معاشرے میں تبدیلی کیسے؟

اصلاح معاشرے میں مثبت تبدیلی کے لیے طرح طرح کے نسخے تجویز کیے جاتے رہے ہیں۔ لیکن حقیقی تبدیلی اسی وقت ہوسکتی ہے جب عورت اور مرد کے پیدا کرنے والے نے جو نسخہ کیمیا تجویز کیا ہے اس پر عمل کیا جائے۔ کیوں کہ جو مشینری کو بناتا ہے اس کی خوبیوں اور خامیوں سے پوری طرح واقف ہوتا ہے۔ ایک کار اور ٹرک دوسری کار اور ٹرک کے خامیوں کو درست نہیں کرسکتے۔ ان خامیوں کو درست کرنے والا اس کا انجینئر یا میکنک ہی ہوسکتا ہے۔

انسانوں کا خالق و مالک خداوند قدوس ہی اس کا اصل انجینئر ہے اور حضرت آدم علیہ السلام تا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے حقیقی میکینک رہے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب جب پیغمبروں کی ہدایات پر عمل کیا جاتا رہا۔ عورت اور مرد کے تعلقات میں اعتدال اور توازن اور خوش گوار عدل و انصاف قائم رہا۔ آج بھی جن گھروں میں ان اصولوں پر عمل درآمد ہوتا ہے ان گھروں میں کسی کے خلاف ظلم و زیادتی کا شائبہ تک نہیں پایا جاتا۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ گھرانوں کے مرد اور خواتین اصلاح معاشرہ کے لیے کچھ وقت فارغ کریں اور اسلامی قوانین بالخصوص اسلام کے عائلی قوانین کی ضرورت اور اہمیت اور اس کے خیر و برکت کو دنیا کے سامنے پیش کریں۔ کیوں کہ امت مسلمہ کو اللہ نے خیر امت بنایا ہے اور یہ کام ہمارے فرائض میں داخل ہیں۔

اس تبدیلی کو عملی شکل دینے کی مختلف تدبیریں ہو سکتی ہیں:

(۱) مثلاً سوا سو کروڑ کی ہندوستانی آبادی میں تقریباً ۲۰ فیصد مسلمان ہیں ان میں سے اگر ۲۰ لاکھ مسلمان اپنی ذاتی زندگی کو اسلامی اصولوں کے مطابق ڈھال لیں اور اپنے آس پاس کے ماحول کو بدلنے کی عملی کوشش شروع کردیں تو پورے ہندوستانی سماج میں ایک انقلاب عظیم برپا ہوسکتا ہے۔

(۲) ہر مسلمان مرد و عورت کا آس پاس کے دوسرے مذاہب کے مرد و عورت سے بھی کسی نہ کسی طرح کا ربط و تعلق ضرور ہوتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان غیر مسلم مرد و خواتین سے اپنے اپنے دائرے میں مخلصانہ تعلق پیدا کیا جائے، ان کے دکھ سکھ میں کام آیا جائے، تہواروں میں اپنے حدود میں رہتے ہوئے شرکت کی جائے، تحفے تحائف کا لین دین کیا جائے اور ان تمام موقعوں پر اسلامی آداب زندگی کا عملی ثبوت دیا جائے۔

(۳) آج کے سماج کی خاندانی زندگی صنعتی اور تکنیکی انقلاب کی وجہ کر نہ صرف بکھر کر رہ گئی ہے بلکہ ٹی وی، موبائل، انٹرنیٹ اور کمپیوٹر کی وجہ سے ہر فرد جہاں معلومات کے سیلاب کی زد میں ہے وہیں بے حیائی، فحاشی، بد اخلاقی اور بدکاری کی آندھیوں کی بھی زد میں ہے۔ اس سیلاب بلا اور ہلاکت خیز آندھیوں سے بچنے کی ایک کارگر صورت یہ ہے کہ ہر محلہ میں اور خاندانی سطح پر بھی ہفتہ وار یا ماہانہ فیملی اسلامی اجتماع کریں۔ اور محلہ پیمانے پر عید، بقرعید ملن اور کسی بہانے سے ششماہی اور سالانہ پروگرام کو عملی جامہ پہنایا جائے۔

(۴) جو لوگ صاحب قلم اور صاحب زبان ہوں اپنی اپنی تحریر و تقریر کے ذریعے اس پیغام کو پورے سماج میں عام کریں۔lll

شیئر کیجیے
Default image
غزالہ پروین (رانچی)

Leave a Reply