لفافہ

حجاب کے نام

مسلم سماج کی صورتِ حال

جون کا حجاب اسلامی سامنے ہے۔ رسالہ اپنے مواد کے اعتبار سے معیاری اور مفید ہے۔ گزشتہ کئی مہینوںسے حجاب اسلامی میں طلاق اور پرسنل سے متعلق مضامین کا سلسلہ جاری ہے جو مفید بھی ہے اور ضروری بھی محسوس ہوتا ہے موجودہ حالات کے تناظر میں۔ کئی ماہ قبل آپ کے اداریے میں طلاق سے متعلق تین قسطوں میں معلومات فراہم کی گئی تھیں۔ اگر ممکن ہو تو انہیں کتابچے کی شکل میں شائع کر دیا جائے۔

حکومت کے ذریعے پیدا کردہ بے وجہ کی بحث نے ایک مرتبہ پھر طلاق کو ہاٹ کیک بنا دیا ہے۔ اس سے مسلمانوں اور اسلام دونوں کی ہی منفی تصویر پیش کی جا رہی ہے۔ اس میں جہاں مسلم سماج کی کم علمی اور بعض صورتوں میں دوسروں کے تعصب کا دخل ہے وہیں مسلمانوں کی جہالت، بے عملی اور بے دینی کا خاصا اہم رول ہے۔ جن واقعات کا مسلم مخالف لوگ تذکرہ کرتے ہیں وہ ہمارے ہی آس پاس کے ہی تو ہوتے ہیں۔ اب ہم خود اپنا جائزہ لے سکتے ہیں کہ مسلم سماج کی اصل صورت حال گیا ہے؟

ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم اسلام اور مسلمانوں کے نام پر ـبـڑی جلدی جذباتی ہو جاتے ہیں اور اکثر دھوکا کھاتے ہیں۔ گزشتہ دہائیوں سے مسلمانوں کا جذباتی استحصال سیاسی گروپ بھی کرتے رہے ہیں مسلم لیڈران اور نام نہاد علماء بھی۔ ایسا ہی گزشتہ دنوں دیکھنے میں آیا کہ شریعت پر حملہ کا ہوا کھڑا کر کے مسلمانوں کی ایک طرف تومنفی ذہن سازی کی گئی اور دوسری طرف انہیں عدم تحفظ کا احساس دلایا گیا جب کہ علماء اسٹیج سے دھواں دھار تقریریں کرتے رہے جو شریعت اور اسلامی بیداری پر بہت کم اور سیاست اور نعرے بازی پر زیادہ مشتمل تھیں۔

ہمیں گلہ تھا کہ سیاسی گروپ تو مسلمانوں کا جذبات استحصال کرتے ہیں۔ اب کیا کیجیے کہ (نام نہاد) علماء اور اسلامی قیادت ابھی ایسا ہی کرنے لگی ہے۔ یہ وقت ہے کہ مسلمان انفرادی اور اجتماعی طور پر باشعور ہوں، دین کو قرآن و حدیث سے براہ راست سمجھیں اور کسی بھی دینی یا سیاسی گروپ کے جھانسے میں نہ آکر اپنی عقل و فہم کا استعمال کرنا سیکھیں۔ محمد خالد خان،مہندرو، پٹنہ (بہار)

سودی نظام

جون کے حجاب اسلامی میں اوریا مقبول جان کا مضمون ’’وہ ملک جس نے سود ختم کر دیا‘‘ معلوماتی اور مفید ہے۔ جو لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ سود کے بغیر معیشت چلے گی کیسے؟ اب ان کو یہ بتایا جاسکتا ہے کہ اس کا ماڈل موجود ہے اور یہ ممکن ہے۔

اصل وجہ یہ ہے کہ سود خور لوگ انسانیت کے حق میں کسی بھی صورت سود سے دست بردار ہونے کو تیار نہیں اور یہی اصل برائی ہے۔ سمیہ یونس خان

بارہ دری محمود خان، رام پور

نفاذ شریعت کا داخلی محاذ

تازہ شمارہ سامنے ہے۔ شریعت کے نفاذ کا داخلی محاذ پسند آیا۔

حقیقت یہ ہے کہ اپنے اوپر شرعی قوانین کو نافذ کرنے میں ہمارے سامنے کوئی رکاوٹ نہیں مگر ہم جاہتے کب ہیں کہ اپنے آپ پر اللہ کے قوانین نافذ کریں۔ ہم خود تو اللہ کے قانون کو اپنے اوپر نافذ کرنے کے لیے تیار نہیں اور چلے ہیں سیاسی جنگ لڑنے۔

محمودہ حنیف (اجین، بذریعہ ای-میل)

مئی کا شمارہ

مئی ۲۰۱۷ کے شمارے میں ’’مسلم پرسنل لا کا تحفظ‘‘ کے موضوع پر اداریہ غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔ اس شمارے کے مضامین میں رشتوں سے متعلق مضمون مفید ہے اور خواتین کو اس طرف متوجہ کرتا ہے۔ غسل میت کے آداب مفید اور اچھا ہے۔ ماہ نامہ حجابِ اسلامی میں نمایاں تعلیمی کارکردگی یا بڑی کامیابی حاصل کرنے والی طالبات سے متعلق معلومات یا ان کے انٹرویو شائع کیے جائیں۔ اس سے دیگر بچیوں کو حوصلہ ملے گا۔ بشریٰ خلیل شیخ

باندرہ (مہاراشٹر) بذریعہ واٹسپ

شیئر کیجیے
Default image
شرکاء

Leave a Reply