لکیریں

میں اداسی میں اکثر کسی جھیل، کسی آبشار یا کسی جنگل میں جا بیٹھتا ہوں اور اس وقت تک وہاں بیٹھا رہتا ہوں جب تک میرا دل ہلکا نہیں ہو جاتا۔ میں ۲۰۱۱ء میں بھی اسی قسم کی صورت حال کا شکار تھا۔ میرا دل بھاری تھا، میں شدید ڈپریشن کا شکار تھا اس وقت میں سوئٹزر لینڈ کے ایک غیر معروف گاؤں میں تھا، میں نے وہاں ایک قبر پر سرخ گلابوں کا گلدستہ رکھا، فاتحہ پڑھی اور قبرستان کی سیڑھیاں اترتے اترتے نیچے جھیل تک چلا گیا۔

دنیا میں سب سے زیادہ پہاڑ سوئٹزر لینڈ میں ہیں۔ یہ پہاڑی ملک ہے۔ آپ کسی شہر، کسی قصبے یا کسی گاؤں میں چلے جائیں پہلے آپ کی ملاقات پہاڑ سے ہوگی، پھر آپ کسی نہ کسی جھیل سے ملیں گے اور آپ آخر میں گاؤں یا قصبے میں داخل ہوجائیں گے۔ میں بھی ایک ایسے ہی گاؤں میں تھا۔ وہ گاؤں پہاڑ کی اترائیوں پر آباد تھا۔ میں نے دنیا میں اس گاؤں کے قبرستان سے زیادہ خوب صورت قبرستان نہیں دیکھا۔ میرا ایک عزیز دوست اس قبرستان میں دفن ہے۔ میں ۲۰۱۱ء سے وہاں جا رہا ہوں۔ میں قبر پر پھول چڑھاتا ہوں اور قبرستان سے اترتا ہوا جھیل تک چلا جاتا ہوں۔

گاؤں کے نیچے سوئٹزر لینڈ کی تیسری بڑی جھیل ہے۔ یہ جھیل، جھیل کم اور سمندر زیادہ دکھائی دیتی ہے۔ جھیل میں بحری جہاز چلتے ہیں۔ میرا دل اس دن بہت اداس تھا، میں سیڑھیاں اترتے اترتے جھیل کے کنارے پہنچ گیا اور وہاں آہستہ آہستی واک کرنے لگا۔ مجھے ٹینشن، ڈپریشن اور اداسی میں پانی کے ساتھ آہستہ واک ہمیشہ سوٹ کرتی ہے۔ میں واک کرتے کرتے جھیل کے آخری سرے تک پہنچ گیا۔ جھیل کے آخر میں تین قلعہ نما گھر تھے اور چٹان پر بنے ہوئے تھے، پتھر کی سیڑھیاں پانی تک آتی تھیں۔

سیڑھیوں کے آخر میں چھوٹی چھوٹی تین گودیاں تھیں اور ان گودیوں میں نیلے اور سفید رنگ کی تین موٹر بوٹس کھڑی تھیں۔ گھروں کے پیچھے سرسبز پہاڑ تھا، گھر کا پچھلا راستہ پہاڑ کی طرف کھلتا تھا، دوسرا راستہ آگے چل کر واکنگ ٹریک بن جاتا تھا۔ گھروں کو سرخ، پنک اور سفید بوگن بیل کے لاکھوں پھولوں نے ڈھانپ رکھا تھا۔ سبز پہاڑ، سبز پہاڑ کے قدموں میں تین قلعہ نما گھر اور گھروں کے قدموں میں جھیل۔ میں وہ منظر دیکھ کر رک گیا۔ وہ منظر، منظر نہیں تھا، وہ کلینڈر کی خوب صورت تصویر تھی۔

شام کے رنگ گہرے ہو رہے تھے۔ جنگلی پرندے اور سفید بگلے ان گہرے ہوتے رنگوں میں آب حیات گھول رہے تھے۔ میں گھروں کے قدموں میں پتھر کی بینچ پر بیٹھ گیا، مجھے محسوس ہوا کہ دنیا کے تمام حسین مناظر روز اس منظر کا طواف کرنے یہاں آتے ہوں گے۔ وہ یہاں ماتھا ٹیک کر آگے جاتے ہوں گے۔ میں بڑی دیر وہاں بیٹھا رہا۔ میں محویت میں کبھی پہاڑوں کی طرف دیکھتا تھا، کبھی جھیل میں گم ہوجاتا تھا اور کبھی سرخ، پنک اور سفید پھولوں میں چھپے مکانوں کو دیکھنے لگتا۔ سکوت کے اس عالم میں اچانک ایک آواز گونجی ’’آپ کافی میں چینی لیتے ہیں؟‘‘ آواز مردانہ تھی، لہجہ ہندوستانی تھا اور الفاظ اردو کے تھے۔ میں نے گھبرا کر پیچھے دیکھا، مکان کی کھڑکی میں ایک بوڑھا ہندوستانی کھڑا تھا۔

وہ مسکرا کر میری طرف دیکھ رہا تھا، چہرے پر اپنائیت تھی۔ میں نے اونچی آواز میں جواب دیا۔ ’’میں چینی نہیں لیتا۔‘‘ اس نے قہقہہ لگایا، پھر ’’ہم پرابلم‘‘ کا نعرہ لگایا اور غائب ہوگیا۔ میں نے تھوڑی دیر بعد اسے سیڑھیاں اترتے دیکھا، اس کے دونوں ہاتھوں میں کافی کے مگ تھے، وہ سیڑھیاں اتر کر میرے پاس پہنچا، مگ بینچ پر رکھے اور اپنا ہاتھ میری طرف بڑھا دیا۔ ’’مائی نیم از موہن‘‘ میں نے بھی اپنا ہاتھ اس کی طرف بڑھا دیا۔ موہن کا ہاتھ بہت نرم تھا، مجھے یوں محسوس ہوا جیسے میں نے کسی مچھلی سے ہاتھ ملا لیا ہے۔ وہ میرے ساتھ بینچ پر بیٹھ گیا۔

وہ چنئی کا رہنے والا تھا، بزنس مین تھا، تین میں سے ایک مکان اس کی ملکیت تھا، وہ ہر دو ماہ بعد ایک ہفتے کے لیے وہاں آتا تھا۔ کشتی رانی کرتا تھا، پہاڑ پر ٹریکنگ کرتا تھا اور کتابیں پڑھتا تھا۔ وہ غالب کا فین تھا، اسے غالب کے درجنوں شعر یاد تھے۔ وہ مجھے شروع میں ہندوستانی سمجھا پھر اس نے اندازہ لگایا کہ ہندوستان کا کوئی شہری دو گھنٹے ٹک کر نہیں بیٹھ سکتا۔ ’’ہو نہ ہو، تم پاکستانی ہو، میں نے سوچا، میں نے کافی بنائی، چینی کا پوچھا اور کافی لے کر تمہارے پاس آگیا۔ ‘‘ ہم سورج ڈوبنے تک گپیں مارتے رہے۔ وہ مجھے اس کے بعد گھر کے اندر لے گیا۔

وہ گھر اندر سے بہت خوب صورت تھا۔ لکڑی کی اونچی چھتیں، پرانا وکٹورین فرنیچر، دو دو ٹن بھاری بیڈ اور پتھر کی پرانی فائر پلینز، وہ گھر نہیں محل تھا۔ موہن نے بتایا کہ یہ گھر دیڑھ سو سال پرانا ہے اور یہ اس نے دو سال پہلے دس ملین ڈالر میں خریدا تھا ’’مجھے یہاں بہت شانتی ملتی ہے‘‘ اس نے بڑے فخر سے کہا۔ میں نے جواب دیا: ’’آپ کو اگر شانتی نہ ملتی تو آپ دس ملین ڈالر کیوں خرچ کرتے؟‘‘ اس نے قہقہہ لگا کر سرہاں میں ہلا دیا۔ میں نے اس سے پوچھا ’’آپ نے بزنس کب شروع کیا تھا؟‘‘ اس نے قہقہہ لگایا اور بولا ’’میں اس وقت پندرہ سال کا لڑکا تھا۔‘ میں غور سے موہن کی طرف دیکھنے لگا، موہن نے اس کے بعد بڑی دلچسپ داستان سنائی۔

وہ جھونپڑ پٹی سے تعلق رکھتا تھا، باپ شراب پی پی کر مر گیا۔ ماں نے اسے دوسروں کے گھروں میں برتن اور کپڑے دھوکر پالا۔ وہ پندرہ سال کا تھا تو اس نے چائے کا چھوٹا سا کھوکھا بنا لیا۔ وہ کھوکھے کا مالک بھی تھا، کک بھی اور ویٹر بھی۔ وہ روز سو ڈیڑھ سو روپے کما لیتا تھا۔ گھر میں خوش حالی آگئی مگر وہ مزید ترقی کرنا چاہتا تھا۔ چنئی یونیورسٹی کا ایک پروفیسر صبح کے وقت اس کے کھوکھے سے چائے پیتا تھا، وہ بچے کی محنت پر خوش تھا، وہ اسے روز کوئی نہ کوئی نئی بات سکھاتا تھا۔

موہن نے ایک دن پروفیسر سے پوچھا: ’’ماسٹر کیا میں بھی بڑا آدمی بن سکتا ہوں؟‘‘ پروفیسر نے قہقہہ لگا کر جواب دیا: ’’دنیا کا ہر شخص بڑا آدمی بن سکتا ہے۔‘‘ موہن کا اگلا سوال تھا۔ ’’کیسے؟‘‘ پروفیسر نے اپنے بیگ سے چاک نکالا، موہن کے کھوکھے کے پاس پہنچا، دائیں سے بائیں تین لکیریں لگائیں۔ پہلی لکیر پرمحنت، محنت اور محنت لکھا، دوسری لکیر پر ایمان داری، ایمانداری اور ایمان داری لکھا اور تیسری لکیر پر صرف ایک لفظ ہنر (اسکل) لکھا۔ موہن پروفیسر کو چپ چاپ دیکھتا رہا۔

پروفیسر یہ لکھنے کے بعد موہن کی طرف مڑا اور بولا: ’’ترقی کے تین زینے ہوتے ہیں، پہلا زینہ محنت ہے، آپ جو بھی ہیں آپ اگر صبح دوپہر اور شام تین اوقات میں محنت کرسکتے ہیں تو آپ تیس فیصد کامیاب ہوجائیں گے، آپ کوئی سا بھی کام شروع کر دیں، آپ کی دکان، فیکٹری، دفتر یا کھوکھا صبح سب سے پہلے کھلنا چاہیے اور رات کو آخر میں بند ہونا چاہیے۔ آپ کامیاب ہوجائیں گے۔ پروفیسر نے کہا ’’ہمارے گرد موجود نوے فیصد لوگ سست ہیں، وہ محنت نہیں کرتے، آپ جوں ہی محنت کرتے ہیں آپ نوے فیصد سست لوگوں کی فہرست سے نکل کر دس فیصد محنتی لوگوں میں آجاتے ہیں۔ اور ترقی کے لیے اہل لوگوں میں شمار ہونے لگتے ہیں۔

اگلا مرحلہ ایمان داری ہوتی ہے۔ ایمان داری چار عادتوں کا پیکیج ہے۔ وعدے کی پابندی، جھوٹ سے نفرت، زبان پر قائم رہنا اور اپنی غلطی کا اعتراف کرنا۔آپ محنت کے بعد ایمان داری کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیں۔ وعدہ کریں تو پورا کریں، جھوٹ کسی قیمت پر نہ بولیں، زبان سے اگر ایک بار بات نکل جائے تو آپ اس پر ہمیشہ قائم رہیں اور ہمیشہ اپنی غلطی، کوتاہی اور خامی کا آگے بڑھ کر اعتراف کریں۔آپ ایمان دار ہوجائیں گے اور کار وبار میں اس ایمانداری کی شرح پچاس فیصد ہوتی ہے۔ آپ پہلا تیس فیصد محنت سے حاصل کرتے ہیں، آپ کو دوسرا پچاس فیصد ایمانداری دیتی ہے اور پیچھے رہ گیا بیس فیصد تو یہ بیس فیصد ہنر ہوتا ہے۔

آپ کا پروفیشنل ازم، آپ کی اسکل اور آپ کا ہنر آپ کو باقی بیس فیصد بھی دے دے گا، آپ سو فیصد کامیاب ہوجائیں گے۔ پروفیسر نے موہن کو بتایا۔ ’’لیکن یہ یاد رکھیں ہنر، پروفیشنل ازم اور اسکل کی شرح صرف بیس فیصد ہے اور یہ بیس فیصد بھی آخر میں آتا ہے۔ آپ کے پاس اگرہنرکی کمی ہے تو بھی آپ محنت اور ایمانداری سے اسی فیصد کامیاب ہوسکتے ہیں، لیکن یہ نہیں ہوسکتا کہ آپ بے ایمان اور سست ہوں اور آپ صرف ہنر کے زور پر کامیاب ہوجائیں۔ آپ کو محنت ہی سے اسٹارٹ لینا ہوگا۔

آپ کو ایمان داری کو اپنااوڑھنا اور بچھونا بنانا ہوگا اور آپ کو آخر میں خود کو ہنر مند ثابت کرنا ہوگا۔‘‘

پروفیسر نے موہن کو بتایا ’’میں نے دنیا کے بے شمار ہنر مندوں اور فنکاروں کو بھوکے مرتے دیکھا، کیوں؟ کیوں کہ وہ بے ایمان بھی تھے اور سست بھی اور میں نے دنیا کے بے شمار بے ہنروں کو ذاتی جہاز اڑاتے دیکھا، کیوں؟ کیوں کہ وہ ایماندار اور محنتی تھے۔‘‘ پروفیسر نے اپنا چاک بیگ میں رکھا، موہن کی ناک چھوئی اور بولا ’’تم ان تین لکیروں پر چلنا شروع کردو تو آکاش تک پہنچ جاؤگے۔‘‘

موہن نے لمبا سانس لیا اور بولا ’’میں نے چاک سے بنی ان تین لکیروں کو اپنا مذہب بنا لیا اور میں پینتالیس سال کی عمر میں ارب پتی ہوگیا۔‘‘ موہن نے بتایا: ’’کھوکھے کی وہ دیوار اور اس دیوار کی وہ تین لکیریں آج بھی میرے دفتر میں میری کرسی کے پیچھے لگی ہیں، میں دن میں بیسیوں مرتبہ وہ لکیریں دیکھتا ہوں اور پروفیسر کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔‘‘

موہن خاموش ہوگیا۔ سورج نے جھیل میں ڈبکی لگادی، شام رات میں تبدیل ہونے لگی، موہن کے گھر سے شام کا منظر بہت خوب صورت تھا۔ گھر کی ساری کھڑکیاں پینٹنگ بن چکی تھیں اور ہر پینٹنگ منہ کھول کر سانس لے رہی تھی موہن کی کامیابی کی تین لکیروں کی طرح۔lll

شیئر کیجیے
Default image
جاوید چودھری

Leave a Reply