ایک شمع جلانی ہے (چھٹی قسط)

غموں کی اپنے خدارا کبھی تشہیر مت کرنا

محبت روٹھ جائے گی اسے زنجیر مت کرنا

وقت دبے پاؤں آگے بڑھتا گیا۔ غافرہ شروع میں بہت سخت بنی رہی۔ اس ذہنی تھکن سے جو خود ساختہ افسانوی توقعات کے مکمل نہ ہونے سے اسے ہو رہی تھی، اب اسے آرام ملا تھا۔ اسے امید تھی کہ ابتسام مان جائے گا۔ وہ گھر پر آرام سے رہنے لگی۔ وہ بھول گئی یا یوں سمجھئے کہ بس دھوکہ میں پڑ گئی کہ یہ آرام وقتی ہوتا ہے۔

اس دوران ابا اور عفان نے اپنے طور پر ابتسام سے بات کی۔ ابتسام بہت عزت و احترام کے ساتھ ان سے ملا اور ان کی ساری بات سنیں۔ اسے یہ جان کر بڑا شاک لگا تھا کہ غافرہ نے بہت ساری باتوں میں بے حد غلط بیانی سے کام لیا تھا۔ نہ صرف اس کی والدہ اور بہنوں کے متعلق بلکہ اس کے متعلق بھی اور یہ چیز اس کے لیے بڑی تکلیف دہ تھی۔

دل میں غافرہ کے لیے کروٹ بدلتے اور بے چین کرتے محبت بھرے جذبات پر یک لخت اوس سی گر گئی تھی۔ مرد اپنی بیوی سے ہمیشہ ہی یہ توقع رکھتا ہے کہ اس کی عزت بنی رہے گی اور وہ اس کی عزت بنائے رکھے گا اور یہاں تو غافرہ نے اپنی غلط بیانی سے اسے بہت دکھ پہنچایا تھا۔ مسئلے مسائلاور اختلافات اپنی جگہ لیکن کیا غافرہ سچ میں اس سے اتنی بیزار ہوچکی ہے؟ محبت کا کوئی لمحہ اس کے پاس نہ رہا کہ وہ ابتسام کے لیے کوئی نرم گوشہ رکھتی اور کچھ رعایت کر جاتی۔ یہ ایک ایسا چبھتا خیال تھا جس نے ابتسام کے دل و دماغ کو لہولہان کردیا تھا۔

کہا جاتا ہے کہ بچے گیلی مٹی کی طرح ہوتے ہیں انہیں جیسے ڈھالو ڈھل جاتے ہیں مگر جب یہ پختہ ہو جائیں تو پھر ممکن نہیں انہیں بدلنا۔ غور کریں تو محسوس ہوتا ہے کہ شوہر اور بیوی کا رشتہ ابتدائی دور میں گیلی مٹی، نرم ٹہنییا گرم لوہے کی طرح ہی ہوتا ہے اسے جس انداز میں ڈھالو ڈھل جاتا ہے۔ اس دور کی باتیں، واقعات اور جدوجہد سبھی تاعمر کے لیے رہ جاتے ہیں۔ جذبات، مقام اپنی حیثیت کے لیے جدوجہد کرتے ہیں اور پھر ہمیشہ کے لیے پختہ ہو جاتے ہیں اور یہ ابتدائی دور کوئی ماہ، دو ماہ کا نہیں، سال دو سال کا بھی نہیں ہوتا یہ ایک عرصہ ہوتا ہے جس میں یہ رشتہ زمانے کی سرد و گرم سے گزرتا ہے، آپسی تنازعات، معاشی مسائل اور خاندانی مسائل سے الجھتا ہے اور اس دور میں اگر دونوں معاملہ فہمی اور صبر و تحمل سے کام لے لیں تو پھر ’’مثالی جوڑا‘‘ کہلاتے ہیں۔

خیر غافرہ نے اپنی ناسمجھی کی بدولت ابتسام کے دل میں خود کے لیے بنائے گئے مقام کو کھو دیا تھا اور اگر کھویا نہ بھی ہو مگر دل میں کدورت تو آہی گئی تھی، ایک شک سا پڑگیا تھا اور محبتوں میں اور رشتوں میں اگر شک پڑ جائے تو رشتے ٹوٹ جاتے ہیں، محبت چھوٹ جاتی ہے۔

٭٭

اس نے قد کاٹھ نکالا ہے زمانے میں بہت

وہ مگر سوچ کا بونا ہے یہ بھی رونا ہے

انکل میں آپ کی بہت عزت کرتا ہوں… آپ کی پریشانی بھی سمجھ سکتا ہوں، لیکن آپ خود ہی بتائیں کہ میں کس طرح اپنے والدین کو چھوڑ کر ایک علیحدہ گھر لے لوں؟ میں ابھی کوئی نیا گھر چاہے ذاتی ہو پا کرایہ کا نہیں لینا چاہتا۔ بات یہ نہیں ہے کہ میں اتنا کماتا ہوں یا نہیں… بلکہ بات یہ ہے کہ میں امی ابا کے ساتھ ہی رہنا چاہتا ہوں۔ ابا کی Chemo theropy [کینسر کے مریض کو دیا جانے والا ادویات کا ایک کورس] چل رہی ہے۔ بھیا نے آپریشن کروایا تھا اور میں Post operativechemo theropy (آپریشن کے بعد کا علاج)کروا رہا ہوں۔

ابا کی طبیعت کبھی بھی اچانک خراب ہو جاتی ہے۔ بھیا تو یہاں رہتے ہی نہیں ان کا جاب ہی پونہ میں ہے۔ بیس پچیس دن میں ایک چکر لگاتے ہیں ایسے میں اب آپ بتائیں کہ اگر میں علیحدہ گھر لے کر رہ بھی لوں اور والدین سے روزانہ بھی ملا کروں تو بھی گھر پر یہاں کون رہے گا؟ زندگی کیسے جئے ہوں گی؟ میں امی ابا کو ایسے کیسے چھوڑ دوں؟‘‘

کچھ دن بعد ہی یاسر صاحب جب دوبارہ ابتسام سے ملنے گئے اور مسئلے کو حل کرنے پر زور دینے لگے تو یہ تفصیلی بات ابتسام نے نہایت متانت اور خاکساری سے کہی۔ ابتسام کی باتوں میں سچائی تھی اور لہجے میں دکھ… وہ دکھ جو کوئی بھی مرد اس وقت محسوس کرتا ہے جب اس کی بیوی اس کی مجبوریوں اور ذمہ داریوں کو نہیں سمجھتی۔ زندگی کی آزمائشوں میں مشکل وقت میں اس کے ساتھ کھڑی نہیں رہتی اور بے جا ضد باندھ لیتی ہے!

اب یاسر صاحب کیا کہتے… مرد تھے، ایک بیٹے کے باپ بھی تھے۔ ابتسام کی مشکل سمجھ گئے تھے۔ اس کی بات نہایت درست تھی مگر مشکل یہ تھی کہ فائقہ بیگم کو سمجھانا مشکل تھا اور غافرہ بھی نہ جانے کس ضد میں تھی!! شاید وہ کسی فلمی سین کے انتطار میں تھی جہاں ہیرو جھگڑے کے بعد بکھری و خستہ حالت میں ہیروئن کے پاس آتا ہے اور اس کے سامنے گھٹنے ٹیک کر اس کے دونوں ہاتھ تھامے ہوئے کہتا ہے…

’’میں نے بہت کوشش کی لیکن میں تمہیں بھلا نہ سکا، میں تمہارے بغیر نہیں رہ سکتا… تمہارے بنا زندگی بھی کوئی زندگی ہے… تم سے ہی بہاریں ہیں، روشنیاں ہیں، کائنات کے سارے رنگ ہیں… گھر واپس آجاؤ… تمہارے بغیر مرا دل اور میرا گھر دونوں ہی ویران ہیں…‘‘

اور ہیروئن گردن میں کوئی خم لیے بغیر کھڑی رہ کر ساری بات سن کر کہتی ہے ’’مجھے پتا تھا کہ تم آؤگے… مجھے پتا تھا کہ ہمارا پیار سچا ہے جو تمہیں کھینچ ہی لائے گا۔‘‘ اب غافرہ کو کون سمجھائے کہ اس احمقانہ ضد میں پیار و محبت بیک گراؤنڈ میں چلے جاتے ہیں اور سامنے رہ جاتی ہے بس ضد جو دھیرے دھیرے انا کا مسئلہ بن جاتی ہے۔

عفان نے بھی ابتسام کی ساری بات سنی تھی۔ اب دونوں ہی ابتسام کو کیا بتاتے کہ وہ تو حق پر ہے اور کیا سمجھائے اسے!!

عجیب سے حالات ہوگئے تھے اور اسی کشمکش میں وقت دبے قدموں آگے بڑھ رہا تھا۔

٭٭

روئیں نہ ابھی اہل نظر حال پہ میرے

ہونا ہے ابھی مجھ کو خراب اور زیادہ

غافرہ بیٹی … میں نے ابتسام سے بات کی ہے… وہ بھی یہی چاہتا ہے کہ یہ رشتہ مزید پیچیدگیوں کا شکار نہ ہو۔وہ تمہیں گھر واپس بلانے پر بھی تیار ہے۔ تم بھی ایک بار ٹھنڈے دل و دماغ سے سوچ لو بیٹا… اور ہمیں بتاؤ کہ تم کیا چاہتی ہو؟ اور جب بھی اپنے گھر جانا چاہو ہمیں بتا دینا، میں اور عفان خود تمہیں چھوڑ آئیں گے۔ یاسر صاحب نے رات کے کھانے کے بعد چلنے والے چائے کے دور کے ساتھ بڑی سنجیدگی سے یہ بات کہی تو سب ساکت رہ گئے ماسوا عفان کے جس کی نظروں کے سامنے وہ منظر گھوم گیا تھا جس میں ابا سر جھکائے نادم سے ابتسام کے سامنے بیٹھے تھے۔

’’بیٹا… غافرہ کو یوں گھر آئے ایک ماہ سے زیادہ ہونے کو آرہا ہے… اس طرح میں تو رشتہ خراب ہوجائے گا۔ آپ کے گھر فون کیا تھا آپ کی والدہ سے بات ہوئی وہ بھی تھوڑی ناراض سی ہے۔ بیٹا تم سمجھ دار ہو… عورت کبھی کچھ معاملات میں بڑی ناسمجھ و ناعقل ہوتی ہے… وہ بھی بچی ہی ہے تھوڑا جلد بازی میں غلط بات کہہ گئی۔ غلط ضد لیے بیٹھی ہے… تم اسے معاف کردو، غافرہ کی طرف سے میں تم سے معافی مانگتا ہوں… تم اپنی ضد چھوڑ دو… پیار و محبت سے سمجھاؤ، وہ مان جائے گأ‘‘ عفان مسلسل صرف یاسر صاحب کو ہی دیکھے جا رہا تھا۔ اولاد کے لیے انسان کیا کچھ نہیں کرتا اور سنا ہے بیٹیوں کے گھر ٹوٹنے سے بچانے کے لیے تو باپ اپنے سر کی پگڑی اتار کر قدموں میں ڈال دیا کرتے ہیں!! اس نے یاسر صاحب کی آنکھوں میں بھی، اداسی اور دکھ دیکھا تھا وہ آنکھیں اور وہ منظر اس کے ذہن میں بیٹھ گئے تھے…

ابتسام تذبذب کا شکار تھا۔ مگر تھا بہت اخلاق والا!

’’انکل… آپ یوں مجھے شرمندہ نہ کریں معافی مانگ کر… دیکھئے غافرہ کی ان سب باتوں نے مجھے بہت پریشان کر دیا ہے اور دکھی بھی… گھر والے بھی پریشان ہیں اور ناراض بھی، اس نے اپنی نادانی کی وجہ سے اپنے لیے مشکل حالات پیدا کرلیے ہیں۔ میں اسے واپس گھر بلانے پر تیار ہوں۔ آپ بس اسے تھوڑا سمجھا کر گھر بھیج دیں…‘‘ ابتسام کی بات نے یاسر صاحب کو ایک نئی امید دے دی تھی۔

’’کیوں کیا وہ علیحدہ گھر لے کر دینے کو تیا رہے؟‘‘ فائقہ بیگم کی تیکھی گونج دار آواز اسے حال میں کھینچ لائی۔ اس نے سر جھٹک کر ماں کو دیکھا جو غافرہ کی ضد کو ہوا دے رہی تھی، پال پوس کر اس ضد کو بغاوت بنا رہی تھی۔

فائقہ بیگم… اب علیحدہ گھر کی ضد رہنے ہی دو… اس کے کچھ اپنے مسئلے اور مجبوریاں ہیں جو وہ ابھی گھر نہیں لینا چاہتا علیحدہ… ذرا ہوش کے ناخن لو کہیں ایسا نہ ہو کہ علیحدہ گھر کے چکر میں بیٹی کا گھر ٹوٹ جائے اور اس کا اپنا کوئی گھر ہی نہ رہے۔ جب ابتسام مرد ہوکر اپنی ضد چھوڑ رہا ہے تو غافرہ کو بھی نرمی دکھانی چاہیے…‘‘ یاسر صاحب نے فائقہ بیگم کو لتاڑا، لیکن بیچارے بھول گئے کہ وہ زندگی اور عمر کے اس مرحلے میں ہیں جہاں مرد کی بات کم ہی مانی جاتی ہے… وہ دادا، نانا بنے ہی اچھے رہتے ہیں، باقی گھر کی ساری ڈور بیگم کے ہاتھوں میں چلی جاتی ہے… ان کے بنائے گھر کو دادی اور نانی کے گھر سے جانا جاتا ہے کہ حکم کا اِکا انہیں کا ہوتا ہے تو اب یہاں بھی یاسر صاحب کی بات کا کوئی اثر نہ تھا۔

’’ابا… کیا میری کوئی عزت نفس نہیں ہے… ابتسام سے کہیں کہ وہ خود مجھے لینے کے لیے آئے… تبھی میں اس گھر میں جاؤں گی… وہ مجھے الگ گھرلے کر نہیں دینا چاہتے، وہ مجھے خود لینے نہیں آنا چاہتے… صرف زبانی کہہ دیا اور بس… بیوی ہوں میں ان کی… کوئی تو بات مانے میری…‘‘ غافرہ نے روتے ہوئے کہا تو یاسر صاحب ٹھنڈی آہ بھر کر رہ گئے جب کہ فائقہ بیگم تڑپ اٹھیں۔

’’کوئی ضرورت نہیں اس طرح واپس جانے کی… ٹھیک ہے وہ ابھی نہیں لے سکتا گھر تو کوئی بات نہیں، جب علیحدہ گھر لے کر دینے کی اس کی استطاعت ہوجائے گی تو وہ ہماری بیٹی کو عزت سے آکر لے جاسکتا ہے… اور تمہیں کیا ضرورت ہے اس سے یا اس کے گھر والوں سے بات کرنے کی۔‘‘ فائقہ بیگم نے جلال کے ساتھ کہا۔

’’غافرہ … امی … آپ لوگ بات سمجھنے کی کوشش کیوں نہیں کر رہے؟ اس طرح تو غافرہ کا گھر ٹوٹ جائے گا!! ہم اس کے بھلے کے لیے کہہ رہے ہیں… تھوڑا جھک جانے سے اگر رشتہ جڑا رہتا ہے تو اس میں برائی کیا ہے؟ کل کو اگر میری بیوی بھی اس طرح کی ضد کرے کہ اسے الگ گھر لے کر رہنا ہے تو کیا آپ یہ پسند کریں گی؟ اور کیا میں یہ امید رکھوں کہ آپ مجھے جانے دیں گی؟ نہیں ناں!! تو پھر آپ ابتسام بھائی کی مجبوری بھی سمجھئے نا! عفان نے تیکھے لہجے میں کہا تو فائقہ بیگم اسے گھور کر رہ گئیں۔

’’یہ دیکھو جناب کے تیور! ابھی سے یہ حال… ابھی تو بیوی آئی بھی نہیں!… ہم اوروں کی طرح تھوڑی ہیں… اسے اس گھر میں کوئی تکلیف تھوڑی ہوگی؟ اور نہ کوئی سدا کا بیمار ہے ہمارے گھر میں۔‘‘ امی نے منہ بنائے ہوئے عفان کو آڑے ہاتھوں لیا تو وہ منہ کا منہ میں ہی کچھ بڑبڑا کر رہ گیا جب کہ غافرہ روتی ہوئی روم سے باہر نکل گئی۔

’’تم باپ بیٹے کان کھول کر سن لو… زیادہ ہاتھ پیر مارنے کی کوئی ضرورت نہیں! ماں ہوں اس کی کوئی دشمن نہیں (جب کہ دشمن نہ کرے ماں وہ کام کر رہی تھی… مشکل یہ تھی کہ انہیں خود اس کا احساس نہ تھا) ابتسام خود اسے لینے آئے گا اور نہ بھی لینے آئے تو کوئی پرواہ نہیں۔ ہماری بیٹی ہم پر بھاری نہیں ہے۔ اور آج بھی اس کے لیے رشتوں کی کمی نہیں ہوگی (ہائے رے خوش فہمی!) ایسے ناقدروں میں رلنے سے بہتر ہے کہ میں اسے قدر دانوں کے حوالے کروں…‘‘ فائقہ بیگم تو اپنی بات کہہ کر اٹھ گئیں جب کہ یاسر صاحب اور عفان تو سر کو ہاتھ لگا کر بیٹھ گئے۔ وہ جتنا معاملہ سدھارنے کی کوشش کرتے یہ ضدی عورت اتنا ہی اسے پیچیدہ بنا کر الجھاتی رہتی۔

اور ان سب میں وہ سویرا کو بھول گئے تھے جو اس ماحول میں دھیرے دھیرے شادی الرجک ہوتی جا رہی تھی۔ یہ خیال اس کے ذہن میں جڑ پکڑنے لگا تھا کہ ’’شادی کے بعد سب کے ساتھ ایسے ہی ہوتا ہے، محبت وغیرہ سب کچھ وقت کی بات ہوتی ہے بعد میں زندگی ایسی ہی ہوجاتی ہے…!

جب دو لوگوں کے درمیان بندھا نکاح کا مقدس بندھن ان الجھنوں کا شکار ہوتا ہے تو صرف اس رشتے میں بندھے دو انسانوں کی ہی نہیں بلکہ دو خاندانوں کے افراد کی زندگیاں بھی متاثر ہوتی ہیں۔

ان سے وابستہ ہر رشتہ متاثر ہو جاتا ہے… منفی سوچیں نہ صرف پروان چڑھتی ہیں بلکہ اپنی جڑیں بھی جما لیتی ہیں۔ زندگی اور رشتوں کو دیکھنے اور پرکھنے کا نظریہ بدل جاتا ہے۔ منفی سوچ غالب آجاتی ہے… وہ جو شوہر اور بیوی میں جدائی ڈالنے پر شیطان کو تاج ملتا ہے نا وہ اسی لیے بھی ملتا ہوگا کہ وہ اک لمبا جوا کھیل جاتا ہے شطرنج کی ایسی چال جو بڑی دور رس ہو۔lll

شیئر کیجیے
Default image
سمیہ تحریم امتیاز احمد

Leave a Reply