پر عمل درآمد ہماری ذمہ داری ہے۔

اس رویے کے نقصانات

والدین جب معاملات اپنی اولاد کے حوالے نہیں کرتے تو اس سے بچوں کو مہلک خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس صورت میں بچہ ایک ایسی شخصیت بن جاتا ہے جو عاجز و بے بس اور ضائع و رائیگاں ہوتا ہے۔ وہ سماجی لحاظ سے انتہائی کمزور ہوتا ہے۔ اگر ہم اس کو ’’دوسروں کے سہارے پروان چڑھنے والی بیل‘‘ کا نام دیں تو قطعا بے جا نہ ہوگا، کیوں کہ اسے دوسروں پر بھروسہ کرنے کی عادت پڑ جاتی ہے۔ یہ کم زور و ناتواں ہوتا ہے، اس کا مزاج منفی ہوتا ہے۔ یہ خستہ شخصیت ہوتی ہے جو آسانی سے ٹوٹ پھوٹ جاتی ہے۔ یہ پہلے ہی تصادم یا ٹکراؤ پر بکھر جاتا ہے۔ معاشرتی ماحول میں کسی بھی تبدیلی پر یہ شکست و ریخت سے دو چار ہونے والی شخصیت بنتی ہے۔

خاندان کی تشکیل و تعمیر کے لیے انسان ایک اکائی ہے جب کہ خاندان معاشرے کی عمارت کی ایک اینٹ ہے۔ اگر ہم نے معاشرے کو مضبوط بنانے کا تہیہ کر رکھا ہے تو چاہیے کہ ہم اس کی اینٹوں کو مضبوط بنانے کی کوشش کریں۔ معاشرے کی اینٹیں اس وقت تک مضبوط نہیں بن سکتیں جب تک کہ انسان طاقت ور نہ ہو۔ اس عظیم مہم کو سر کرنے کی ذمہ داری والدین کے کندھوں پر ہوتی ہے۔

اس میں شک نہیں کہ محبت ایک بنیادی ضرورت ہے، جس کا احساس بچوں کو ہوتا ہے اور وہ محبت کی طلب پر اصرار بھی کرتے ہیں مگر والدین کو خبردار رہنا چاہیے کہ ایک محبت وہ ہوتی ہے جو مردوں اور عورتوں کو مضبوط و توانا اور سنجیدہ بنایا کرتی ہے، جب کہ ایک محبت وہ ہے جو کم زور، مضطرب اور غیر موازن شخصیتوں کو جنم دیتی ہے۔ محبت کی یہ قسم وہ ہے جو بے جا ناز برداری اور لاڈ پیار سے بھرپور ہوتی ہے۔ جس محبت میں بچوں کو بالکل کنٹرول نہیںدیا جاتا اور انہیں اپنی ذات سے متعلق بھی کوئی فیصلہ کرنے کا حق نہیں دیا جاتا۔ خواہ وہ فیصلہ کتنا عام اور سادہ کیوں نہ ہو۔ کچھ ایسے ماں باپ بھی ہیں جو اپنے بچوں کے ذاتی امور میں بے حد مداخلت کرتے ہیں۔ حتی کہ وہ بچوں کو ان کی مرضی کے ملبوسات بھی پہننے نہیں دیتے، ان کو جبری و لازمی طور پر ایک خاص انداز سے زندگی گزارنے پر مجبور کردیتے ہیں۔

مناسب یہ ہے کہ تربیتی رہ نمائی افہام و تفہیم، مکالمہ اور بات چیت اور قائل کرنے کی بنیادوں پر قائم ہو۔ ماہرین تربیت کی رائے میں، بچوں پر اپنی من مانی رائے مسلط کرنا اور انہیں زندگی کی اہم ذمہ داریاں سپرد نہ کرنا، شخصیت میں حد سے بڑھے ہوئے تلون پیدا ہونے کا سبب بنتا ہے۔ اس سے ذمہ داریاں اٹھانے کی صلاحیت و ابلیت مفقود یا کم از کم انتہائی کم زور ہو جاتی ہے۔ ایسے بچے ساری عمر والدین کے ساتھ چپکے رہتے ہیں۔ مشکلات و مسائل حل کرنے کی صلاحیت سے عاری ہوجاتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں بچہ بڑا ہو کر خود سر ہو جاتا ہے۔ وہ اپنے لیے سب کچھ چاہتا ہے۔ وہ دوسروں کے حقوق کا احترام نہیں کرتا، حتی کہ وہ اپنے ان والدین کا بھی خیال نہیں کرتا، جنھوں نے اسے بے جا لاڈ پیار بخشا تھا۔

زندگی کے حقائق زبان حال سے بہت سے المیے بیان کرتے ہیں۔ اس کے ثبوت کے لیے قارئین کو یہ ہمت کرنا ہوگی کہ وہ سادہ سا گوشوارہ تیار کریں اور یوں اعداد و شمار ان لوگوں کے بارے میں یکجا کریں، جن کے بارے میں ان کے علم میں ہو کہ ان کو بچپن اور لڑکپن میں بے جا لاڈ اور ناز برداری کے ساتھ پالا پوسا گیا اور والدین نے مکمل اختیارات اپنے ہاتھ میں رکھے اور انہیں کچھ کرنے نہیں دیا۔

پھر لطف یہ ہے کہ ناز پروردہ لوگوں میں سے کتنے فیصد ہیں جو اپنے والدین کو بری الذمہ قرار دیتے ہوں۔ پھر ذرا اس بات پر بھی غور کیجیے کہ ان میں سے کتنے فی صد والدین ہیں جو اپنے زیر پرورش بچوں کے بارے میں اپنی ذمہ داریاں کماحقہ ادا کر رہے ہوں اور پھر زندگی کی مشکلات کا سامنا کرنے کی سکت رکھتے ہوں اور ان مشکلات کو حل کرنے کی صلاحیت سے بہرہ ور ہوں۔

وہ لڑکا جو ناز و نخرے اور لاڈ پیار کے ماحول میں پرورش پاتا ہے اور والدین سب امور و معاملات اپنے کنٹرول میں رکھتے ہیں اور اس کی ہر خواہش پورا کرتے ہیں، جب اسے خود تنہا زندگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور وہ دیکھتا ہے کہ لوگ اسے اس طرح نہیں دیتے، جیسے والدین اسے دیتے تھے تو پھر وہ ہمیشہ اس بات کا منتظر رہتا ہے کہ اس کے ارد گرد کے لوگ اسے ہر چیز فراہم کریں اور جب عملا ایسا نہیں ہوتا تو وہ سخت احساس محرومی اورالجھن میں مبتلا ہوجاتا ہے۔

وہ لوگوں پر حسد کرنے لگتا ہے، کبھی وہ لوگوں کی ملکیتی اشیا کو تباہ بھی کر دیتا ہے۔ وہ اپنے ردعمل میں گستاخانہ اور مغرورانہ طرزِ عمل اپناتا ہے اور موزوں و مناسب رویہ اختیار نہیں کرتا۔ وہ لوگوں کے سامنے ایک بداخلاق و بدچلن انسان کے طور پر ظاہر ہوتا ہے۔ بے ذوق و بد ذوق اور بسا اوقات سنگ دل۔ بلکہ کبھی اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لیے عیب دار حرکتیں کرتا ہے اور بسا اوقات جن کے ساتھ اس کا واسطہ پڑتا ہے، ان سے ایک ڈکٹیٹر کی طرح پیش آتا ہے۔ وہ اپنے تئیں کائنات کا محور و مرکز سمجھتا ہے۔ اس کی ہمیشہ یہ کوشش ہوتی ہے کہ اس کے ارد گرد کے لوگ اس میں دلچسپی لیں، مگر جب لوگ اس کے پاس نہیں آتے تو وہ کوئی بھی احمقانہ حرکت کر گزرتا ہے تاکہ اس کی طرف لوگ توجہ کریں۔ جیسا کہ وہ اس قسم کی حرکتیں کر کے اپنے والدین کی توجہ حاصل کرلیتا ہے۔ جب وہ لوگوں کی توجہ کو اپنی طرف مبذول کرانے سے قاصر رہتا ہے تو اب اس کے سامنے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ وہ دور بینی اور کم آمیزی سے کام لے اور ایک ناملنسار اور اکل کھرا انسان بن کے رہے، کیوں کہ وہ سمجھتا ہے کہ وہ لوگوں میں غیر معقول ہے۔ lll

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر سمیر یونس

Leave a Reply