پیاس بجھاتے چلو! (قسط-۴)

اس معمولی سی کوشش کے جو نتائج سامنے آرہے تھے وہ بہت حوصلہ بخش تھے۔ اور اس کے اس کام پر اسے بڑوں کی طرف سے جو شاباشی ملی تھی اور جتنی ہمت افزائی کی گئی تھی اس نے اسے بہت مسرور کیا تھا۔

علاوہ ازیں صبا کی زبانی یہ واقعہ سن کر تو وہ مبہوت و ششدر ہی رہ گئی تھی کہ تائی جان نے اپنا پسندیدہ ترین گولڈ کا ہار یہ کہہ کر تایا جان کے حوالے کر دیا تھا کہ وہ صبا کی نانی جان کے ایصالِ ثواب کے لیے ’’کاٹی پورنا‘‘ میں ان پیسوں سے کنواں کھدوا دیں۔ کاٹی پورنا تائی جان کا میکہ تھا اور اس علاقے میں پانی کی ہمیشہ قلت و پریشانی رہتی تھی۔ لوگ دور دور سے پیدل چل کر پانی لاتے تھے۔

تائی جان کو وہ گولڈ کا سیٹ جن میں دو موتے موٹے کنگن بھی آتے تھے تائی جان کی شادی کے موقع پر ان کے میکے کی طرف سے ملا تھا۔

گردن سے لے کر پیٹ تک لٹکتا وہ بھاری بھرکم مہارانی ہار تائی جان کو شاید جان سے بڑھ کر عزیز تھا کہ وہ تا دیر لوگوں کی ٹکی نگاہیں بھی برداشت نہیں کر پاتی تھیں۔ اور زکوٰۃ کے علاوہ اس ہار کا صدقہ بھی اتارتی تھیں۔سو تائی جان کا اپنی والدہ کے لیے کیا جانے والا یہ ایک بہت بڑا ایثار تھا۔ اس طرح کے اور بہت سارے واقعات اور باتیں اس کا دل شاد کر رہے تھے۔

وہ اب بظاہر بہت خوش تھی لیکن ایک بے چینی کا احساس اب بھی کہیں اس کے اندر موجود تھا، جسے وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی۔ کہیں کوئی کھٹک تھی جیسے کسی اہم اور ضروری بات کی طرف اس کا ذہن نہیں جا پا رہا تھا۔ ایک پراسرار سی کیفیت تھی اور وہ خواب … ؟؟؟ وہ اب بھی آتا تھا۔

٭٭٭

چند دنوں کے بخار کی وجہ سے صبا نحیف و کمزور ہوگئی تھی۔ مسلسل بستر پر پڑے پڑے اس کے مزاج میں خاصا چڑچڑا پن آگیا تھا۔ دوائیں تو وہ منہ بنا کر کھالیتی تھی لیکن انرجی ڈرنکس اور سپلمنٹ لینے پر جلدی تیار نہیں ہوتی تھی۔

بخار سے اس کا سانولا رنگ مزید گہرا ہوگیا تھا۔ گھر کے کاموں کا بڑا بوجھ تائی جان پر تھا۔ مزید یہ کہ تایا جان کے لیے پکوڑے تلتے ہوئے ایک دن ان کا داہنا ہاتھ جل گیا تھا۔ گرم تیل کے چھینٹوں سے کلائی پر آبلے پڑ گئے تھے۔

یہ صورتِ حال دیکھ کر آمنہ چچی نے فائزہ کو تایا جان کے گھر بھیج دیا جو چھٹیوں میں ان کا کافی ہاتھ بٹانے لگی تھی۔ سو فائزہ نے بہ خوشی دونوں گھروں کی ذمے داری سنبھال لی تھی۔

صبا کو دوا پلانا ٹیڑھی کھیر ثابت ہو رہا تھا۔ اسے دوا پلانے کا مطلب تھا اس کے نخرے اور چڑچڑا پن برداشت کرنا۔

’’ہم م م … اس کا تو کچھ کرنا پڑے گا۔‘‘

اس نے گہری نگاہوں سے صبا کو دیکھتے ہوئے سوچا جو ناریل کا جوس بازو کے ٹیبل پر پٹخ کر کروٹ بدل گئی تھی اور سر تک چادر تان لی تھی۔

اپنے کمرے کی تفصیلی صفائی تو وہ پہلے ہی کر چکی تھی آج دادی کو صبا کے پاس بھیج کر ان کے گھر روم کی ڈسٹنگ کرنے لگی تھی۔ دادی کو دھول کی الرجی تھی۔ اس لیے اس نے ان سے کہہ دیا تھا کہ شام تک تایا جان کے یہاں رکی رہیں۔ ڈسٹنگ کے بعد اس نے رگڑ رگڑ فرش دھویا۔ ان کے بیڈ پر نئی چادر ڈالی اور قرآن و دینی کتب کو شیلف میں لگانے لگی۔ دفعتاً کسی کتاب سے ایک بوسیدہ صفحہ نیچے گر پڑا اس نے جھک کر اسے اٹھایا۔

حضرت ابو دردا انصاریؓ جو بڑے فقیہ عالم اور حکیم تھے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: حضرت داؤد علیہ السلام یہ دعا مانگا کرتے تھے…

’’اے اللہ! میں تجھ سے تیری محبت مانگتا ہوں اور اس شخص کی محبت مانگتا ہوں جو تجھ سے محبت کرتا ہے اور مانگتا ہوں وہ عمل جو تیری محبت تک پہنچادے!

اے اللہ تو اپنی محبت مجھے میری جان سے زیادہ اور اہل و عیال سے زیادہ اور ٹھنڈے پانی سے زیادہ محبوب کردے۔‘‘ (ترمذی)

’’ٹھنڈے پانی سے زیادہ…‘‘ بڑی انوکھی دعا تھی اور فائزہ کے علاوہ شاید کوئی اسے اس طرح نہیں سمجھ سکتا تھا جتنا اور جیسا وہ سمجھ رہی تھی اور محسوس کر رہی تھی۔

’’ٹھنڈا پانی۔‘‘ وہ سخت متعجب تھی۔ اس نے اس جنت کے گھونٹ کا مزہ اپنے منہ میں محسوس کیا جو اس نے بھگوان داس شرما انکل کے گھر سے پیا تھا۔

دادی فریج کا پانی نہیں پیتی تھیں۔ ان کے سرہانے ان کی سہولت کے لیے ایک کوری مٹکی رکھی تھی۔ دادی شدید گرمی میں بھی اس کا پانی پیتی تھیں۔ فائزہ کو بھی پیاس کا احساس ہوا۔ گلاس بھر کر وہ دادی کے بیڈ پر بیٹھ گئی اور پینے کی بجائے پانی کو دیکھتی رہی۔

وہ پانی کے ہونے کا احساس کررہی تھی۔ یہ وہ نعمت تھی جس کے بغیر زندگی کا کوئی تصور نہ تھا۔ اور دنیا کی اس سستی مگر عظیم نعمت کو پیتے ہوئے اس نے کبھی اللہ کا شکر نہیں ادا کیا تھا۔ اور وہ رب اسے پچھلے اٹھارہ سالوں سے پانی پلاتا جا رہا تھا۔ بغیر مانگے، بغیر اس کی کوشش و محنت کے۔

وہ اللہ ہے… ہر چیز سے بے نیاز۔ وہ تمام نیاز مندوں کی ہر ضرورت کو پورا کر رہا تھا۔

وہ صحیح معنوں میں رب تھا… اسی لیے تو اسے رب کہتے ہیں کیوں کہ وہ سب کو پال رہا تھا۔

اس کی آنکھیں بھیگنے لگیں۔ شرمندگی، ندامت، پچھتاوا۔ ’’اللہ!‘‘ اس کے لب بے آواز پھڑپھڑائے۔ وہ اللہ کو اپنے دل کے بے حد قریب محسوس کر رہی تھی۔

کتنا محترم اور عظمت والا تھا وہ رب۔ اس مشکل دن اس نے دل کی گہرائیوں سے اسے پکارا تھا اور اس نے کتنی جلدی جواب دے دیا تھا۔

اللہ کسی انسان پر اس کی استطاعت سے بڑھ کر بوجھ نہیں ڈالتا۔ اس کی پیاس برداشت کرنے کی طاقت بس اتنی ہی تھی، تبھی تو اللہ نے فوراً اسے پانی کے پاس پہنچا دیا تھا۔

اس نے اپنے ہاتھ میں موجود گلاس کے پانی کو دیکھا۔ صاف شفاف اور ٹھنڈا… وہ پانی پی گئی۔

آہاہا! کیا لذت تھی اس پانی کی۔ اس کے دل میں آج کل سب سے بڑھ کر ٹھنڈے پانی کی محبت بسی تھی۔

اللہ بندے کی محبت کا سب سے بڑھ کر حق دار ہے۔ اگر پانی کی محبت دل میں گھر کر گئی تھی تو لازم تھا کہ پانی پلانے والے رب کی محبت سب سے زیادہ سینے میں ہوتی۔

حضرت داؤد علیہ السلام اللہ، کے نبی ایسی دعا مانگتے تھے…!!!! کیا انھوں نے بھی پیاس کو محسوس کیا تھا؟

’’اے اللہ! تو اپنی محبت مجھے ٹھنڈے پانی سے زیادہ محبوب کردے۔‘‘

یہ دعا اس کے لبوں سے نہیں دل سے نکلی تھی۔

٭٭٭

فائزہ الجھی اور پریشان نصریٰ باجی کے مقابل بیٹھی تھی۔ نصریٰ باجی کے چہرے پر بھی سوچ کی پرچھائیاں تھیں۔

’’ویسے تو خوابوں کی تعبیر کے متعلق مجھے کچھ زیادہ علم نہیں ہے لیکن موٹی موٹی باتیں تمہاری باتوں سے سمجھ میں آرہی ہیں۔ مثلاً آگ کے جس گڑھے کا تم ذکر کر رہی تھیں وہ تو بظاہر جہنم ہی معلوم ہوتا ہے۔‘‘

’’مجھے بھی ایسا ہی لگتا ہے۔‘‘ وہ ڈوبتی آواز میں بولی۔

’’لیکن میں وہاں کیوں ہوں…؟‘‘ اس کی جھکی پلکوں سے قطرے گرنے لگے تھے۔

’’یہ کس بات کی طرف اشارہ ہے؟‘‘

فائزہ کا چہرہ گیلا ہونے لگا تھا۔ وہ ضبط کرتے ہوئے نصریٰ باجی کی طرف دیکھ رہی تھی۔ ہر انسان خود کو بہت اچھا کہتا ہے۔ درست اور صحیح گردانتا ہے۔ اس کا خود کو دوزخ میں دیکھنا ناقابل یقین اور از حد اذیت ناک تھا۔ یہ معمہ تووہ ابھی تک حل نہیں کر پائی تھی کہ اس نے ایسا کیا کر ڈالا تھا۔ اللہ کی ناراضگی اور گناہ کا وہ کون سا کام تھا جس نے اسے جہنم میں جا پھینکا تھا۔

’’اللہ کی ناراضگی؟‘‘

اس کا دل مٹھی میں آگیا۔ ایسے وقت میں جب کہ اللہ کی محبت اس کے رگ و جاں میں اتر گئی تھی اس کی ناراضگی کا تصور ہی جان لیوا تھا۔ اور غصہ و ناراضگی بھی اتنی شدید کہ سیدھا جہنم۔

اس سے آگے وہ سوچنا نہیں چاہتی تھی۔

اور وہ شخص …؟؟ وہ کون تھا…؟ جسے فائزہ کی مدد درگار تھی۔ اس نے خود سے وابستہ ہر مرد کو سوچ لیا تھا۔ تایا جان، مہران، اس کے ابو… دیگر کزنز اور اساتذہ بھی۔

اس شخص کی آواز جانی پہچانی تو تھی لیکن ان میں سے کس کی بھی نہیں تھی۔

نصریٰ باجی چپ ہوکر اسے روتا دیکھ رہی تھیں۔ آنسوؤں سے اس کا چہرہ دھل گیا تھا۔

’’وہ شخص سخت پیاسا تھا۔ میں وہاں سے بھاگ نکلی تھی لیکن میں نے دیکھا تھا کہ جب اس آدمی نے پانی مانگا تھا تو ابلتا اور کھولتا ہوا پانی اس پر انڈیلا گیا تھا۔ وہ بسھم ہونے لگا تھا لیکن اس حالت میں بھی وہ مجھے ہی آوازیں دے رہا تھا۔ میرا نام پکار رہا تھا۔‘‘

دبی آواز اور کھوئے کھوئے انداز میں وہ بولی تھی۔ وہ خاموش ہوئی تو نصریٰ باجی گہری سانس بھرتے ہوئے سیدھی ہوئیں۔

’’تمہاری زندگی میں تم سے سب سے زیاہ قریب کون ہے؟‘‘

’’ابو۔‘‘ وہ فی الفور بولی۔ ان سے زیادہ اس کے نزدیک شاید اور کوئی ہو ہی نہیں سکتا تھا۔ امی بھی نہیں۔ انسانوں میں اگر کوئی اسے سب سے بڑھ کر عزیز و پیارا تھا تو وہ اس کے ابو تھے جنہیں وہ کبھی لاڈ سے پاپا بھی کہتی تھی۔

’’کیا تم پر کسی کا قرض ہے فائزہ؟‘‘

اس نے نفی میں گردن کو جنبش دی۔ اٹھارہ سال کی عمر میں اسے اب تک کسی قرض کی ضرورت نہیں پیش آئی تھی۔

’’اور تمہارے والد پر…؟‘‘

انھوں نے کچھ ہچکچاتے ہوئے پوچھا۔

اس کے علم میں تو ایسی کوئی بات نہیں تھی تاہم پوچھنے میں کیا حرج تھا۔ اور پھر اس نے دیر نہیں لگائی۔ اس سہ پہر کو اس نے اپنے ابو کو کال کرلیا۔ اسے پتہ تھا یہ ابو کا لنچ بریک ٹائم ہوتا ہے۔ حالاں کہ کل رات ہی ان سے بات ہوئی تھی۔ اس کی پانی پلانے والی ایکٹی ویٹی پر ابو نے اسے دل کھول کر سراہا تھا۔ انٹرنیٹ کے ذریعے فائزہ حیدر کا آرٹیکل وہاں بھی پہنچا تھا۔ اور خوب وائرل ہوا تھا۔

حیدر مرتضیٰ نے دوسری بیل پر ہی کال ریسیو کرلی اور بہت خوشگواریت کے ساتھ اسے سلام کیا۔ فائزہ سے بات کرتے ہوئے وہ یوں ہی کھل اٹھتے تھے۔ اپنی یہ لاڈلی بیٹی انہیں جان سے زیادہ پیاری تھی۔ وہ اس سے بے حد و بے پناہ محبت کرتے تھے۔ اول تو وہ ’’بیٹی‘‘ تھی۔ دوسرے اکلوتی تھی اور ان سے دور اور بہت دور تھی۔ جس سے روز ملنا اور روز دیکھنا مشکل تھا۔ انہیں اس کے ساتھ بہت کم رہنا نصیب ہوا تھا اور یہ سب باتیں مل کر ان کی فائزہ سے محبت میں اضافہ کا سبب بنتی تھیں۔

فائزہ ان کی خوشگواریت محسوس کر کے خود بھی خوش و خرم ہوگئی۔ ابو نہایت خوش گوار موڈ میں اس سے محو گفتگو تھے۔

ان کے اظہارِ محبت کا بہت خوب صورت طریقہ تھا کہ وہ فائزہ کو الگ الگ خوب صورت اور دلکش ناموں اور القاب سے پکارتے تھے۔

ہماری شہزادی، کبھی قرۃ العین (آنکھوں کی ٹھنڈک) مائی پرنسس تو کبھی حسین پری لیکن ایک جملہ وہ اسے اکثر کہا کرتے تھے اور ہر کال پر تو ضرور کہتے۔ ’’تم میری زندگی ہو۔‘‘

ان کے دیے گئے ہر نام پر فائزہ خود کو ہواؤں میں اڑتا محسوس کرتی تھی۔ دن بھر خوش اور فریش موڈ کے ساتھ ہوتی۔ لیکن ابو کا یہ جملہ ’’تم میری زندگی ہو۔‘‘ اکثر و بیشتر اس کی آنکھیں نم کر دیتا تھا۔

اس دنیا میں بیٹیوں کی بہت ناقدری کی جاتی ہے۔ اور ایسے میں کسی کا اسے بار بار احساس دلانا کہ اس کا وجود کسی کی زندگی کے لیے کتنا اہم ہے۔ اسے مسرور کرنے کے ساتھ ساتھ جذباتی بھی کر دیتا تھا۔ اور ابو کے اس طرح بار بار اظہارِ محبت کرنے سے وہ بھی فطری طور پر ان سے بے حد قریب ہوگئی تھی۔ اس کی شعوری زندگی کا کوئی ایک بھی دن ایسا نہیں تھا جب وہ اپنے جان سے زیادہ عزیز ابو کے لیے اللہ سے دعا نہ کرتی ہو۔

ادھر ادھر کی کافی ساری باتیں کرچکنے کے بعد اس نے ان سے بہت جھجکتے ہوئے سوال کیا۔

’’ابو! کیا آپ پر کسی کا قرض ہے؟‘‘

تو وہ بے طرح چونکے۔

فائزہ کان لگائے خاموش منتظر تھی۔ لیکن حیدر مرتضیٰ اتنے شاکڈ اور حیرت زدہ تھے کہ کافی دیر تک کچھ بول ہی نہیں پائے۔

شکر تھا کہ یہ ویڈیو کال نہیں تھی۔ جب وہ آفس میں ہوتے تو اس سے ویڈیو کال نہیں کرتے تھے۔ ورنہ شاید ان کا پریشان اور فکر مند بلکہ گھبرایا ہوا چہرہ اس سے پوشیدہ نہیں رہ پاتا تھا۔

’’نہیں تو بیٹے!… لیکن آپ کیوں پوچھ رہی ہیں…؟‘‘

جب احساسِ شفقت بہت بڑھ جاتا تو وہ اسے ’’تم‘‘ کی بجائے ’’آپ‘‘ کہنے لگتے تھے۔

انھوں نے بہت مشکل سے اپنے لہجے کی لرزش پر قابو پایا تھا۔

’’کچھ نہیں بس ایسے ہی پوچھ رہی تھی۔ اب بتائیں آپ نے آج لنچ میں کیا لیا تھا؟‘‘

اس نے بہت سہولت سے بات بدل دی تھی۔ لیکن وہ جانتی نہیں تھی کہ سعودی عرب کے شہر ریاض کے ACروم میں بیٹھا کوئی شخص ماتھے پر آیا اپنا پسینہ رومال سے خشک کر رہا تھا۔lll

شیئر کیجیے
Default image
سلمیٰ نسرین آکولہ

Leave a Reply