دستک

ان کے ابو جنہیں وہ بہت پیار سے پاپا کہتے تھے کسی ہنگامے میں تو نہیں مرے تھے، رات کو اپنی پرانی سی موٹر سائیکل پر گھر آرہے تھے کہ پیچھے سے آنے والی تیز رفتار کار انہیں کچلتی ہوئی ہوا ہوگئی اور وہ دم توڑ گئے۔

جب وہ صبح سویرے اپنی موٹر سائیکل کو ککیں مار کر بے حال ہوکر زمین پر بیٹھ جاتے تھے تو میں ان سے کہتا تھا کب اس کھٹارے کا پیچھا چھوڑیں گے؟ تو وہ مسکرا کر کہتے تھے: ’’بس اسٹارٹ ہونے میں ضد کرتی ہے ویسے تو فرسٹ کلاس ہے، بڑا سہارا ہے اس کا، ورنہ تو بسوں کے انتظار اور دھکوں سے ہی دم توڑ دیتا۔‘‘ آخر موٹر سائیکل ایک بھیانک آواز سے دم پکڑتی اور وہ مسکراتے ہوئے اپنا بیگ گلے میں ڈالتے اور پھر رخصت ہوجاتے۔

پوچھتا: ’’آج دیر ہوگئی‘‘ ’’ارے یار وہ چھوٹی والی ہے ناں اس کی جیولری لے رہا تھا، وہ دو دن میں خراب ہو جاتی ہے، لیکن چھوٹی ہے ناں ضد کرتی ہے۔‘‘

بس اسی طرح کی زندگی تھی ان کی۔ اور پھر ایک دن وہ روٹھ گئے۔ مرنے سے ایک دن پہلے ہی تو انھوں نے مجھ سے کہا تھا: ’’کچھ پیسے جمع ہوگئے ہیں، سوچ رہا ہوں اپنے ’’گھوڑے‘‘ کی فرمائش بھی پوری کردوں، کچھ پیسے مانگ رہی ہے موٹر سائیکل۔‘‘

بندہ فرمائشیں پوری کرتے کرتے بے حال ہو جاتا ہے، لیکن خوش بھی کتنا ہوتا ہے ناں! اپنے بچوں کو خوش دیکھ کر اپنی تھکن بھول جاتا ہے۔

تین بیٹیاں، ایک بیٹا اور بیوہ۔ تین دن تو ٹینٹ لگا رہا اور عزیزوں کا جمگھٹا۔۔۔ اور پھر زندگی کون روک سکا ہے! سب آہستہ آہستہ رخصت، گھر خالی، تنہائی، خدشات اور نہ جانے کیا کیا خوف۔ بیٹے نے رب کا نام لیا اور پھر ایک دفتر میں معمولی سی نوکری کرلی۔ اٹھارہ سال کا نوجوان جس نے ابھی فرسٹ ایئر کا امتحان دیا تھا اور کیا کرتا! ماں نے سلائی مشین سنبھالی اور پھر زندگی سے نبرد آزما تھے وہ سب۔ بڑی بیٹی نے جیسے تیسے میٹرک کیا ور ایک گارمنٹس فیکٹری میں کام کرنے لگی۔ چھوٹی والی ٹیوشن پڑھاتی اور تیسری تو بہت چھوٹی تھی، ہنستی، کھیلتی بچی جو ہنسنا کھیلنا بھول گئی تھی۔

بڑی بیٹی ایک دم بوڑھی ہوگئی تھی۔ ایک دن میں نے بڑی سے پوچھا: مجھے بتاؤ کیا ہوا ہے تمہیں؟ پھر تو سیلاب تھا ’’کیا کیا بتاؤں، صبح جاتی ہوں تو عجیب عجیب آوازیں، بے ہودہ فقرے، بسوں کے دھکے اور پھر فیکٹری میں تو کوئی انسان ہی نہیں سمجھتا۔ واپس آؤ تو کئی کاریں قریب آجاتی ہیں، جن میں بیٹھے لوگ نہ جانے کیا کیا کہتے ہیں۔ آپ تو جانتے ہیں ناں۔‘‘

’’جینا سیکھو‘‘ بس میں اتنا کہہ سکا تھا۔ چھوڑیے بات بڑھ جائے گی۔ چھوٹی والی اسکول میں پڑھاتی تھی جس سے رجسٹر پر درج تن خواہ پر دست خط کروا کر اس سے نصف بھی نہیں دی جاتی تھی۔ باپ کے مرنے کے بعد سب کے سب زندگی سے نبرد آزما۔ کیا کیا مرحلے آئے ان پر! جی جانتا ہوں میں لیکن کیا کریں گے آپ سن کر۔

میرا بدنصیب شہر نہ جانے کتنے جنازے دیکھ چکا ہے اور کتنے دیکھے گا، اس کی سڑکیں خون سے رنگین ہیں اور اس کے در و دیوار پر سبزہ نہیں خون ہی خون ہے۔ قبرستان بس رہے ہیں، شہر اجڑ رہا ہے۔ اب تو کوئی حساب کتاب بھی نہیں رہا کہ کتنے انسان مارے گئے۔ اور شاید یہ کوئی جاننا بھی نہیں چاہتا۔

تحقیق و جستجو اچھی بات ہے، ضرور کیجیے۔ چاند ستاروں پر تحقیق کیجیے۔ زمین پر انسانیت کا قتل عام کیجیے اور چاند اور مریخ پر زندگی کے آثار تلاش کیجیے۔ پودوں اور پھلوں پر ریسرچ فرمائیے، زمین کی ساخت پر برسوں سوچئے، لمبے لمبے تحقیقی مقالہ جات لکھئے، انہیں عالمی جرائد میں چھپوا کر نہال ہوتے رہیے۔ نشان تحقیق اپنے سینے پر سجائیے اور اسے دیکھ کر خود کو ممتاز سمجھئے، محقق کہلائیے۔ ضرور کیجئے، اچھی بات ہے، اس کام کے لیے عالمی ادارے فنڈ بھی تو وافر دیتے ہیں اور مشاہرہ بھی۔ زندگی نام وری، سہولتوں اور آسائشوں کے ساتھ بسر ہوتی ہے۔ موٹی موٹی کتب میں آپ کا نام نامی بھی درج ہو جاتا ہے۔ بڑے بڑے قطعہ ارضی پر کروڑوں کی عمارات اور جدید ٹیکنا لوجی سے آراستہ۔۔۔۔ بہت اچھی بات ہے ضرور کیجیے۔

مجھ میں تو تحقیق کی صلاحیت ہی نہیں ہے۔ اور نہ ہی میں کوئی لکھا پڑھا آدمی ہوں۔ آپ میں تو ہے ناں، تو کبھی اس پر بھی کوئی تحقیقی ادارہ بنا لیجیے۔ اس پر بھی اپنی محنت صرف کرلیجیے۔ ساری دنیا کو چھوڑیے، پہلے اپنی تونبیڑ لیجیے۔صرف اس پر تحقیق کرلیجیے کہ اس شہر ناپرساں و آزرگاں میں کتنے انسان بے گناہ مارے گئے اور اب ان کے اہل و عیال کس حال میں ہیں؟ وہ زندگی کا سامنا کیسے کرتے ہیں، ان کی نفسیاتی کیفیت کیا ہے، وہ کن مشکلات کا شکار ہیں؟ لیکن یہ کام کرے کون۔۔۔؟

اچھا ہے معصوم یتیم بچے کسی ہوٹل یا گیراج میں ’’چھوٹو‘‘ کہلائیں گیـ۔ ہماری جھڑکیاں سنیں گے۔ بیوہ ہمارے گھر کی ماسی بن جائے گی یا گھر گھر جاکر کپڑے لے کر انہیں سلے گی۔ جوان بہنیں دفتر یا فیکٹری کی نذر ہوجائیں گی، بھوکی نگاہیں انھیں چھیدیں گی اور بدکردار کہلائیںگی۔ ان کے کانوں میں آوازوں کے تیر پیوست ہوتے رہیں گے۔ بوڑھا باپ کسی سگنل پر بھیک مانگے گا اور ماں دوا نہ ملنے پر کھانس کھانس کر مر جائے گی اور، اور، اور اچھا ہی ہے۔ ہمیں چند ٹکوں میں اپنے کام کرانے کے لیے افرادی قوت میسر آجائے گی۔ اس سے بھی زیادہ اچھا یہ ہے کہ ان کا کوئی پوچھنے والا نہیں ہوگا۔ ہمیں کھل کھیلنے کے وسیع مواقع میسر آئیں گے اور ہم ٹھاٹ سے جئے جائیں گے۔

پیٹ کا گڑھا تو روٹی مانگتا ہے یارو۔ اے دانشورو، اے منبر محراب سجانے والو! تمہارے لیکچر، تمہارے پند و نصائح اور تمہاری ’’حق گوئی‘‘ کسی ایک کا پیٹ نہیں بھر سکتی، چاہے کتنی محنت سے اپنے مقالات لکھو، چاہے کتنی قرأت سے وعظ فرما لو۔ پیٹ کا گڑھا تو روٹی مانگتا ہے یارو۔

وہ دیکھ رہا ہے، تو بس پھر کیا ہے، خالق و مالک تو وہی ہے، ہم کیا کہیں گے اس رب قہار سے کہ جب مظلوم کا خون آلود جسم مٹی چاٹ رہا تھا تب ہم کیا کر رہے تھے!

نہیں رہے گا کوئی بھی، میں بھی اور آپ بھی، بس نام رہے گا اللہ کا۔

فقیروں سے خوشامد کی کوئی امید مت رکھنا۔

امیر شہر تو تم ہو، خوشامد تم کو کرنا ہے۔

شیئر کیجیے
Default image
عبد اللطیف

Leave a Reply