ایک شمع جلانی ہے (چھٹی قسط)

عظمت زندگی کو بیچ دیا

ہم نے اپنی خوشی کو بیچ دیا

’’کیا ہوا میری بچی؟ اس طرح کیوں رو رہی ہو؟‘‘ ڈھلتی شام کے وقت جب غافرہ گھر پہنچی تو ماں باپ کو دیکھ کر ضبط کے سارے بند ٹوٹ گئے اور وہ بری طرح رونے لگی اس کے یوں اچانک آجانے اور روئے جانے سے سب پریشان ہوگئے۔

’’کیا ہوگیا بیٹا…؟ ابتسام کہاں ہے؟ سب خیریت سے تو ہے نا!‘‘ بیگم فائقہ کا تو دل ہول رہا تھا۔ بیٹی کا یوں تن تنہا بیگ لیے گھر آجانا اور اس پر سے یہ انداز… کسی ان ہونی کی طرف اشارہ کر رہا تھا۔

’’ابتسام نے مجھے گھر سے نکال دیا ہے۔‘‘ غافرہ نے بہتے آنسو کے ساتھ بھرائے لہجے میں کہا تو ہر طرف سناٹا چھا گیا… یاسر صاحب، بیگم فائقہ، عفان، سویرا سبھی کے ذہنوں پر بے شمار خیالات، خدشات اور واہموں نے یک دم حملہ کر دیا لیکن فی الحال سبھی غافرہ کو سنبھالنے لگے۔ سویرا نے آگے بڑھ کر اسے خود سے لگا لیا اور عفان نے اس کے ہاتھ سے بیگ لے لیا۔

’’اچھا چلو رونا بند کرو میری بچی! اطمینان سے بیٹھ جاؤ، سویرا بہن کے لیے پانی لے آؤ۔ آرام سے بیٹھ کر بات کریں گے۔‘‘ یاسر صاحب نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے محبت سے کہا تو اس کا دل ایک بار پھر بھر آیا۔

باپ کی محبت کا بدل بھلا کچھ ہے کیا؟ کیسی ہی غلطی کرلو، کچھ بھی کرلو باپ کی چھاؤں ہمیشہ قائم رہتی ہے اور اس کی محبت کا پیمانہ ہمیشہ لبریز ہی رہتا ہے۔ اپنے ابو کے شفقت بھرے لمس نے غافرہ کو ایک بار پھر رلا دیا۔ وہ کیا کر آئی ہے، سمجھ نہیں پا رہی تھی۔مگر اس کے ساتھ کیا ہوگیا؟ اس کا اسے احساس ہونے لگا تھا۔

٭٭٭

کبھی رک گئے کبھی چل دیے، کبھی چلتے چلتے بھٹک گئے

یوں ہی عمرساری گزار دی، یونہی زندگی کے ستم سہے

بھرائی آواز اور مسلسل بہتے آنسوؤں کے درمیان غافرہ نے ساری بات سنائی اور سچ تو یہ ہے کہ یک طرفہ بات سنائی۔ اور اگر بات یک طرفہ بھی ہوتی تو شاید قابل قبول ہوتی لیکن ستم بالائے ستم اس نے بلاتکلف مبالغہ سے کام لیا۔ کچھ دل بھی دکھا ہوا تھا، کچھ ابتسام سے جڑی توقعات کے ٹوٹنے کا درد تھا، کچھ خود کے بے مول ہونے کا احساس تھا کہ اس نے بہت سی غیر اہم اور معمولی باتوں کو بھی غیر معمولی بنا کر پیش کر دیا تھا۔

ساس، نند، بھابھی، غرض یہ کہ سبھی کے متعلق کہنے کو اس کے پاس بہت کچھ تھا۔ زخم تازہ تازہ تھا تو ابتسام سے جڑی ہر اچھی بات اور خوب صورت یاد کو پیچھے ڈال کر ہر تلخ بات کا اس نے ذکر کیا۔ خود کو دنیا کی مظلوم ترین بیوی ثابت کرنے میں اپنی حدتک اس نے شاید ہی کوئی کوئی کسر چھوڑی ہو۔ ابتسام سے جڑا اس کی توقعات کا ایک پہاڑ تھا جو ٹوٹ ٹوٹ کر گر رہا تھا اور اس کا درد اور اس سے پہنچنے والی تکلیف کو غافرہ برداشت نہیں کر پا رہی تھی۔ قصہ مختصر یہ کہ اگر اس کی ساری باتوں کو مجموعی طور پر دیکھا جائے تو کوئی بھی یہی سمجھے کہ اس نے شادی کے بعد کا یہ ایک سال اس قدر تکلیف میں کیسے گزار دیا۔ دوسری طرف یہ تصور کرے گا کہ ان کی بیٹی کس قدر صابر اور برداشت کی قوت سے بھرپور ہے۔

سبھی سر تھام کر بیٹھ گئے تھے۔ سویرا نم آنکھیں لیے بہن کا ہاتھ تھامے بیٹھی تھی، یاسر صاحب اور عفان گہری سوچوں میں ڈوب گئے تھے اور فائقہ بیگم کی تو حالت دیکھنے کے قابل تھی۔

’’یا اللہ… میری شہزادی جیسی بیٹی، جسے ہم نے پھولوں کی چھڑی سے بھی نہیں مارا اس کا یہ حال… وہ تو بڑے چاؤ سے بیاہ کرلے گئے تھے۔‘‘ فائقہ بیگم واویلہ کرنے لگیں جسے یاسر صاحب نے ناگواری سے دیکھا اور تنبیہی لہجہ میں کہا ’’فائقہ بیگم، سنبھالیے خود کو اس طرح واویلہ مت مچائیں۔ کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے۔ میاں بیوی میں اکثر اس قسم کے جھگڑے اور مسائل ہوجاتے ہیں۔ میں بات کرتا ہوں ابتسام سے وہ سلجھا ہوا لڑکا ہے۔ غصہ میں کچھ کم زیادہ ہوگیا ہوگا۔‘‘

یاسر صاحب کی سنجیدہ لہجے میں کہی گئی بات تو مانو فائقہ بیگم کو چرکے کی طرح لگی تھی اور وہ جل کر رہ گئی تھیں۔

’’کیا سلجھا ہوا لڑکا؟ اور کہاں کا سلجھا ہوا لڑکا؟ دیکھا ہے اپنی بیٹی کا حال؟؟؟ شادی کے بعد سے اس کو اب تک سکون کا ایک لمحہ بھی نہ ملا، گرل کر رہ گئی ہے ہماری بیٹی! بے قدروں میں دے دیا تھا اسے!! ارے کیا سمجھ کر گھر سے نکالا ہے اس نے میری بیٹی کو؟ وہ لاوارث تو نہیں ہے اور ان کی والدہ محترمہ کہاں تھیں اس وقت؟ یہ نہ ہوا کہ بیٹے کو روکتیں۔ ان ہی نے بہکایا ہوگا اسے۔ ہماری بیٹی بھاری نہیں ہے ہم پر سمجھے آپ؟ فائقہ بیگم جلال میں آگئی تھیں انہیں وہ دن بڑی شدت سے یاد آگئے جب وہ بھی یونہی شادی کے ابتدائی دور میں یاسر صاحب سے ناراض ہوکر اپنے گھر چلی گئی تھیں تب ان کی امی نے خاموشی سے ساری بات سنی تھی۔ اسے چائے پانی دیا اور رات میں اچھا سا کھانا کھلایا تھا۔ اس رات اسے اپنے ساتھ ہی سلایا اور پھر دوسرے دن انہیں ان کے بیگ سمیت ابا میاں کے ساتھ دوبارہ یہ کہہ کر اس کے گھر بھیج دیا تھا کہ ’’فائقہ اب یہاں تم کو یاسر کے ساتھ ہی آنا ہے۔ وہ تمہیں یہاں خوشی خوشی آنے کی اجازت دے تو آؤ جب دل چاہے آؤ۔ ہم تمہیں آنے سے نہ روکیں گے۔ لیکن یوں اس طرح آؤگی تو اس گھر کا دروازہ اب تمہارے لیے نہیں کھلے گا۔ جاؤ اپنا گھر بساؤ…‘‘ فائقہ بیگم تو شاک میں رہ گئی تھیں بہت دن تو انھوں نے اسی بات کے ماتم میں گزارے تھے۔ ماں سے ناراض بھی رہی تھیں… لیکن وہ اب اپنی بیٹی کے ساتھ ایسا نہیں کر رہی تھیں۔ وہ اس کے لیے ایک مضبوط سہارا بننے کی بات کر رہی تھیں لیکن صد افسوس کہ وہ بھول رہی تھیں کہ ماں کے اسی سخت رویہ نے ان کے گھر کو اجڑنے اور رشتے کو ٹوٹنے سے بچایا تھا اور محض ان کی اس دو ٹوک بات کے سبب ہی وہ اپنے گھر میں تھیں اور باعزت زندگی گزار رہی تھیں۔

’’بیٹیاں کسی پر بھاری نہیں ہوتیں فائقہ بیگم‘‘ یاسر صاحب کی آواز انہیں سوچوں سے باہر لے آئی۔بس زمانے کی نظریں اور باتیں بھاری ہوتی ہیں۔ وہ فکریں بھاری ہوتی ہیں جو شادی شدہ بیٹی کے یوں گھر بیٹھ جانے سے جڑی ہوتی ہیں۔ شادی کے بعد بیٹی اپنے شوہر کے ساتھ ہنستی بستی ہی اچھی لگتی ہے اور دل کا قرار اور آنکھوں کی ٹھنڈک محسوس ہوتی ہے اور یوں شوہر سے ناراض ہوکر گھر آجائے تو باپ کے دل پر بھاری بوجھ بن جاتی ہے۔۔۔‘‘ یاسر صاحب کے لہجے میں گھلی اداسی اگرچہ غافرہ کو بھی تڑپا گئی تھی مگر ابھی اسے خود کا دکھ بہت زیادہ محسوس ہو رہا تھا۔ وہ اپنے ابو کی باتوں کی گہرائی اور معاملہ کی نزاکت کو سمجھ نہیں پائی تھی مگر کمال تو فائقہ بیگم کر رہی تھیں۔

’’ایک بات تو آپ سمجھ لیجئے غافرہ کے ابا… ابتسام نے اسے خود گھر سے نکالا ہے اور اب جب تک وہ خود اِسے یہاں لینے نہیں آئے گا غافرہ یہاں سے نہیں جائے گی اور اسے غافرہ کو ہماری شرائط پر ہی یہاں سے لے جانا ہوگا۔ میری پہلی شرط یہ ہوگی کہ وہ اسے علیحدہ گھر لے کر دے گا۔ میں اب اپنی بچی کو یوں ان بے قدروں میں رلنے نہیں دوں گی۔ ہیرا جیسی بیٹی ان کے حوالے کی تھی میں نے… کیا حال کر دیا ہے اب انھوں نے اس کا۔‘‘ وہ دو پٹہ منہ میں دبائے سسکیاں بھرنے لگیں تو غافرہ کے آنسوؤں میں مزید تیزی آگئی جب کہ یاسر صاحب بے چارے گڑبڑا گئے۔ بڑی بے بسی و بے چارگی کے ساتھ مدد طلب نظروں سے عفان کو دیکھنے لگے تو عفان نے کچھ سمجھتے ہوئے گردن ہلائی اور ماں کے پاس آبیٹھا۔

’’امی آپ سچ کہہ رہی ہیں۔ ہم سب ہیں نا غافرہ کے ساتھ۔ جیسا آپ چاہ رہی ہیں ویسا ہی ہوگا۔‘‘ عفان دھیرے دھیرے ماں کا ہاتھ سہلاتے ہوئے کہنے لگا۔ بیٹے کا سہارا پاکر جہاں ایک لمحے کے لیے فائقہ بیگم کو ہمت ملی وہیں اس کے اگلے الفاظ نے ان کا دماغ خراب کر دیا۔

’’لیکن ایک بار ہمیں ابتسام بھائی سے بھی تو بات کرنی چاہیے نا؟ ان کی طرف کی بات بھی سننی چاہیے۔ یوں یک طرفہ بات سن کر ہی تو ہم کوئی فیصلہ نہیں کرسکتے نا۔ ہوسکتا ہے جذبات میں ہونے کی وجہ سے غافرہ نے ان کی کچھ باتوں کو غلط انداز میں سمجھا ہو اور منفی مطلب لیا ہو اور ممکن ہے ابتسام بھائی اس طرح نہ کہنا چاہتے ہوں۔ یہ ایک نازک رشتہ کا نازک موڑ اور نازک معاملہ ہے، کسی بھی قسم کی ناگوار یا تلخ بات یا فضول ضد اس رشتے پر اثر انداز ہوسکتی ہے۔ ہم حکمت و محبت سے معاملے کو سلجھا لیں گے نا‘‘ عفان نے اپنی تئیں حکمت بھرے، نرم انداز میں ماں کو سمجھانے کی کوشش کی مگر…

’’بھائی آپ کو مجھ پر بھروسہ نہیں… آپ کو لگ رہا ہے کہ میں جھوٹ بول رہی ہوں؟ آپ کی نظر میں بہن ہی بری ہے۔‘‘ غافرہ روتی ہوئی جھٹکے سے کھڑی ہوگئی اور اسی طرح روتی ہوئی کمرہ سے باہر نکل گئی۔ جب کہ بے چارہ عفان تو بوکھلا کر رہ گیا تھا۔

’’دیکھ عفان! مجھے یقین ہے کہ غافرہ جو کہہ رہی ہے وہی سچ ہے، میں بہت پہلے سے اس کے حالات جانتی ہوں۔ (کاش کوئی فائقہ بیگم کو بتاتا کہ حالات انھوں نے بگاڑے ہیں) مگر میں نے سوچا تھا کہ دھیرے دھیرے ابتسام سمجھ جائے گا اور سب ٹھیک ہوجائے گا لیکن اب پانی سر سے اوپر چڑھ گیا ہے۔ اب نہ غافرہ برداشت کرے گی اور نہ ہم۔‘‘ فائقہ بیگم نے عفان کو آڑے ہاتھوں لیا اور اس پر بھی بس نہ کیا اور بھی خوب سنائیں اسے۔

’’جمعہ جمعہ آٹھ دن نہیں ہوئے شادی کی تاریخ طے ہوئے ابھی سے بہن کو آنکھیں دکھانے لگے۔ میں جب تک زندہ ہوں یہ گھر میرا ہے۔ دیکھتی ہوں میں کون کیا کرلیتا ہے یہاں؟‘‘فائقہ بیگم نے باتوں کو اپنی مرضی سے دوسرا ہی رخ دے دیا تھا۔ حالاں کہ انہیں چاہیے تھا کہ وہ عفان کی باتوں کی حقیقت سمجھتیں اور اس پر غور کرتیں جب کہ عفان تو پریشان ہی ہوکر رہ گیا اور پھر خاموشی اختیار کرلی۔

یہ سچ تھا کہ غافرہ کی کتھا سن کر اور فائقہ بیگم و غافرہ کا انداز دیکھ کر اسے اپنی شادی کا معاملہ ایک عرصہ تک کے لیے کھٹائی میں جاتا نظر آرہا تھا مگر یہ بات اس نے خلوص نیت، سچے دل اور محبت سے ہی کہی تھی۔ بھائی، بہنوں سے بہت محبت کرتے ہیں، وہ ان کا گھر بنانے اور رشتہ سنبھالنے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں لیکن بعض بہنیں خود ہی اپنا گھر جوڑے رکھنا نہیں چاہتیں اور تو اور بھائی کے گھر کے پیچھے بھی پڑ جاتی ہیں۔تو پھر بھائی بے چارہ کیا کرے؟

خیر تو اب حالات کچھ یوں تھے کہ فائقہ بیگم ضد میں آگئی تھیں۔ یاسر صاحب اور عفان کی کچھ چلنے والی نہ تھی اس معاملہ میں۔زندگی کے اس پڑاؤ میں مرد حقیقتاً بیوی کے زیر اثر ہی ہوتا ہے۔ نہ جانے کیا سوچ کر؟یا شاید یہ سوچ کر کہ ساری عمر تو بیوی نے ہی گھر سنبھالا اور معاملات دیکھے ہیں تو اب بھی دیکھ ہی لے گی۔ لیکن اصولاً تو یہ ہونا چاہیے کہ اگر رشتے ٹوٹ رہے ہوں اور معاملات بگڑ رہے ہوں تو یہ ضرور دیکھا جائے کہ غلطی کہاں ہے؟ کچھ معاملات میں عورتیں جذباتی ہوتی ہیں کیوں کہ وہ ماں ہوتی ہیں تو ایسے وقت میں مرد اپنی حکمت عملی بھی تو دکھائے…!! خیر۔

اور رہی سویرا تو وہ معصوم خیر سے کسی گنتی میں ہی نہ تھی۔ غافرہ صرف اپنا سوچے جا رہی تھی۔ اور نہ جانے وہ کیا سوچے جا رہی تھی؟ اور وہ عدومبین ’کھلا دشمن‘ اپنی ڈالی چنگاری سے لگنے والی آگ میں ہاتھ تاپ رہا تھا۔ وہ تو بس وسوسہ ڈال کر بھاگ جانے والا ہے اور پھر بھاگ بھاگ کر واپس آتا ہے، پلٹ پلٹ کر آتا ہے یہ دیکھنے کے لیے کہ ان کے ڈالے گئے وسوسوں کا نتیجہ کیا نکلا اور افسوس صد افسوس کہ انسان حقیقتاً بڑا جلد باز واقع ہوا ہے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
سمیہ تحریم امتیاز احمد

Leave a Reply