سعودی

حرم رسوا ہوا پیرِ حرم کی کم نگاہی سے

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے عہدۂ صدارت سنبھالنے کے بعد سب سے پہلا غیر ملکی دورہ مملکت سعودی عرب کا کیا۔ اس دورے کے اعلان کے ساتھ ہی دنیا کی نگاہیں اس کی حصولیابیوں اور نتائج کو دیکھنے کے لیے بے چین تھیں۔ چناں چہ اسے دونوں ملکوں ہی نہیں بلکہ پورے خطہ کے لیے،نتائج و اثرات کے اعتبار سے بہت ’’کامیاب‘‘ دورہ کہا جانا چاہیے۔

اس دورہ میں صدر امریکہ نے بڑے ’اہم اور عظیم‘ کام انجام دیے۔ ان میں دو کام ایسے ہیں جو طویل مدتی اثرات رکھنے کے ساتھ ساتھ انھوں نے فوری نتائج بھی دینا شروع کر دیے ہیں۔ اس دورے میں امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان تاریخ کا سب سے بڑا اسلحہ کی خرید و فروخت کا معاہدہ طے پایا، جس کی قیمت 350بلین ڈالر ہے۔ اس طرح امریکی خزانے کو ایک بڑا مالی نفع حاصل ہوگیا اور یہ اگلے دسیوں سال تک چلے گا۔ اسی طرح دوسرا فوری اثر یہ ہوا کہ خلیجی ممالک نے اپنی ہی ساتھی اور GCC کے ممبر ملک قطر کو الگ تھلگ کر دیا۔ انھوں نے قطر سے سفارتی تعلقات ختم کرلیے، فضائی سرحدیں اس کی پروازوں کے لیے ممنوع کردیں اور یہاں کے شہریوں کو اپنے اپنے ملکوں سے نکل جانے کے احکامات صادر کر دیے۔ خادم الحرمین اور اماراتی اتحاد اس مہم کی قیادت میں پیش پیش ہے اور مصری ڈکٹیٹر سیسی، خانہ جنگی کا شکار یمن اور شیعہ آبادی کی مخالفتوں کا سامنا کر رہا بحرین بھی اس میں شامل ہیں جب کہ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ لیبیا اور مالدیپ بھی اب سعودی عرب اور امارات کا ہاتھ تھام چکے ہیں۔

اس طرح کی بھی خبریں ہیں کہ سعودی عرب میں موجود یا زیارت کے لیے پہنچنے والے قطری شہریوں کو حرم شریف میں داخل ہونے سے بھی روک دیا گیا۔ حالاں کہ اس خبر کi اگلے ہی روز سعودی عرب کی جانب سے تردید کردی گئی۔ مگر تردید کرنے سے حقیقت تو تبدیل نہیں ہو جاتی۔ البتہ کچھ سیاسی فائدہ ضرور حاصل ہوجاتا ہے۔ قطر کے بائیکاٹ اور اس پر پڑوسی ممالک کی جانب سے ہر طرح کی پابندیوں کو امریکی صدر نے دورہ ریاض کے اثرات بتاتے ہوئے اس پر اپنے اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ ان کا اظہار اطمینان یقینا بجا ہے کہ وہ جس کام کے لیے آئے تھے اور جس مہم پر آئے تھے وہ اچھی طرح سے مکمل ہو رہی ہے۔

خلیجی ممالک کے ذریعے قطر کے بائیکاٹ کے ساتھ ہی جہاں عرب اتحاد کے پرخچے اڑ گئے وہیں عرب ممالک کی موثر اور فعال تنظیم OCC کی اہمیت اور اس کے اثر و رسوخ کو بھی سفید کپڑے میں لپٹ جانا پڑا بلکہ سعودی عرب اور امارات کے بارے میں یہ بات کھل کر سامنے آگئی کہ وہ امریکہ اور اسرائیل کے غلام ہیں اس کے علاوہ کچھ نہیں اور یہ بھی کہ خادم الحرمین کا ڈھونگ رچا کر سعودی حکمراں مسلم دنیا کو بے وقوف بنا رہے ہیں اور اصل میں تو یہ اسرائیل اور امریکہ ہی کی خدمت میں لگے ہیں۔

خلیجی ممالک کے ذریعے قطر کو نشانہ بنانے کے پیچھے کیا اسباب ہیں اس کا جائزہ بھی ضروری ہے۔ مگر یہ بات ذہن میں رہنی چاہیے کہ اس قطر دشمنی میں خلیجی ممالک کی حیثیت محض ایک مہرے کی ہے جب کہ اس کے پیچھے اصل اسباب و وجوہات وہ ہیں جو امریکہ اور اسرائیل کے لیے ہمیشہ پریشانی کا سبب رہی ہیں۔

 اس سلسلے میں ایک بات تو یہ ہے کہ قطر وہ ملک ہے جو امریکہ کے اسلحے کی منڈی سے اسلحے خریدنے میں دلچسپی نہیں دکھاتا رہا ہے۔ اس طرح امریکہ کا ایک پوٹینشیل خریدار اسے آنکھیں دکھائے تو نہ صرف اس کے مفاد پر زد پڑتی ہے بلکہ تکبر کو بھی ٹھیس پہنچتی ہے۔

 قطر وہ ملک ہے جو اپنی خارجہ پالیسی میں بیرونی دباؤ کو قبول نہیں کرتا اور اپنی آزادانہ خارجہ پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ اس بات کا کھل کر وہاں کے وزیر خارجہ نے پیرس میں ایک انٹرویو کے درمیان کیا تھا۔

 قطر پر یہ الزام لگایا جاتا رہا ہے کہ وہ ایران کا سپورٹ کرتا ہے اور س سے اچھے تعلقات رکھتا ہے۔ جب کہ عالمی طاقتوں کی پالیسیوں کے مطابق ایران غیر مقبول ممالک کی فہرست میں آتا ہے۔

 قطر کے خلاف جو چارج شیٹ پیش کی جاتی ہے اس میں اس بات کو بڑی اہمیت حاصل ہے کہ یہ حماس، اخوان المسلمون اور جزب اللہ کو دہشت گرد گروپ نہیں مانتا۔ اس طرح وہ عالمی طاقتوں کی نظر میں سزا کا مستحق قرار پاتا ہے۔

 مغربی دنیا میں جس طرح سیاسی پناہ کے لیے لندن معروف ہے اور ساری دنیا سے سیاسی پناہ کے طالب لندن میں پناہ گاہ ڈھونڈتے ہیں اسی طرح ’اسلامی‘ کا لیبل رکھنے والے ان گروپوں کے لیے جن کو دنیا ناپسند کرتی ہے قطر کو ایک پناہ گاہ کے طور پر بھی دیکھا جاتا ہے۔ جو اسلام مخالف طاقتوں کو کسی طرح قبول نہیں۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ حماس کے سیاسی رہ نما خالد مشعل اس وقت قطر ہی میں مقیم ہیں اور معروف اسلامی اسکالر اور عالم اسلام کی فعال معتبر شخصیت ڈاکٹر یوسف القرضاوی بھی قطر ہی میں مقیم ہیں جنہیں اخوان المسلمون کا عالمی رہ نما تصور کرایا جاتا ہے اور دہشت گردانہ سوچ کا فکری رہ نما گردانا جاتا ہے۔

آخر الذکر بات وہ ہے جس کے لیے عالمی طاقتیں کسی بھی طرح قطر کو معاف کرنے کی روادار نہ تھیں اور کچھ اب سامنے آیا ہے اس کے لیے کافی پہلے سے وہ کوشاں تھیں۔ ان کی خوش قسمتی اور عرب واسلامک دنیا کی بدقسمتی کہ وہ اپنی چالوں میں کامیاب رہیں اور قطر کو سیاسی، معاشی اور سفارتی سطح پر کمزور کرنے کے لیے غلامانہ ذہنیت کی حامل اور خود اپنا مفاد فراموش کر دینے والی ’عرب مسلم‘ مملکتوں کو استعمال کرنے میں کامیاب ہوگئیں۔

یہ جو کچھ بھی ہوا ہے، ہو رہا ہے اور مستقبل میں ہوگا ایک بڑے منصوبہ کا حصہ ہے اور اس میں سعودی عرب کا اہم ترین رول اب تو کھل کر سامنے آگیا ہے جب کہ دورۂ ٹرمپ سے پہلے سعودی عرب کے ایک وزیر قطر کو ’مرسی جیسا حشر کو دیں گے‘ کی دھمکی دے کر اس حقیقت کو تسلیم کرچکے تھے کہ مصر میں تین سال پہلے جو جمہوریت کا مثلہ ہوا اور ہزاروں بے گناہ انسانوں کا قتل عام ہوا، بڑی اکثریت سے منتخب عوامی نمائندوں کو فوجی حکومت نے جیل کے اندر کر دیا، اخوان کی قیادت ہی نہیں بلکہ اس سے کسی طرح کی وابستگی رکھنے والوں تک کو جو جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا گیا اس پورے قتل و خون اور ظلم و ستم میں ان ’خدام‘ کا رول تھا اور آج بھی ہے۔

اس پورے سلسلہ واقعات کے کے پیچھے اسرائیل کا تحفظ مقصود ہے۔ چناں چہ ہم دیکھتے ہیں کہ سعودی عرب سے ڈیل کے بعد امریکہ نے اسرائیل کو اسلحے کے میدان میں تعاون کے لیے 38 بلین ڈالر کی تاریخی امداد کا اعلان کر دیا۔ جب کہ بالواسطہ طور پر بھی اس پوری سیاست کے ذریعے GCC کی سیاسی حیثیت اور اثر و رسوخ ختم ہوجائے گا اور باہم دگر لڑکر خود کمزور ہوجائیں گے اور اگر ایسا نہ بھی ہو تو وہ اس لائق کبھی نہ ہوسکیں گے کہ اسرائیل کی طرف نظر اٹھا کر دیکھ سکیں۔ امریکہ اب اس طرف سے اطمینان کرلینا چاہتا ہے کہ اس خطہ میں اس کے لیے کسی طرح کا کوئی مسئلہ مستقبل میں کھڑا نہ ہو اور اگر کسی کو تعزیر کرنے کی ضرورت محسوس ہو بھی تو اسے خود یہ کام نہ کرنا پڑے جس طرح عراق اور افغانستان میں کرنا پڑا تھا۔ بلکہ اسے اسی طرح انجام دیا جائے جس طرح وہ یمن میں حوثی طاقتوں کے خلاف خود عربوں کے ہی اتحاد کو استعمال کر رہا ہے۔ اس طرح اسے دوہرا فائدہ ہے۔ ایک طرف تو براہ راست جنگ کی صورت میں ہونے والے اخراجات اور زحمتوں سے وہ محفوظ ہے، دوسرے یہ ممالک دفاعی سامان کی خریداری کے مارکیٹ کی حیثیت سے ترقی کریں گے۔

اخوان اور حماس جن دو بڑی اسلامی تنظیموں سے تعلق کی سزا قطر کو دی جا رہی ہے وہ اصل میں وہی طاقتیں ہیں جو کسی بھی وقت کسی بھی صورت میں اسرائیل کو چیلنج کرسکتی تھیں اس لیے ان دونوں طاقتوں کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے یہ لازم ہے کہ ان کو سیاسی پناہ سے محروم کر دیا جائے۔ اخوان المسلمون اور حماس پر دہشت گردی کا الزام لگانے کو آنکھ بند کر کے قبول کرنے والے عرب ممالک یہ بھول جاتے ہیں کہ گریٹر اسرائیل کی تشکیل میں اب تک یہی طاقتیں رکاوٹ بنی رہی ہیں اور اگر یہ رکاوٹیں نہ رہتیں تو یہ ساٹھ سال جو عرب ممالک نے سکون کی نیند سو کر گزارے ہیں، انہیں میسر نہ آئے ہوتے اور وہ بھی فلسطین کے بے گھر لوگوں کی طرح دنیا بھر میں پناہ تلاش کر رہے ہوتے اس لیے کہ گریٹر اسرائیل کی حدیں مصر سے عراق تک اور سیریا سے حجاز تک کے علاقے کو نگلنے کا خواب دیکھے ہوئے ہیں۔

سرزمین حجاز و حرم کو اسرائیلی توسیع پسندی کا چیلنج ہے اور خادم الحرمین اپنے حواریوں اور ہم خیالوں کے ساتھ ان طاقتوں کو جو اس راہ میں رکاوٹ ہیں دہشت گرد کہہ کر مطعون و ملعون قرار دے رہی ہیں۔ یہ ملت ابراہیمی سے اعراض اور اس دین حنیف سے بغاوت ہے جس کا مرکز خانہ کعبہ کی صورت میں انہیں دیا گیا ہے اور یہ کون کر سکتا ہے اس کے بارے میں قرآن کہتا ہے:

’’کون ہے جو ملت ابراہیم سے نفرت کرے سوائے اس کے جس نے خود کو جہالت و حماقت میں مبتلا کرلیا ہو۔‘‘ (البقرۃ:۱۳۰)

حرم کی تولیت و نگرانی اور حجاج کی خدمت کا کام ظلم کو نیکی میں تبدیل نہیں کر سکتا نہ یہ امت کے دفاع اور اس کے مفاد کے تحفظ کا بدل اور قائم مقام ہوسکتا ہے۔ نہ یہ ذمے داری کسی کو حق کی حمایت سے بے نیاز اور باطل کی طرف داری پر کفارہ بن سکتی ہے۔ نہ ہی یہ ذمہ داری، جس کو مرتبہ تصور کیا جاتا ہے، کسی کو حق کی حمایت سے بے نیاز اور اللہ کے راستے میں جدوجہد کرنے سے بری نہیں کرسکتی یہ روش تو ان لوگوں جیسی ہے جن کے بارے میں قرآن کہتا ہے:

’’کیا تم نے حاجیوں کو پانی پلانے اور مسجد حرام کی مجاوری کو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے جیسا ٹھہرا لیا ہے۔ اللہ کے نزدیک یہ دونوں برابر نہیں ہیں۔‘‘

اس وقت حق اور باطل کے درمیان جنگ اپنے شباب پر ہے اور اللہ تعالیٰ یہ دیکھ رہا ہے اور دنیا بھی کہ کون حق کے ساتھ کھڑا ہے اور کون باطل کی حمایت میں سرگرداں ہے۔ پس جو حق و باطل میں امتیاز ختم کردے گا یا حق کی حمایت کو چھوڑ دے گا یا حق کی حمایت کے مقابلے میں باطل کا ساتھ دے گا وہ خود اپنی تباہی کا سامان کرے گا، خواہ خادم الحرمین ہو یا ہندوستان کی سرزمین پر بسنے والا کوئی انسان۔ امت کے لیے بھی اور خود عرب حکمرانوں خصوصا سعودی عرب کے لیے زیادہ مناسب اور شایانِ شان یہ بات تھی کہ وہ امت اور امت کے معمولی حصے کا بھی بوقت ضرورت دفاع کرتے اور اگر ایسا نہ کرپاتے تو کم از کم دشمنوں کی صفوں میں تو نہ کھڑے ہوتے۔ اس عمل سے انھیں اسلامی دنیا کی نفرت اور اپنے اقتدار کے لیے چیلنجز کے علاوہ اور کچھ حاصل ہو پانا دشوار ہے۔

شیئر کیجیے
Default image
شمشاد حسین فلاحی

Leave a Reply