شوہر و بیوی کا باہمی تعلق

ام المومنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ’’اے عائشہ! نرمی سے کام لیا کرو کیوں کہ جب اللہ تعالیٰ کسی گھرانے سے خیر کا ارادہ فرماتا ہے تو نرمی کے دروازے کی طرف ان کی راہ نمائی کر دیتا ہے۔‘‘

نکاح، مرد اور عورت کے درمیان محبت اور رحمت کا ذریعہ ہے۔ یہ میاں بیوی کے درمیان خوش بختی اور اطمینان حاصل کرنے کے اسباب میں سے ایک ہے۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

’’اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمہارے لیے تم ہی سے بیویاں پیدا کیں تاکہ تم ان کی طرف سے آرام پاؤ اور اس نے تمہارے درمیان مودت اور مہربانی رکھ دی کیوں کہ اس میں ان لوگوں کے لیے یقینا بہت سی نشانیاں ہیں جو غور کرتے ہیں۔‘‘ (الروم:۱۲)

امام ابن کثیر رحمہ اللہ کہتے ہیں: اللہ سبحانہ تعالیٰ کی بنی آدم پر اپنی کامل رحمت میں سے یہ ہے کہ اس نے ان کی جنس سے ہی ان کے جوڑے بنائے اور ان کے اور ان کی بیویوں کے درمیان مودت ڈال دی۔ وہ محبت اور رحمت دراصل نرمی ہے۔ بے شک ایک مرد عورت کو اس سے اپنی محبت کی وجہ سے یا اس پر رحمت کی وجہ سے روک کر رکھتا ہے تاکہ اس سے اس کی اولاد پیدا ہو یا اس لیے کہ وہ (عورت) خرچ کرنے میں اس کی محتاج ہوتی ہے یا یہ کہ ان دونوں کے درمیان الفت ہو جاتی ہے یا اس کے علاوہ کوئی اور وجہ ہوسکتی ہے۔

نکاح پاک دامنی کا ذریعہ

نکاح، حرام کاموں سے نفس کی پاک دامنی اور معاشرے کو برائیوں سے پاک کرنے میں مدد کرتا ہے۔ اس کے فائدے بہت عظیم ہیں اور اس کی مصلحتیں بہت زیادہ ہیں۔ یہ صرف مردوں اور عورتوں تک ہی عام نہیں! بل کہ تمام امت کے لیے اس کے فوائد عام ہیں۔

امام ابن قدامہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: نکاح، دین کو مضبوط اور اس کی حفاظت کرنے، عورت کی مضبوطی و تحفظ، اس کی نگرانی کرنے، نسل کے وجود میں لانے، امت کی تعداد میں اضافہ کرنے اور نبیﷺ کی اپنی امت کی کثرت پر فخر کو ثابت کرنے پر مشتمل ہے۔ اس کے علاوہ ایسی ایسی مصلحتیں ہیں جن میں سے ایک ایک نفلی عبادت پر بھاری ہے۔

شکر گزاری

میاں بیوی دونوں اللہ کا اس بات پر شکر ادا کریں کہ اس نے ان دونوں کا باہم ساتھ رہنا آسان بنایا اور اس عظیم نعمت کے شکر میں سے یہ ہے کہ وہ دونوں ہر اس کام سے دور رہیں جو اس تعلق کو کمزور کرنے کا سبب ہو سکتا ہو جو ان دونوں کے درمیان ہے اور جو ان کے اتحاد کو پارہ پارہ کر سکتا ہے۔ خاص طور پر وہ نافرمانیاں اور گناہ جو ہر مصیبت کی بنیاد اور ہر بد نصیبی کے نکلنے کے مقام ہیں۔

باہمی حقوق و خیال

میاں بیوی دونوں پر لازم ہے کہ وہ باہمی حقوق و فرائض کا لحاظ رکھیں۔ شوہر کو چاہیے کہ اپنے بیوی بچوں کی خیر خواہی اور راہ نمائی کی جو ذمے داری اس پر عاید ہوتی ہے وہ اسے ادا کرے، چناں چہ وہ انہیں ایسی چیز کی ترغیب دے جو ان کو دونوں جہانوں میں فائدہ دے اور ایسی چیز سے ڈرائے جو ان کے لیے نقصان دہ ہو۔ شوہر پر لازم ہے کہ وہ ان پر اتنا خرچ کرے جو اسے میسر ہو اور ان کی ضروریات پوری کرنے کا حریص ہو۔ عورت پر لازم ہے کہ وہ اپنے شوہر کی اطاعت کرے اور اللہ جل و علا کی نافرمانی کے علاوہ اس کی خواہشات کو پورا کرنے کی حریص ہو۔ شوہر اور اپنے گھر کے حق کے بارے میں جو چیز اس پر لازم ہے اسے بجا لائے۔

جب ان میں سے کوئی ایک دوسرے کے حق میں کوئی غلطی کرے تو اسے چاہیے کہ وہ اس کی خیر خواہی کرے۔ اسے نصیحت کرے۔ اس کی غلطی کو حکمت اور نرمی کے ساتھ اس پر واضح کرے۔ دونوں کو باتوں میں سختی کرنے سے ڈرنا چاہیے اور سختی کرنے میں حد سے آگے نہیں بڑھنا چاہیے! خاص طور پر شوہر کی طرف سے! جب اس (سختی) کی ضرورت بھی نہ ہو۔ ان دونوں کو اس بات کی حرص ہونی چاہیے کہ باہمی معاملہ کرتے وقت نرمی ہی ان پر غالب ہو کیوں کہ اسی میں کامیابی، خوش نصیبی اور فلاح ہے۔

ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ’’اے عائشہ! نرمی سے کام لیا کرو کیوں کہ جب اللہ تعالیٰ کسی گھرانے سے خیر کا ارادہ فرماتا ہے تو نرمی کے دروازے کی طرف ان کی راہ نمائی کر دیتا ہے۔‘‘

نرمی اور بھلائی کا معاملہ

مرد کو چاہیے کہ وہ ہمیشہ یاد رکھے کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کے ساتھ بھلائی کی وصیت کی ہے۔ چناں چہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’عورتوں کے بارے میں نصیحت قبول کرو! کیوں کہ عورت پسلی سے پیدا کی گئی ہے اور پسلیوں میں سب سے ٹیڑھا اس کا اوپر والا حصہ ہوتا ہے۔ اگر تم اسے سیدھا کرنے لگ جاؤگے تو اسے توڑ دوگے اور اگر تم اسے چھوڑ دوگے تو وہ ٹیڑھی ہی رہے گی، عورتوں کے ساتھ اچھے سلوک کی نصیحت قبول کرو۔‘‘

شیئر کیجیے
Default image
صادقہ ذکی

Leave a Reply