غزل

پھر یاد مجھ کو دوستو بچپن کی آگئی

میری خطائیں ماں جو ہنسی میں اڑا گئی

بیوہ نے اپنے در پہ جو دیکھا کھڑے ہوئے

کوئی امیر زادہ تو وہ تھرتھرا گئی

غربت نے گھر تو چھوڑ دیا میرا دوستو

پر جاتے جاتے ڈوبتا سورج دکھا گئی

تو کر رہا تھا بات تو امن و امان کی

پھر کیسے تیرے ہاتھ میں تلوار آگئی

ہے بے حیا زمانے میں زندہ ابھی تلک

اک باحیا کو شدتِ احساس کھا گئی

پانی پلا کے دیکھئے کتے کو دوستو

عقبیٰ کو اپنی ایک طوائف بنا گئی

ناداں اب اتنی رات کو آئے گا کیوں کوئی؟

شاید ہوا تھی در جو ترا کھٹکھٹا گئی

شیئر کیجیے
Default image
نعیم ناداں سہس پوری

Leave a Reply