نیکی کی راہ

یہ ۱۹۹۶ کا ذکر ہے، میرے ایک قریبی عزیز بیماری کے باعث اسپتال میں داخل تھے۔ میں نے سوچا کہ ان کی تیمار داری کے ساتھ اپنی بیوی کے بھی کچھ ضروری ٹیسٹ کروالوں۔ اتفاق سے جس روز مجھے وہاں جانا تھا، میری بیوی کو کچھ ضروری کام پڑ گیا۔ اس نے مجھ سے کہا کہ ’’آپ تیمار داری کے لیے چلے جائیں، میں کسی اور دن چیک اپ کروالوں گی۔‘‘ میں نے چوں کہ دفتر سے چھٹی لے لی تھی اس لیے گاڑی نکالی اور اسپتال چلا گیا۔ میرے عزیز مجھے دیکھ کر خوش ہوگئے، انہیں اگلے روز ڈسچارج ہو جانا تھا، اس لیے مجھے خوشی ہوئی کہ میں بروقت ان کی عیادت کے لیے پہنچ گیا۔ کچھ دیر گپ شب کے بعد میں باہرنکلا۔ اپنی گاڑی کی طرف بڑھ رہا تھا کہ ایک ادھیڑ عمر، غریب عورت دیوار کے پاس کھڑی زار و قطار روتی نظر آئی۔ اس کے رونے کا فطری طور پر مجھ پر بھی اثر ہوا۔ میں اس کے پاس گیا اور رونے کا سبب پوچھا، تو اس نے جواب دیا کہ ’’میں بیوہ عورت ہوں اور میرا ایک ہی بیٹا ہے، جسے میں نے پال پوس کر جوان کیا۔ کچھ دیر پہلے وہ ایک ٹریفک حادثے میں شدید زخمی ہوگیا ہے۔ اسپتال میں ڈاکٹر کہہ رہے ہیں کہ اس کا خون بہت بہہ گیا ہے، اسے خون چڑھانا ہوگا، ورنہ وہ نہیں بچ سکے گا۔ یہ کہہ کر وہ پھر زار و قطار رونے لگی۔ میرے دلاسا دینے پر اس نے بتایا کہ وہ اسی اسپتال کے ایمرجنسی میں ہے، پھر اس نے ایک سرنج، جس میں خون تھا اور ایک پرچی میری طرف بڑھا دی اور کہنے لگی۔ ’’یہ خون کا سیمپل ہے، اس پر اس کا بلڈ گروپ لکھا ہے۔‘‘ پرچی میں نے پڑھی، زخمی کو بی پازیٹیو خون کی چھے بوتلیں درکار تھیں۔ میں خود کئی بار خون دے چکا تھا، مگر بی پازیٹیو میرے خون کا گروپ نہیں تھا۔ چوں کہ وہ خاتون نہ کسی بلڈ بنک کے بارے میں جانتی تھی، نہ اس کے پاس خون خریدنے کے وسائل تھے، اس لیے اپنی بے بسی پر آنسو بہا رہی تھی۔ میں نے اسے دلاسا دیا اور کہا کہ ’’تم اسپتال کے دروازے پر بیٹھو، میں کچھ کرتا ہوں اور جب تک میں نہ آجاؤں، تم یہیں بیٹھی دعا کرتی رہنا کہ اللہ تعالیٰ میری مدد کرے۔ پھر میں نے اپنے ان قریبی دوستوں کو فون کیا، جن سے امید تھی کہ وہ اس معاملے میں شاید میری مدد کرسکیں، لیکن اس روز پتا چلا کہ اپنا خون دینا آسان ہے، مگر دوسروں کے لیے خون حاصل کرنا بہت مشکل۔ بہرحال کسی نے مثبت جواب نہیں دیا۔ میں اس وقت سڑک کے کنارے گاڑی کے پاس مایوسی و بے بسی کے عالم میں کھڑا تھا۔ وہاں سے تقریبا ایک فرلانگ دور ایک شادی ہال تھا، وہیں میری نگاہ بارات کے ایک کارواں پر پڑی، جو وہاں سے گزر رہا تھا۔ اچانک میرے ذہن میں آیا کہ یہ لوگ قریبی ہال میں جا رہے ہیں، مجھے ان سے مدد طلب کرنی چاہیے، کیوں کہ خوشی کے موقعے پر کچھ لوگ خاصے کشادہ دل ہو جاتے ہیں۔ میں گاری میں بیٹھا اور بارات کے پیچھے پیچھے چل پڑا۔ کچھ ہی دیر میں گاڑیاں اس ہال کے سامنے رک گئیں۔ میں نے حکمت عملی یہ بنائی کہ اس بارات کے دولہا سے درخواست کروائی جائے، تو شاید باراتیوں میں شامل کئی لوگ مدد کے لیے تیار ہوجائیں۔ باراتی، ہال کے اندر بیٹھ گئے۔ پھولوں کی بارش میں دولھا صاحب بھی اپنی مسند خاص پر براجمان ہوگئے۔ میں نے قریب جاکر دولھا کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ اس نے اپنا چہرہ اٹھا کر مجھے دیکھا، میں اس کے لیے اجنبی تھا، اس نے سوالیہ نگاہوں سے پوچھا ’’آپ کون؟‘‘ وقت ضائع کیے بغیر میں نے سرگوشی میں مختصرا پورا واقعہ سنا کر اس سے درخواست کی کہ اگر باراتیوں میں کسی کا بلڈ گروپ بی پازیٹیو ہو، تو اس بیوہ عورت کے اکلوتے بیٹے کی جان بچائی جاسکتی ہے۔ دولھے نے حیرانی سے مجھے دیکھا، تو میں نے اس سے کہا ’’بھائی مجھے خود احساس ہے کہ یہ موقع غلط ہے، مگر حادثات، موقع دیکھ کر نہیں ہوتے، اسپتال قریب ہے اور میرے پاس اتنا وقت نہیں کہ کسی اور طریقے سے اس عورت کی مدد کرسکوں۔‘‘

دولھا میری بات سے متاثر ہوگیا تھا، کہنے لگا ’’اگر میری نئی زندگی کی شروعات کسی کی جان بچانے سے ہوسکتی ہے تو میں حاضر ہوں، میرا بلڈ گروپ بھی یہی ہے۔‘‘ میں سمجھا وہ مذاق کر رہا ہے، مگر پھر اس نے اپنے چھوٹے بھائی کو بلایا، اسے ساری بات بتا کر کہا کہ وہ اسٹیج سے اعلان کردے کہ بارتیوں میں جس کا بلڈ گروپ بی پازیٹیو ہے، وہ ایک بیوہ کے زخمی اکلوتے بیٹے کی مدد کر سکتا ہے، اسے خون کی فوری ضرورت ہے۔‘‘ اس کا بھائی بھی پرجوش نکلا۔ اس نے باراتیوں کو خاموش کروا کے مائیک پر یہ اعلان کر وا دیا۔ مجھے اس روز پتا چلا کہ ہماری قوم میں ہم دردی کے کتنے سچے اور گہرے جذبات موجود ہیں، صرف انہیں متحرک کرنے کی ضرورت ہے۔ جب یہ اعلان ہو رہا تھا، تو دولھا خود اٹھ کر کھڑا ہوا اور مائیک پر جاکر بولاکہ ’’میں اس زخی نوجوان کو خون دینے کے بعد جلد واپس آجاؤں گا۔‘‘ میں شدید حیرانی کے عالم میں اسٹیج کے پاس کھڑا تھا، دولھا کے گھر والوں نے سمجھایا کہ خون کا بندوبست ہوجائے گا، وہ رک جائے، لیکن اس کاایک ہی جواب تھا کہ وہ اپنی نئی زندگی کا آغاز ایک نیک کام سے کرنا چاہتا ہے۔ بس پھر کیا تھا، دیکھتے ہی دیکھتے بہت سے افراد اس کام میں ہماری مدد کے لیے شامل ہوگئے۔ میں چھے بوتلیں خون لینے گیا تھا، وہاں بارہ سے بھی زیادہ افراد اس نیکی میں شامل ہوگئے۔ دولھا اس تقریب کا وی آئی پی تھا۔ اس کے دوست عزیز بھی اس کے ساتھ ہولیے۔ ہمارا یہ یہ چھوٹا قافلہ جب اسپتال کے گیٹ پر پہنچا تو وہ عورت اس جگہ دکھائی نہیں دی، جہاں میں اسے کھڑے رہنے کی ہدایت کر کے گیا تھا، میرے پاس خاتون کی دی ہوئی پرچی موجود تھی، جسے میں نے انکوائری کاؤنٹر کے کلرک کو دکھایا، تو اس نے نشان دہی کی کہ وہ زخمی ایمرجنسی وارڈ کے ساتھ والے روم میں ہے۔ میں ان لوگوں کے ساتھ وہاں پہنچا تو اس عورت کو وہاں دیکھا، وہ اب بھی رو رہی تھی، اس نے مجھے دیکھا، تو تیزی سے آگے بڑھی اور بولی ’’آپ آگئے، میں سمجھی تھی کہ آپ خون کا بندوبست نہیں کر پائے اور چلے گئے ہوں گے۔‘‘

میں نے سوال جواب میں وقت ضائع کیے بغیر متعلقہ ڈاکٹروں سے رجوع کیا اور تقریباً پون گھنٹے میں چھے بوتل خون ملنے کے بعد آپریشن شروع کر دیا گیا۔ جب دولھے اور اس کے ساتھیوں کو معلوم ہوا کہ یہ عورت غریب اور بیوہ ہے تو انھوں نے اس کے بیٹے کے علاج کے لیے اچھی خاصی رقم بھی اکٹھی کر کے عورت کے حوالے کردی۔ میں نے بھی اس کارِ خیر میں بساط بھر حصہ ڈالا۔ اللہ تعالیٰ کو اس بیوہ کی آہ و زاری پر رحم آگیا۔ اگرچہ ڈاکٹروں کے بقول، خون زیادہ بہہ جانے اور آپریشن میں تاخیر کے باعث زخمی کے بچنے کے امکانات بہت کم رہ گئے تھے۔ مگر قدرت نے اسے نئی زندگی عطا کردی۔

خون دینے کے فوراً بعد میں دولھے کو روانہ کرنے لگا، تو اس نے مجھ سے وعدہ لیا کہ میں اسے زخمی نوجوان کی کیفیت سے آگاہ کرتا رہوں گا۔ اس نے چلتے وقت مزید رقم بیوہ عورت کو دی اور مجھے اپنا فون نمبر بھی دیا، اس کے ساتھ ہی اپنے ولیمے میں بھی شریک ہونے کی درخواست کی، جو اگلے روز تھا۔ میں اس وقت تک وہاں ٹھہرا رہا جب تک زخمی نوجوان کو آپریشن تھیٹر سے باہر نہیں لایا گیا، اسے وارڈ میں منتقل کروانے کے بعد میں نے اس کی ماں سے اجازت لی اور اس کی آنسو بھری آنکھوں اور روندھی آواز سے سیکڑوں دعائیں سمیٹ کر گھر روانہ ہوگیا۔ مگر بات یہیں ختم نہیں ہوتی۔ ہوا یوں کہ چند روز بعد میری بیوی کی طبیعت خراب ہوگئی اور ایک ہفتے بعد یکلخت بگڑ گئی۔ اسے اسپتال میں داخل کروانا پڑ گیا۔ ڈاکٹر نے خون کی شدید کمی بتائی اور خون چڑھانے کے لیے کہا۔ میری بیوی کا بلڈ گروپ اے بی نیگیٹو ہے، جو بہت کم لوگوں کا ہوتا ہے۔ میری شدید بھاگ دوڑ کے باوجود، مطلوبہ مقدار یں مجھے خون بروقت نہ مل پایا۔ کئی گھنٹے کی شدید مشقت کے بعد میں نے سوچا، میری بیوی اکیلی اسپتال میں گھبرا رہی ہوگی، مجھے اس کی خبر لینی چاہیے۔ اسپتال واپس آیا تو پتا چلا کہ میری بیوی کو خون کی دو بوتلیں چڑھائی جاچکی ہیں۔ غالباً تیسری دی جا رہی تھی، میں حیران رہ گیا کہ اسے کس نے خون دیا۔ جب میری بیوی کی حالت کچھ سدھری، تب اس نے بتایا کہ ’’آپ کے جانے کے بعد دو نوجوان ڈاکٹر صاحب کے ساتھ آئے تھے، ڈاکٹر صآحب نے بتایا کہ یہ رضاکارانہ خون دینا چاہتے ہیں۔ اگر آپ کے شوہر خون لے کر آگئے، تو وہ کسی اور ضرورت مند کے کام آجائے گا۔‘‘ میری بیوی نے ان نوجوانوں کا شکریہ ادا کر کے ان سے خون لینے کی ہامی بھری اور یوں یہ کام بروقت اور سہولت سے ہوگیا۔ خون دینے کے بعد وہ میری بیوی سے ملے بغیر ہی چلے گئے۔ پریشانی میں وہ ان نوجوانوں کا نام و پتا نہ پوچھ سکی تھی۔ مگر جب میں نے اس ڈاکٹر سے پوچھا، تو ڈاکٹر نے جواب دیا کہ ’’وہ دونوں نوجوان اچانک ہی آئے تھے اور خون دینے کے بعد جب جانے لگے، تو میں نے یہی بات پوچھی، تو انھوں نے جواب دیا تھا کہ میڈم کے شوہر خود جان جائیں گے۔ نام بتانے کی ضرورت نہیں۔‘‘

میں آج تک اسی ادھیڑ بن میں ہوں کہ وہ نوجوان کون تھے، میں نے تو دفتر میں بھی کسی سے ذکر نہیں کیا تھا۔ شاید اللہ تعالیٰ نے میری مدد کیلیے کسی کو چن کر اسی طرح میری مدد فرمائی، جس طرح میں نے اس بیوہ عورت کی بروقت بھاگ دوڑ کر کے اس کے بیٹے کو بچانے کے لیے کی تھی۔ میرے دماغ میں بھی خیال تو اللہ ہی نے ڈالا تھا کہ میں اس بیوہ کی مدد کے لیے جنونی حالت میں بھاگ دوڑ کرنے پر آمادہ ہوگیا تھا۔ بلاشبہ، اس کی ذات بڑی عظیم ہے۔ میرا یہ ایمان پختہ ہو گیا کہ اگر کوئی کسی کی مدد کا ارادہ کرلے تو اللہ اس کے ساتھ شامل ہو جاتا ہے۔ اور پھر ماں کے آنسوؤں میں بھی کتنی طاقت ہے کہ اس کی آنکھ سے آنسو بہے، تو نیکی کی راہ میں جیسے کہکشاں سی اتر آئی۔lll

شیئر کیجیے
Default image
حافظ اسمٰعیل شیخ

Leave a Reply