BOOST

حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا

حضور اکرمﷺ کے ساتھ دو ہزار صحابہ کے علاوہ خواتین اور بچے بھی ہیں، جب کہ قربانی کے لیے ۶۰ اونٹ بھی ساتھ ہیں۔ آپﷺ عمرۃ القضاء کی ادائیگی کے لیے تشریف لائے ہیں۔ آپؐ نے ابھی عمرہ ادا کیا ہی تھا کہ آپ کے چچا، حضرت عباسؓ حاضر خدمت ہوکر عرض کرتے ہیں ’’یا رسول اللہﷺ! میری اہلیہ اور آپ کی چچی، ام الفضل کی حقیقی بہن، میمونہ بیوہ ہوچکی ہیں اور اب بے سہارا ہیں، اگر آپؐ ان سے نکاح کرلیں تو ان کی پریشانی دور ہوجائے گی۔‘‘ اللہ نے اپنے محبوبؐ کو پہلے ہی سے آگاہ کر دیا تھا۔ آپ کو مکے میں صرف تین دن قیام کرنا ہے، لہٰذا آپؐ نے اپنے چچا کی بات کو مقدم رکھتے ہوئے حالت احرام ہی میں شوال سات ہجری کو حضرت میمونہ سے نکاح فرمالیا۔ جس کا حق مہر ۵۰۰ درہم تھا۔ نکاح کے بعد آپ اپنے گھر ہی پر مقیم رہیں۔ معاہدہ حدیبیہ کی زو سے آپ کو مکے میں تین دن قیام فرمانا تھا۔ چوتھے دن صبح ہوئی، تو مشرکین نے حضرت علیؓ کے پاس آکر کہا کہ ’’اپنے صاحب سے کہو کہ مدت پوری ہوچکی ہے، اب یہاں سے روانہ ہوجائیں۔‘‘ لہٰذا رسول اللہﷺ مکے سے نکل آئے۔ آپؐ نے مکے سے دس میل دور، مدینے کے راستے میں مقام ’’سرف‘‘ پر قیام فرمایا۔ آپ کے آزاد کردہ غلام، حضرت ابو رافع، آپ کی زوجہ مطہرہ، حضرت میمونہ کو لے کر مقام سرف پہنچے۔ اس جگہ پر آپ نے اپنے صحابہ کرامؓ کے لیے دعوت ولیمہ کا انتظام کیا۔ نبی اکرمﷺ کی حیات طیبہ کا یہ آخری نکاح اور ام المومنین حضرت میمونہؓ آخری زوجہ محترمہ تھیں۔ پچھلے سال چھ ہجری میں جب صلح حدیبیہ ہوئی تھی تو اس کی شق دو میں تحریر تھا کہ مسلمان اس سال عمرہ کیے بغیر لوٹ جائیں۔ تاہم، آئندہ سال آئیں اور تین دن مکے میں رہ کر طواف و زیارت کرلیں۔ شرط یہ ہے کہ وہ صرف تلواریں لے کر مکہ آئیں، جو میانوں میں ہوں اور میانیں تھیلوں میں ہوں۔

ام المومنین حضرت میمونہؓ کا تعلق قریش کے ایک معزز گھرانے سے تھا۔ آپؓ کا سلسلہ نسب میمونہ بنت حارث بن حزن بن بحیر بن یزم بن رویہ بن عبد اللہ بن بلال ہے۔ آپؓ کی والدہ ہند بنت عوف، جو قبیلہ حمیر سے تعلق رکھتی ہیں۔ آپ کا پہلا نکاح، مسعود بن عمرو بن عمیر ثقفی سے ہوا، لیکن کسی وجہ سے طلاق ہوگئی۔ دوسرا نکاح ابو رہم بن عبد العزی سے ہوا۔ سات ہجری میں انھوں نے وفات پائی اور عدت کے بعد سات ہجری میں تیسرا نکاح حضور اکرمﷺ کے ساتھ ہوا۔ مورخین لکھتے ہیں کہ حضرت میمونہؓ کی والدہ ہند بنت عوف خوش قسمت خاتون تھیں، جنہیں جلیل القدر داماد ملے۔ ایک داماد نبی اکرمﷺ تھے، جن سے حضرت میمونہؓ کا نکاح ہوا۔ دوسرے داماد حضورﷺ کے چچا حضرت عباس تھے، جن سے ام الفضل کا نکاح ہوا۔ ہند بنت عوف حضرت میمونہؓ کے والد، حارث سے پہلے عمیس کے نکاح میں تھیں۔ ان سے دو بیٹیاں ہوئیں۔ ان میں سے ایک حضرت اسماء بنت عمیس کا نکاح حضرت جعفرؓ بن ابو طالب سے ہوا۔ حضرت جعفرؓ کی شہادت کے بعد حضرت ابوبکرؓ کے نکاح میں آئیں۔ حضرت ابوبکرؓ کے انتقال کے بعد حضرت علیؓ کے نکاح میں آئیں، جن سے حضرت عون بن علیؓ پیدا ہوئے۔ دوسری بہن زینب بنت عمیس کا نکاح حضرت حمزہؓ بن عبد المطلب سے ہوا۔ (تاریخ طبری)۔ حضرت میمونہؓ کے ابو رہم سے تین بچے پیدا ہوئے: عطاء، سلیمان اور عبد المالک جو فقہا میں مشہور تھے۔

ام المومنین حضرت میمونہؓ نہایت بلند مرتبہ عالمہ، محدثہ، فقیہہ، فاضلہ، مفسر قرآن اور معلمہ تھیں۔ اجتھاد و فکر کی غیر معمولی صلاحیت رکھتی تھیں۔ مسائل پر گہری نظر تھی اور شریعت مطہرہ کے مطابق عوام الناس کی رہ نمائی فرماتی تھیں۔ ایک مرتبہ مدینے کی ایک عورت بیما رپڑ گئی۔ اس نے منت مانی کہ اگر میں صحت مند ہوگئی، تو بیت المقدس جاکر نماز پڑھوں گی۔ چند دن بعد اللہ نے اسے صحت یابی عطا فرمائی۔ منت پوری کرنے کے لیے اس نے بیت المقدس کے سفر کی تیاری شروع کردی۔ رخصت ہونے سے پہلے حضرت میمونہؓ سے ملنے آئی، تو آپ نے کہا کہ ’’اتنی دور کیوں جاتی ہو، مسجد نبوی میں نماز پڑھنے کا ثواب دوسری مساجد سے ہزار گنا زیادہ ہے۔ اس لیے تم یہیں نماز پڑھ لو (مسند احمد)۔

حضرت عبد اللہ بن عباسؓ اپنے وقت کے بہت بڑے عالم، محدث اور مفسر تھے لیکن ایک مرتبہ ایک غلط فہمی پر ان کی خالہ حضرت میمونہؓ نے انہیں ٹوکا اور ان کی تصحیح فرمائی۔ واقعہ یوں ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عباسؓ خالہ سے ملنے تشریف لائے تو بال اور لباس کچھ پراگندہ اور بے ترتیب لگے جب کہ حضرت عبد اللہؓ نہایت خوش لباس اور خوش ذوق تھے۔ آپؓ نے دریافت کیا ’’بیٹا! کیا بات ہے؟ یہ تم نے کیا حالت بنائی ہوئی ہے۔‘‘ ابن عباس نے جواب دیا کہ ’’خالہ! میری بیوی ہی میرے سر میں تیل لگاتی اورکنگھی کرتی ہے، آج کل وہ مخصوص ایام میں ہے، اس لیے میں اس سے یہ خدمت لینامناسب نہیں سمجھتا۔‘‘ آپؓ نے فرمایا ’’پیارے بیٹے! ان ایام میں بھی عورت کے ہاتھ تو ناپاک نہیں ہوتے۔ ہم تو ان ایام میں حضور اکرمﷺ کی خدمت کیا کرتی تھیں بلکہ آپؐ ہماری گود میں سر رکھ کر قرآن شریف کی تلاوت کرتے ہوئے سوجایا کرتے تھے۔ (مسند احمد)۔ حضرت امام احمد بن حنبلؒ تحریر فرماتے ہیں کہ ’’ایک مرتبہ ایک کنیز مذبہ ابن عباسؓ کے گھر گئی، تو دیکھا کہ میاں بیوی کے بچھونے دور دور بچھے ہوئے ہیں۔ اسے خیال ہوا کہ شاید کچھ رنجش ہوگئی ہے۔ لیکن جب اس نے دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ بن عباس (بیوی کے ایام کے زمانے میں) اپنا بستر ان سے الگ کرلیتے ہیں۔ کنیز نے آکر حضرت میمونہؓ سے بیان کیا تو وہ بولیں، ان سے جا کر کہو کہ رسول اللہؐ کے طریقے سے اس قدر اعراض کیوں ہے؟ حضور ﷺ ان دنوں میں بھی برابر ہم لوگوں کے بچھونوں پر آرام فرمایا کرتے تھے۔‘‘ (مسند احمد)

ان دو اہم واقعات سے یہ بات واضح ہوئی کہ دین اور شرعی مسائل سمجھنے اور بیان کرنے یں کبھی ہچکچاہٹ یا شرم محسوس نہیں کرنی چاہیے۔ علماء فرماتے ہیں کہ علم کے حصول میں دو چیزیں زہر قاتل ہیں، ایک کبر کہ اس کی وجہ سے اہل علم سے سوال پوچھنے میں عار محسوس ہو، دوسرے شرم کہ سوال پوچھنے پر لوگ کیا کہیں گے۔

حضرت میمونہؓ فیاضی و سخاوت میں اپنی مثال آپ تھیں۔ غریبوں، حاجت مندوں کی مدد کے لیے ہر وقت کوشاں رہتیں، یہاں تک کہ اگر ان کے اس کچھ نہ ہوتا اور ضرورت مند آجاتے تو انہیں خالی ہاتھ نہ لوٹاتیں بلکہ قرض لے کر ان کی حاجات پوری فرمایا کرتیں۔ ایک مرتبہ حاجت مند زیادہ آگئے، جن کے لیے زیادہ قرض لینا پڑا۔ کسی نے سوال کیا ’’اماں! آپ یہ قرض کیسے ادا کریں گی؟‘‘ فرمایا: رسول اللہﷺ کا فرمان ہے کہ جو شخص ادا کرنے کی نیت سے قرض لیتا ہے، اللہ اس کا قرض خود ادا کردیتا ہے۔‘‘ (مسند)۔

آپ اسلامی احکامات کی سختی سے پابندی کرتیں اور اس سلسلے میں کوئی کوتاہی یا نرمی کبھی برداشت نہیں کرتی تھیں۔ تمام امہات المومنین بہت بلند و بالا مرتبے پر فائز تھیں۔ خلوص و پیار، ایثار و قربانی، عفو و درگزر، محبت و شفقت کا خزینہ تھیں، اس کے باوجود نسوانی جذبات کے تحت کبھی کبھی ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات میں کھنچاؤ بھی آجاتا تھا، لیکن حضرت میمونہ کے اخلاق حمیدہ اتنے اعلیٰ و ارفع تھے کہ آپ کے تعلقات تمام ازواج مطہرات کے ساتھ نہایت عمدہ اور محبت والے تھے۔ ہر ایک سے مل کر خوش ہوتیں، ان کے ساتھ محبت و شفقت سے باتیں کرتیں اور ان کے لیے کلمہ خیر کہتیں۔ چناں چہ سیدہ عائشہ نے ان کی عظمت کا اعتراف کرتے ہوئے فرمایا: ’’ہمارے درمیان میمونہؓ سب سے زیادہ خشیت الٰہی سے مالا مال اور صلہ رحمی کو ملحوظ رکھنے والی تھیں۔‘‘ حضرت میمونہؓ سے مروی احادیث مبارکہ کی تعداد بعض کتب میں ۷۶ اور بعض میں ۴۶ تحریر ہے۔ یہ بھی عجیب اتفاق ہے کہ ۷ ہجری میں نبی اکرمﷺ کے ساتھ نکاح کے بعد آپؓ کا ولیمہ مقام سرف پر ہوا اور ۵۱ ہجری میں ۸۰ سال کی عمر میں اسی مقام پر آپ کی وفات اور اسی جگہ تدفین ہوئی۔ جب جنازہ اٹھایا گیا، تو حضرت عبد اللہ بن عباسؓ نے فرمایا: ’’یہ رسول اللہﷺ کی زوجہ محترمہ ہیں۔ جنازے کو زیادہ حرکت نہ دو، باادب اور آہستہ آہستہ لے کر چلو۔‘‘ (صحیح بخاری) حضرت عبد اللہ بن عباسؓ نے آپؓ کی نماز جنازہ پڑھائی اور بھانجے، بھتیجوں نے قبر میں اتارا اور اس موقع پر حضرت ابن عباسؓ نے اپنی خالہ کی ایمان افروز صفات بیان کیں۔

تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ عورت ہمیشہ سے مرد کے ظلم و بربریت کا شکار رہی ہے۔ جسمانی اعتبار سے مرد سے کم زور ہونے کی بنا پر اس کی شخصیت کو ہمیشہ پامال کیا جاتا رہا، کہیں اسے خادمہ و باندی بنا کر رکھا گیا، تو کہیں عیش و عشرت کی غرض سے اس کی خرید و فروخت ہوتی رہی۔ ہر دور میں اس کے ساتھ حیوانوں کا سا سلوک ہوتا رہا۔ اس کی تذلیل کی جاتی رہی، زمانہ جاہلیت میں اسے منحوس سمجھ کر زندہ درگور کیا جاتا رہا۔ لیکن جب عرب سے اسلام کا سورج طلوع ہوا، رحمت دو جہاںﷺ سراپا نور بن کر جلوہ افروز ہوئے، تو آپؐ نے عورت کو ذلت و پستی کے گڑھوں سے نکال کر عزت و تکریم کی بلندیوں تک پہنچایا۔ اللہ نے حقوقِ نسواں کے قوانین بنا کر مرد کو اس کا پابند بنایا۔ سورہ نسا میں ارشاد فرمایا: ’’عورتوں کے ساتھ حسن معاشرت کے ساتھ زندگی گزارو۔‘‘ نبی کریمﷺ نے فرمایا: ’’شوہروں کو بیویوں کے حق میں سراپا محبت و شفقت ہونا چاہیے۔ اہل و عیال کے لیے نرم خو ہو، جائز امور میں ان کی حوصلہ افزائی اور دل جوئی کرو۔‘‘ اللہ نے تخلیق کے درجے میں عورت اور مرد کو برابر رکھا ہے۔ سورہ بقرہ میں فرمایا: ’’بیویاں تمہاری لباس ہیں اور تم ان کے۔‘‘ آپ نے خواتین کو آئینے و آبگینے قرار دیا۔ حجۃ الوداع کے موقع پر اور یہاں تک کہ مرض الموت میں بھی آپﷺ نے عورتوں کے حقوق کی تلقین کی۔ آج کے اس پر آشوب دور میں ایک بار پھر جاہلیت کے دور ہی کی طرح عورت کی تذلیل اور بے حرمتی کے نت نئے طریقے ایجاد کیے جا رہے ہیں، نائٹ کلبز سے لے کر ریسٹورنٹس تک، مے خانوں سے لے کر اشتہارات تک ان کی عزتِ نفس، حرمت، پاکیزگی یہاں تک کہ ہر چیز داؤ پر لگا دی گئی ہے۔ سو آج ضرورت اس بات کی ہے کہ امہات المومنین کی حیاتِ طیبہ کو سامنے رکھتے ہوئے تبدیلی کی ابتدا اپنے گھر سے کی جائے۔ نبی اکرمﷺ اور ان کی ازواجِ مطہرات کی حیاتِ قدسیہ کا بہ غور مطالعہ کر کے ان پر عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے، تاکہ ان امہات کے روشن اسوہ کی نورانی کرنیں ہمارے گھر کو معطر و منور کرنے کا باعث بنیں۔ امہات المومنینؓ کی سیرت کے بحرِ بے کراں میں مرد و خواتین کے لیے عملی زندگی کے بیش بہا خزینے پوشیدہ ہیں، جن کی تقلید سے گھروں کو جنت بنایا جاسکتا ہے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
محمود نجمی

تبصرہ کیجیے