پالک کے پتے ہارٹ ٹشوز بن گئے…!

تجربہ گاہوں میں مصنوعی انسانی اعضا اگانے پر تجربات برسوں سے ہو رہے ہیں۔ اب تک اس ضمن میں کوئی نمایاں کام یابی حاصل نہیں ہوسکی تھی، مگر اب سائنس دانوں کے دعوے کے مطابق انھوں نے انسانی دل کی نسیجیں یا بافتیں (ٹشوز) تیار کرلی ہیں جنہیں کام میں بھی لایا جاسکتا ہے۔

آپ یہ جان کر حیران ہوں گے کہ سائنس دانوں نے یہ ٹشوز تخلیق نہیں کیے بلکہ انھوں نے پالک کے پتوں کو ٹشوز میں بدل دیا ہے۔ پالک کے پتے کا انسانی دل کی بافتوں میں بدل جانا یقینا تعجب خیز ہے مگر سائنس ایسے ہی حیرت انگیز کمالات کا نام ہے۔

سائنس کی بدولت آج متعدد ایسی اشیاء وجود پاچکی ہیں، ماضی میں جن کا تصور نہیں کیا جاسکتا تھا۔

انسانی جسم میں شریانوں اور وریدوں کا انتہائی پیچیدہ جال پھیلا ہوا ہے۔ سائنس دانوں نے تھری ڈی پرنٹنگ کی مدد سے یہ پیچیدہ نظام تخلیق کرنے کی کوشش کی تھی مگر کام یاب نہیں ہوسکے۔ اب پالک کے پتوں کی صورت میں انہیں وہ طریقہ نظر آگیا ہے جس کے ذریعے وہ انسانی بافتوں میں پھیلے شریانی اور وریدی نظام کی ہوبہو نقل تیار کرسکتے ہیں۔ ماہرین کو امید ہے کہ مستقبل میں اس نقل کو اصل کی جگہ استعمال بھی کیا جاسکے گا۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ پالک کے پتوں میں رگوں کا جال ہوتا ہے جن کے ذریعے کیمیکل پودے کے مختلف حصوں میں پہنچتا ہے۔ بالکل اسی طرح انسانی رگیں خون کی ترسیل کرتی ہیں۔ ماضی میں سائنس داں بہت چھوٹے پیمانے پر انسانی بافتیں بنانے میں کام یاب ہوئے تھے، مگر پالک کے پتوں کی صورت میں انہیں کہیں بڑی جسامت کے ٹشوز ہاتھ لگ گئے ہیں۔

پالک کے پتوں کو دل کی بافتوں میں بدلنے کے لیے سائنس دانوں نے سب سے پہلے انہیں نباتاتی خلیوں سے محروم کیا۔ اس کے لیے پتوں کی رگوں میں کیمیکل داخل کیا گیا۔ اس مرحلے میں پتوں کا سبز رنگ غائب ہوگیا اور وہ بالکل شفاف ہوگئے۔ اگلے مرحلے میں پتے کی رگوں میں انسانی خون کی خلیات داخل کیے گئے۔ یہ بالکل انسانی وریدوں اور شریانوں کی طرح پتے کی رگوں میں سے گزرنے لگے۔

مصنوعی ہارٹ ٹشوز کی تخلیق کا سہرا بایومیڈیکل انجینئرنگ کے پروفیسر گلین گوئڈٹ کے سر ہے۔ پروفیسر کے مطابق ان پتوں کی انسانی جسم میں پیوند کاری کے تجربات کے لیے وقت درکار ہوگا، تاہم ان تجربات کی کام یابی بایو میڈیکل انجینئرنگ کے میدان کو نئی زندگی بخشے گی جسے ان گنت مسائل کا سامنا ہے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
ماخوذ

Leave a Reply