غزل

میری آنکھوں کا اُجالا بھی وہی تھا

میرے اندر جلنے والا بھی وہی تھا

اس کی ہی توفیق سے مہتاب تھا میں

میرے گرد و پیش ہالہ بھی وہی تھا

سب سے گھل ملنے کی عادت بھی تھی اس میں

ساری دنیا سے نرالا بھی وہی تھا

عابد و معبود کا وہ تھا تسلسل

اپنے اندر اک شوالہ بھی وہی تھا

خاک کی تہہ میں جب اترا وہ تو جانا

میری شہرت کا حوالہ بھی وہی تھا

مسئلوں سے تھا وہی سینہ سپر بھی

وحشی لمحوں کا نوالہ بھی وہی تھا

شیئر کیجیے
Default image
احمد نثار

Leave a Reply