لڑکیوں کی پیدائش: روشن اور تاریک دور کا جائزہ

علمی ترقی اور ٹیکنالوجی کے اعتبار سے آج دنیا اس بلند مقام پر ہے جہاں تاریخ انسانی میں کبھی نہ تھی۔ لیکن کیا تہذیب اور ثقافت ،ا قدار اور اخلاقیات اور امن و انسانیت کے اعتبار سے بھی وہ اسی بلند مقام پر ہے؟ جواب نفی میں ہے۔ اسباب نفی پوری دنیا میں قدم قدم پر بکھرے پڑے ہیں۔ جی ہاں ایک شخص بڑی مہنگی کار میں جا رہا ہے اور سڑک پار کرتا ہوا ایک عام آدمی اس کی زد میں آجاتا ہے۔ وہ زمین پر تڑپنے لگتا ہے مگر اس شخص میں اتنی انسانیت نہیں کہ اسے اٹھا کر اسپتال لے جائے اور وہ شخص وہیں تڑپ تڑپ کر جان دے دیتا ہے۔ ایک اسکول ہے جس میں ننھے منے اور پیارے پیارے بچے پڑھنے آئے ہیں۔ کچھ اچھل کود اور کھیل میں مست ہیں اور کچھ کھانے پینے اور گپ شب میں۔ ایک مسلح شخص اسکول میں داخل ہو جاتا ہے اور اندھا دھند فائرنگ شروع کر دیتا ہے۔ اب کیا ہوگا نہ ہی لکھنے ضرورت ہے اور نہ سوچنے کی۔ یہ مناظر کہاں کے ہیں یہ بھی بتانے کی ضرورت نہیں۔ بات صرف اتنی ہے کہ زمانے کی تمام ترقیوں کا بوجھ لیے یہ انسانیت کہاں کھڑی ہے؟

تاریخ بتاتی ہے کہ انسانیت پر ایک دور ایسا بھی گزرا ہے جب لوگ اپنی ہی اولاد کو پیدا ہوتے ہی مار دیا کرتے تھے، بشرطے کہ وہ لڑکی ہو۔ اس وقت انسانیت کی آبادی بہ مشکل چند کروڑ رہی ہوگی۔ جس خطے کا یہ رواج تھا اس میں بہ مشکل دو چار ملین لوگ آباد ہوں گے اور ان میں کتنے لوگ ایسا کرتے رہے ہوں گے؟ اندازہ لگائیے چند فیصد، محض چند فیصد۔ تو کیا ہر سال سیکڑوں لڑکیاں مار دی جاتی رہی ہوں گی؟ ہوسکتا ہے مگر کیا ان کی تعداد ہزاروں سے بڑھ کر لاکھ میں جاسکتی ہے۔ اندازہ ہے نہیں۔ کیوں کہ اس وقت نہ اتنی آبادی تھی کہ پیدائش اور وہ بھی لڑکیوں کی پیدائش کی شرح لاکھوں میں چلی جائے۔ مگر اس عمل کو انسانیت کا قتل تصور کیا گیا اور بہت بڑی جاہلیت۔ یہ اس عرب معاشرے کی بات ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا۔

وہ جاہلی معاشرہ تھا اور دنیا تہذیب و ترقی کے تاریک دور میں تھی۔ آج علم ہے، سائنس اور ٹکنالوجی ہے۔ اس وقت یہ معلوم نہ تھا کہ ماں کے پیٹ میں پلنے والا جنین لڑکا ہے یا لڑکی اس لیے انتظار کرنا پڑتا تھا کہ پیدا ہو اور پتہ چلے۔ آج اس کی ضرورت نہیں۔ اس دور میں عورت کو ملکیت تصور کیا جاتا تھا اور بنیادی انسانی حقوق تک اسے حاصل نہ تھے مگر آج وہ مردوں سے زیادہ قانونی حقوق رکھتی ہے۔ وہ حکمراں ہے وہ جج ہے وہ قانون ساز ہے اور اداروں کی سربراہ ہے۔ آزادی، مساوات اور عدل و انصاف کی نہ صرف حق دار ہے بلکہ خصوصی حق دار ہے۔ کتنا فرق ہے آج کے سماج کی تہذیب و ثقافت میں اور اس دور میں۔ لوگ مانتے ہیں کہ موجودہ زمانے نے عورت کو عزت و مساوات دی، علم دیا، حقوق و اختیار دیے اور سماج میں اسے مرد کے برابر مرتبہ دے کر عزت کے ساتھ زندگی جینے کا تصور دیا۔ کیا ہم دیکھتے نہیں کہ آج عورت کی موجودگی ہی نہیں نہایت نمایاں اور کارآمد موجودگی ہر اس میدان میں اور ہر اس جگہ موجود ہے جہاں مرد ہے یا ہوسکتا ہے۔ اور یہ صورتِ حال دنیا کے تمام خطوںمیں یا تو ہوچکی ہے یا بتدریج ہو رہی ہے۔

اب ہم کیا یہ سوچ لیں کہ دنیا میں عورت اب جو اُس تاریک دور سے نکل کر اس نئے دور میں جو آئی ہے تو اس کے لیے خوشی و مسرت کی کوئی نوید ہے۔ اور کیا وہ واقعی تاریکی سے نکال لی گئی ہے۔ او رکیا ہم یعنی ہمارا معاشرہ جہالت کے تاریک دور سے واقعی روشنی میں آگیا ہے؟

پوری دنیا اب گلوبل ولیج ہے۔ یہ آزادی اور مساوات اور یہ ترقی و ٹکنالوجی دنیا کے ہر خطہ میں پہنچ چکی ہے اور پہنچ رہی ہے۔ اس اعتبار سے اب دنیا تقریبا یک رنگی تہذیب و ثقافت اختیار کرتی جا رہی ہے۔ قدریں تبدیل ہوکر یکسانیت پر آرہی ہیں۔ کھان پان اور اوڑھنا پہننا ہی نہیں سوچ و فکر کے انداز بھی بدل رہے ہیں۔ بالکل نئے دور کی ترقی یافتہ تہذیب کی طرح اور ان میں ایک بات مشترک ہے اور وہ ہے عورت کی سماجی و معاشری اعتبار سے ترقی، آزادی اور برابری۔ اور دوسری قدر مشترک ہے اس پر ظلم و زیادتی، استحصال اور اس کے خلاف جرائم۔ ایک پہلو روشن ہے مگر دوسرا تاریک۔ لوگ کہتے ہیں روشنی اور تاریکی کا ساتھ لازمی ہے۔ مگر وہ روشنی ہی کیا جو تاریکی کا خاتمہ نہ کردے۔ اب ذرا دیکھئے صرف اپنے ملک ہندوستان سے متعلق یہ حقائق۔ اگر پوری دنیا کی بات کرنے لگیں تو اعداد و شمار طویل ہوجائیںگے۔

٭ ہر ۴۵ منٹ میں یہاں ایک عورت زنا بالجر کا شکار ہوتی ہے۔

٭ ہر ۲۰ منٹ میںایک عورت کے ساتھ چھیڑ خوانی ہوتی ہے۔

٭ ہر پانچ منٹ میں ایک لڑکے ساتھ گندی فقرے بازی ہوتی ہے۔

٭ ہر ڈیڑھ گھنٹے میں ایک عورت جہیز کے سبب مار دی جاتی ہے۔

٭ ہر ۳۳ منٹ میں ایک عورت کے ساتھ جسمانی زیادتی ہوتی ہے۔

روزانہ کتنی عورتیں اور لڑکیاں مختلف النوع جرائم کا شکار ہوتی ہیں اور سال میں ان کی تعداد کتنی ہوجاتی ہے اس ضرب تقسیم میں نہ پڑیں تو اچھا ہے۔ کم از کم آپ کا دل تو خوف سے محفوظ رہے گا اور آپ کے اعصاب کھنچاؤ کا شکار نہیں ہوں گے۔ مگر ایک بات ذہن میں رہے کہ یہ سب ان خواتین کا معاملہ ہے جو موجودہ زمانے میں جنم لینے میں کامیاب ہوگئیں۔ ذرا ان کے بارے میں بھی تصو رکیجیے جنہیں سائنس اور ٹکنالوجی کی ترقی نے پیدا ہی نہیں ہونے دیا۔ جی ہاں انہیں پیدا ہونے سے پہلے ہی مار ڈالا گیا۔ مگر یہ کیسے ممکن ہے؟ جی ہاں اسی کو تو ترقی کہتے ہیں کہ آج کل یہ بات معلوم کرلی جاتی ہے کہ ماں کے پیٹ میں پلنے والا جنین لڑکا ہے یا لڑکی۔ اگر لڑکا ہے تو ٹھیک لیکن اگر لڑکی ہے تو پھر اس کا اس دنیا میں آنا منع ہے۔ جی ہاں! ایسا ہی ہے اسے موجودہ زمانے کی اصطلاح میں Female infanticide کہتے ہیں اور اس سے متعلق اعداد و شمار کا ہر جگہ انبار لگاہے۔ اس میں مغرب کے ترقی یافتہ ممالک بھی ہیں اور ترقی پذیر اور پسماندہ ممالک بھی۔ اسی طرح دکھ کی بات یہ ہے کہ اس میں مسلم دنیا کے ممالک بھی ہیں اور دیگر بھی۔ حد یہ ہے کہ برطانیہ جیسے تعلیم یافتہ اور ترقی یافتہ ملک بھی اس میدان میں پیچھے نہیں۔ اسی طرح اس میں ایشیائی ممالک کے لوگ بھی ہیں اور پاکستان اور بنگلہ دیش نزاد مسلمان بھی۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ برطانیہ میں ۲۰۰۹ میں ایشیائی گھرانوں میں 706248 بچے پیدا ہوئے جب کہ 189100 حمل گرائے گئے یعنی 26% اسقاط حمل کا تناسب رہا۔ کتنی حیرت کی بات ہے کہ ہندوستان، چین، پاکستان، بنگلہ دیش، افغانستان، تائیوان اور ساؤتھ کوریا میں اگر لڑکیوں کو پیدائش سے پہلے ہی قتل نہ کردیا گیا ہوتا تو آج ۹ کروڑ سے زیادہ لڑکیاں اس دنیا میں موجود ہوتیں۔

کیا یہ سوال ذہن میں نہیں اٹھتا کہ موجودہ زمانے میں حقوق نسواں اور اسے بہتر زندگی دینے کے لیے ہر طرف ہر سطح کی کوششیں ہو رہی ہیں، قانون سازی کی جا رہی ہے اور لوگوں کو ذرائع ابلاغ کے ذریعے آگاہ کیا جا رہا ہے لیکن اس کے باوجود عورت کا وجود پیدائش سے پہلے اور پیدائش کے بعد دونوں صورتوں میں مامون اور محفوظ کیوں نہیں ہو رہا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ یہ تمام باتیں اپنی جگہ اہم ہیں اور حقیقت بھی لیکن اس کے علاوہ بھی ایک اور حقیقت ہے اور وہ یہ ہے کہ ان تمام باتوں کو اس ضمن میں کہی او رکری جا رہی ہیں انسانوں کے دلوں نے اندر سے قبول نہیں کیا۔ کچھ اس طرح قبول نہیں کیا کہ وہ انسانوں کے عقیدے اور ایمان کا حصہ ہوجائیں اور انسان اس سے ایک انچ ہٹنے میں بھی اپنی دنیا اور آخرت کی تباہی دیکھنے لگے۔ جب کہ تبدیلی کے اسی انداز کی قبولیت مطلوب تھی، ہے اور آئندہ بھی رہے گی۔

اسلام کا امتیاز یہی ہے کہ اس نے عورت کی عزت و تکریم اور اس کے حقوق و اختیارات کو عقیدے اور ایمان کا ایسا حصہ بنایا کہ انسان اگر اس سے روگردانی کرے تو اپنی دنیا و آخرت دونوں کی تباہی کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے لگے۔ یہ اسی امتیاز کے سبب ممکن ہوسکا کہ جہاں لڑکیوں کی پیدائش کو عار تصور کیا جاتا تھا اور بعض اوقات انہیں زندہ دفن کر دیا جاتا تھا وہاں ان کی پرورش و پرداخت میں جنت کا حصول ممکن ہوگیا۔ یہ آج بھی ہے کہ جو لوگ اسلام کو مانتے اور اس پر عمل کرتے ہیں وہ آج بھی بیٹیوں کی صورت میں اپنی آخرت کی جنت دیکھتے ہیں اور بہت سے نام کے مسلمان ہیں جو اس تمام کے مرتکب ہوتے ہیں جو دوسرے کرتے ہیں۔ فرق ہے افکار کا ایمان اور عقیدے کی صورت میں تبدیل ہو جانا۔ اگر ایسا نہ ہو تو کتنے ہی اچھے، صحت مند اور تعمیری افکار محض کتابوں کی زینت اور مجلسوں کی رونق بننے کے علاوہ کوئی مقام حاصل نہیں کر پاتے۔ جب کہ اسلام نے عورت کے سلسلے میں اپنے ماننے والوں کا ایک عقیدہ تشکیل دیا اور وہ یہ تھا کہ:

٭ یہ اللہ کے ہاتھ میں ہے کہ وہ کسی کو اولاد دے۔ وہ چاہے تو لڑکا دے اور چاہے تو لڑکی یا دونوں سے نوازے۔ ان میں کسی کی بھی پیدائش نہ تو باعث افتخار ہے اور نہ باعث ذلت۔ کسی کو یہ اختیار نہیں کہ وہ لڑکی کو باعث تذلیل تصور کرے۔

٭ لڑکیوں کی پرورش کو جنت کے حصول کا ذریعہ قرار دیا گیا۔

٭ عورت کے ہر شکل میں احترام کی اور اس کے ساتھ نرم برتاؤ کی تلقین کی گئی۔

٭ ان پر ظلم و زیادتی کرنے والوں کے سلسلے میں حدود و تعزیرات کا تعین کیا گیا۔

اب دیکھئے اسلام نے کس طرح عورت کے ساتھ حسن سلوک اور بیٹیوں کی تعلیم و تربیت اور پرورش کو ایمان و عقیدے کا حصہ بنا کر ایک طرف تو اسے ان حالات میں تحفظ فراہم کرتے ہوئے جینے کا حق دیا اور دوسری طرف اس کی عظمت و کرامت کو بھی قائم کیا۔ دیکھئے مختلف حیثیتوں میں اس کے ساتھ حسن سلوک کی تعلیمات۔

لڑکی

رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’جو شخص دو بچیوں کی ان کے جوانی کو پہنچنے تک پرورش کرے گا قیامت کے روز میں اور وہ اس طرح (مل کر) آئیں گے۔‘‘

’’جس کسی کے تین لڑکیاں ہوں اور وہ ان کے سلسلے کی تکلیفوں اور معاشی پریشانیوں پر صبر کرے تو ان کے ساتھ اس کی ہمدردی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل فرمائے گا۔ فرماتے ہیں اس پر ایک شخص نے پوچھا اگر کسی کے دو لڑکیاں ہوں اور وہ ان کے سلسلے میں تکلیف برداشت کرے تو؟ آپ نے فرمایا دو لڑکیاں ہوں تو بھی (اللہ تعالیٰ جنت عطا فرمائے گا)، ایک شخص نے کہا اگر ایک ہو؟ آپ نے فرمایا ایک ہو تو بھی۔‘‘

’’جس شخص کے لڑکی ہو وہ نہ تو اسے زندہ درگور کرے اور نہ اس کے ساتھ حقارت آمیز سلوک کرے اور نہ اس پر اپنے لڑکے کو ترجیح دے تو اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل فرمائے گا۔‘‘ (مسند احمد)

بیوی

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’اس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ اس نے تمہارے لیے تمہاری ہی جنس سے جوڑے بنائے تاکہ تم ان کے پاس سکون حاصل کرو اور تمہارے درمیان محبت اور رحمت پیدا کردی یقینا اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو غور و فکر کرتے ہیں۔‘‘(الروم:۲۱)

’’دستور کے مطابق عورتوں کے اسی طرح حقوق ہیں، جس طرح ان کی ذمہ داریاں ہیں۔ البتہ مردوں کو ان پر ایک درجہ برتری کا ہے اور اللہ غالب اور حکمت والا ہے۔‘‘ (البقرۃ:۲۲۸)

اب رسولِ پاکؐ کے ارشادات دیکھئے جو حضرت عائشہؓ کی روایت ہیں:’’اہل ایمان میں سب سے کامل ایمان اس شخص کا ہے جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں اور جو اپنے بیوی بچوں کے ساتھ زیادہ لطف و محبت سے پیش آئے۔‘‘(ترمذی)

’’تم میں بہتر شخص وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے حق میں بہتر ہو اور میں بھی اپنے گھر والوں کے لیے بہتر ہوں۔‘‘

ماں

قرآن کہتا ہے: ’’ہم نے انسان کو وصیت کی کہ وہ اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کرے۔ اس کی ماں نے تکلیف اٹھا کر اسے پیٹ میں رکھا اور تکلیف اٹھا کر اسے جنا۔ اس کے حمل اور دودھ چھڑانے میں تیس مہینے لگ گئے۔‘‘ (الاحقاف:۵۱)

حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ ’’میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول (ﷺ) عورت پر سب سے زیادہ حق کس کا ہے؟ آپ نے فرمایا: اس کے شوہر کا۔ میں نے پوچھا مرد پر سب سے بڑا حق کس کا ہے؟ آپؐ نے فرمایا اس کی ماں کا۔‘‘

’’اللہ نے تم پر حرام ٹھہرائی ہے ماؤں کی نافرمانی… اور لڑکیوں کو زندہ دفن کرنا۔‘‘ (حدیث)

یہ مسلم معاشرے کے لیے چند حقائق ہیں کہ وہ اپنے افکار اور لڑکیوں سے متعلق اپنی سوچ کی اصلاح کریں اور دوسری طرف عملی حقائق سے سماج و معاشرے میں آگاہی کی کوشش کریں تاکہ سماجی و معاشرتی صورت حال میں عورتوں کے لیے بہتری آئے اور ان مسائل کا سدباب ہوسکے جن سے آج کی عورت جوجھ رہی ہے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
شمشاد حسین فلاحی

Leave a Reply