نرمی شخصیت کا حسن ہے!

حضرت عائشہ صدیقہؓ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

عَلَیْکِ بِالرِّفْقِ اِنَّ الرِّفْقَ لاَ یَکُوْنُ فِیْ شَیْئٍ اِلّاَ زَانَہٗ وَلاَ یُنْزَعُ مِنْ شَیْئٍ اِلّاَ شَانَہٗ (صحیح مسلم)

’’اے عائشہ! نرمی اختیار کرو، اس لیے کہ نرمی جس چیز میں بھی ہوتی ہے، اسے خوب صورت بنا دیتی ہے اور جس چیز سے بھی نرمی اتھالی جائے وہ اسے عیب دار کر دیتی ہے۔

نرمی، حسن کا باعث اور سختی اس کے برعکس خود عیب ہے یا اس کا سبب ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نرمی ایک پسندیدہ عمل ہے جس سے انسان کے اخلاق و کردار میں حسن پیدا ہوتا ہے اور جس سے عند اللہ مقبولیت حاصل ہوگی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ خود بھی نرمی فرمانے والا ہے اور نرمی کو پسند کرتا ہے اور نرمی پر اپنے بندوں کو نوازتا بھی ہے، اسی لیے نبی نے ایک اور حدیث میں فرمایا ہے:

’’جو نرمی سے محروم کر دیا گیا وہ بھلائی سے محروم کر دیا گیا۔‘‘ (صحیح مسلم)

کچھ لوگ سختی کو اچھا سمجھتے ہیں اور یہ گمان رکھتے ہیں کہ عزت و وقار سخت گیری میں ہے۔ چناں چہ وہ اپنے ماتحتوں، بیوی، بچوں اور دوستوں اور رشتے داروں کے ساتھ سختی سے پیش آتے ہیں تاکہ ان کے خیال میں ان کا وقار محفوظ اور رعب و دبدبہ قائم رہے لیکن ایسا سمجھنا خام خیالی اور کم عقلی ہے۔ سختی سے اگر دبدبہ قائم ہوتا بھی ہے تو وہ صرف ظاہری حد تک اور بالکل عارضی ہوتا ہے، جب کہ نرمی، پیار محبت اور شفقت سے جو وقار حاصل ہوتا ہے وہ انسانوں کے دلوں کی گہرائیوں میں جاگزیں ہوتا ہے اور نہایت پائدار ہوتا ہے حتی کہ موت بھی اس کو دلوں سے نکالنے پر قادر نہیں۔ مرنے کے بعد بھی نرم دل اور شفیق و مہربان شخص کو لوگ نہایت عزت و احترام سے یاد کرتے ہیں۔

شیئر کیجیے
Default image
محمد یوسف قاسمی

Leave a Reply