توبہ

شریعت میں توبہ کے معنی گناہ کے بعد اللہ کی طرف پلٹنے اور ندامت کے ساتھ معافی مانگنے کے ہیں۔ توبہ اس ارادے و عزم کے ساتھ ہوتی ہے کہ آئندہ گناہ نہیں کریں گے۔

توبہ انسان کو گناہوں سے پاک کرنے کا ذریعہ ہے۔ بندہ گناہوں کو چھوڑ کر اللہ کے بارگامیں جب گریہ و زاری کرتا ہے تو اللہ کے فرشتے اس کے حق میں بارگاہِ الٰہی میں دعا کرتے ہیں۔ توبہ ایمان والوں کی خاص صفت ہے۔ قرآن میں ارشا دہے: اور اللہ کے نیک بندے وہ ہیں۔۔۔۔ جو اللہ کی طرف پلٹتے ہیں ایسے جیسے پلٹنے کا حق ہے۔ یعنی جب ان سے کوئی گناہ سرزد ہو جاتا ہے تو وہ اللہ کی طرف پلٹتے اور اس سے توبہ کرتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ سورہ زمر کی آیت ۵۳ میں فرماتا ہے:

’’اے میرے بندو! جنھوں نے غلطی کر کے اپنے اوپر زیادتی کی ہے، اللہ کی رحمت سے مایوس مت ہوجاؤ۔ بے شک اللہ تعالیٰ تمام گناہوں کو بخش دے گا۔ بے شک بخشنے والا اور رحم کرنے والا وہی ہے۔‘‘

ہمیں اس کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے کیوں کہ مایوسی کفر ہے۔ اور اللہ کے نزدیک ناممکن کچھ بھی نہیں ہے۔ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ بندے کی توبہ اس کے سانس اکھڑنے تک قبول کرتا ہے۔ اس کا مطلب ہرگز ہرگز یہ نہیں کہ توبہ کرنے میں تساہل کرے اور سانس کے اکھڑنے تک کا انتظار کرے بلکہ اللہ کی رحمت اتنی وسیع ہے کہ اللہ بندے کی آخری وقت تک توبہ قبول کرنے کے لیے تیار ہے بشرطیکہ بندہ سچے دل سے اس کے دربار میں اپنے گناہوں پر ندامت کرے۔ جب کہ کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کے دلوں پر زنگ لگ جاتا ہے اور وہ اللہ کی طرف مائل ہی نہیں ہوتے۔ ایسے لوگ اپنے گناہوں اور غلطیوں کی توجیہ کرنے لگتے ہیں حالاں کہ انہیں چاہیے تھا کہ وہ توبہ کرتے۔

اللہ تعالیٰ کے سامنے گناہوں سے توبہ کر کے اللہ تعالیٰ کے حضور سر جھکا کر توبہ و استغفار بھی ذکر میں شامل ہے۔ جو بھی برا کام کر بیٹھو اس اس پر توبہ کرلو۔ اللہ کے رسولﷺ نے تاکید فرمائی کہ جہاں بندے کو غلطی کے بعد توبہ کرنی چاہیے وہیں ہر غلطی کے بعد خاص طور پر نیکی کی کوشش کرنی چاہیے اس لیے کہ نیکیاں گناہوں کو مٹا دیتی ہیں۔ پوشیدہ گناہ کیا ہے تو پوشیدہ توبہ کرو اگر علی الاعلان گناہ کیا ہے تو علانیہ توبہ کرو اس لیے کہ توبہ اللہ کو پسند ہے وہ فرماتا ہے۔

’’بے شک اللہ محبوب رکھتے ہیں کثرت سے توبہ کرنے والے کو۔‘‘

اللہ کے رسولؐ نے ایک مرتبہ اپنے ساتھیوں سے فرمایا کہ ہر ابن آدم گناہ گار ہے اور بہترین گناہ گار وہ ہے جو خوب اللہ کی طرف پلٹنے والا اور اس سے توبہ کرنے والا ہے۔

در اصل توبہ کی حقیقت دو اجزا سے مرکب ہے:

(۱) ندامت

(۲) عزم علی التقویٰ۔

ندامت کو توبہ سے ہٹانا ہے کیوں کہ ہماری تو بس خطا ہی خطا ہے لیکن رب کریم کی تو بس عطا ہی عطا ہے۔

ہمارے پیارے حضور باوجود برگزیدہ رسول ہونے کے اللہ کے بنی ہونے کے اور جنتی ہونے کے دن میں سو سو بار توبہ و استغفار کرتے۔

مومن کے قلب پر گناہ ایک پہاڑ کے مانند ہوتا ہے اور منافق کے قلب پر گناہ مانند مکھی ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے توبہ و استغفار کو اہل ایمان کی بنیادی صفت بتایا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے بھی ان بندوں کو اپنا محبوب قرار دیا ہے جو اللہ سے توبہ اور استغفار کرتے ہیں۔lll

شیئر کیجیے
Default image
محمد امین الدین

Leave a Reply