6

کاش

بے آبرو ہوکر ترے کوچے سے ہم نکلے کے مصداق بزرگ نے خفگی سے کہا، میاں! کیوں وقت برباد کرتے ہو آئندہ نہ آئیں۔ اگر آنا ہو تو وہاں جاکر آئیں، میں دل ہی دل میں کڑھتا ہوا وہاں سے نکل گیا۔ عجیب خفت محسوس کی۔ اگلے دن وہاں پہنچا، کوئی بات محسوس نہ کی، رات بھر سوچتا رہا جب بزرگ نے حکم دیا ہے تو ضرور کوئی بات ہوگی۔ کئی دن پابندی سے اس قصاب کی دوکان جاتا رہا۔ ہر ایک بات ڈائری میں نوٹ کرتا جاتا۔ آج بڑے سرخ رو کی طرح کٹیا گیا۔ مجھے دیکھتے ہی بزرگ مسکرانے لگے، مجھے شرمندگی محسوس ہوئی تب انھوں نے کہا، بیٹا! برا مان گئے۔ نہیں بابا ایسی بات نہیں، میں نے کہا۔ ہمیشہ کی طرح چند لوگ تشریف فرما تھے۔ آپ کے کہنے پر وہ اہم واقعات بتانے لگا۔

حضرت جی! میں نے اس قصاب کو سخت پابند وقت دیکھا، نماز اشراق کے نصف گھنٹہ بعد وہ دوکان کھولتے۔ میں نے یہ محسوس کیا کہ ناپ تول میں کیا مجال ایک گرام کم تولے۔ ایک جو قابل تعریف وصف دیکھا، کیا چھوٹا کیا بڑا امیر ہو کہ غریب، مرد ہو کہ زن اپنا ہو کہ پرایا سب کو گوشت فروخت کرنے سے قبل صاف صاف بتا دیتے کہ یہ پوٹلہ کا گوشت، یہ چھلی کا گوشت، یہ مینڈی کا گوشت ہے اس کی قیمت یہ ہے۔ میں نے انہیں کبھی خون فروخت کرتے نہیں دیکھا۔ میں نے یہ خاص بات نوٹ کی، وہ ہر گاہک کے بعد فوری ایک بوٹی اپنے حصے سے نکال کر الگ رکھ دیتے ہیں۔ ہڈی سے گوشت چھڑاتے وقت بہت رعایت کرتے ہیں۔ کیا مجال کبھی کسی نے شکایت کی ہے کہ ہڈی زیادہ ہے۔ جتنی مقدار ہوتی ہے اس سے دو چار گرام کم ہی ڈالتے۔ اکثر نماز ظہر سے قبل سارا مال ختم ہو جاتا ہے اگر کبھی بچ جائے وقت نماز ہوتے ہی دکان بند کر کے خاموشی سے نکل جاتے ہیں۔ میں اس ٹوہ میں تھا کہ اس گوشت کا کیا کرتے ہیں جو الگ رکھتے ہیں۔ وہ دوکان بند کرنے کے بعد خاموشی سے نکل جاتے غریب بستی میں جاکر ہر روز ایک مسکین گھرانے میں دے آتے۔ منتظر کتوں کو وہ ساری ہڈیاں ڈال دیتے۔ تب اس بزرگ نے کہا، بتاؤ بیٹا تمہارا کیا خیال ہے؟

کاش ! ہم اس قصاب کے عمل سے کچھ عبرت و نصیحت حاصل کریں تو؟

شیئر کیجیے
Default image
محمد مصطفی علی انصاری

تبصرہ کیجیے