شریعت کے نفاذکاداخلی محاذ

شریعت اسلامی حیات انسانی کے تمام شعبوں کا احاطہ کرتی ہے۔اس کا دائرۂ کارعائلی معاملات تک محدود نہیں ہے۔ شریعت کی حتی الامکان رضاکارانہ پابندی ہر مومن سے مطلوب ہے۔ اس معاملے میں کوتاہی ایسی صورتحال پیدا کردیتی ہے کہ ظلم اور ظالم کی مخالفت کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔ مثلاً ستمبر2014 میں اندور کی بی جے پی رکن اسمبلی اوشا ٹھاکر کا اشتعال انگیز بیان کہ نوراتری میں مسلم نوجوانوں کی شمولیت کو روکنے کیلئے شناختی کارڈ جاری کیے جائیں گے۔اس کے حق میں دلیل دی گئی کہ اس ہندو تہوار میں امبا دیوی کی خوشنودی کیلئے مردوزن مورتی کا طواف کرتے ہوئے رقص کرتے ہیں اور الزام لگایا گیا کہ مسلمان ہندو دوشیزاوں کو لبھانے کیلئے شریک ہوتے ہیں۔ گنگا جمنی تہذیب کے حامل بے دین دانشوروں نے تو اس فرمان کو غیر دستوری قرار دے کر مخالفت کی لیکن ایسے میں ایک دیندار مسلمان کیا کرے؟ اوشا کا بیان غیر دستوری ضرور تھا لیکن کیا اسلام مخالف بھی تھا؟ اسلامی عقیدہ اپنے پیروکار کو ہندو دیوی کا طواف کرنے اجازت نہیں دیتا۔ مردوزن کے اختلاط اور مخلوط رقص وسرود اسلامی شعائر کے خلاف ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ اگر مسلمانوں کو اس میں شرکت کی دعوت دی جائے تو وہ معذرت کرلیں کجا کہ غیروں کو روکنے کیلئے مجبور ہونا پڑے۔

پچھلے دنوں میرٹھ کے شاستری نگر میں ایک مسلمان کے گھر ہندو لڑکی برضا ورغبت چلی آئی۔ اس کی خبر ہندو واہنی کو ملی تو وہ لوگ دروازہ توڑ کر اندر گھس گئے اور تفتیش کرنے لگے۔ ہندوستانی دستور غیر مردو خاتون کا اپنی مرضی سے جنسی تعلق کی اجازت دیتا ہے اور کسی تیسرے کی مداخلت کوممنوع قرار دیتا ہے۔ دستور ہند کی نظر میں وہ اوباش مسلم نوجوان بے گناہ اور ہندوواہنی کے غنڈے قصووار ہیں لیکن کیا مسلمان صرف ملکی دستور کا پابند ہے یا اس پر شریعت کی بجاآوری بھی لازم ہے؟ اسلام زناکاری کی اجازت نہیں دیتا اور اس کی سخت سزا تجویز کرتا ہے اس لئے مسلمانوں کو ازخود اس کے قریب نہیں پھٹکنا چاہیے۔ اس کا محرک ہندو یوا واہنی کا ڈر نہیں بلکہ خوفِ خدا ہونا چاہیے لیکن اگر ہم اپنی شریعت کو پامال کرکے اپنے آپ پر ظلم کرنے لگیں تومشیت غیروں کو میدان میں اتارتی ہے اوران کے ذریعہ ہونے والا اصلاح کا عمل کربناک ہوتا ہے۔

جھارکھنڈ کے گملا ضلع میں ایک بھیانک واقعہ رونما ہوا۔ سالک نامی ایک نوجوان کا سوسو موڈے نامی گاؤں کی ایک ہندو لڑکی کے ساتھ معاشقہ تھا۔ اس لڑکی نے اپنے عاشق کو رام نومی کا میلہ دیکھنے کیلئے بلایا۔ پہلے تو سالک نے انکار کیا مگر بعد میں پہنچ گیا۔ میلہ کے بعد اس نے اپنی معشوقہ کو موٹرسائیکل پر گھرتک چھوڑنے کی جرأت بھی کرڈالی۔ وہاں پر لڑکی کے رشتے داروں نے سالک کو زدوکوب کیا اور وہ ہلاک ہوگیا۔ پولس نے قتل کے الزام میں تین لوگوں کو گرفتار کرکے جیل بھیج دیا ہے ممکن ہے عدالت ان کو سزا سنا دے یا وہ چھوٹ جائیں۔

اسلام اور ملکی دستورمیں سزا نافذکرنے کا اختیار حکومت کو ہے کسی فردیا گروہ کو نہیں ہے اس لیے سالک کے قاتلوں کو قانون شکنی کی قرار واقعی سزا ملنی چاہیے۔

لیکن کیا مسلمانوں کا مذکورہ تینوں صوبوں میں بی جے پی کی حکومت کو قصوار ٹھہرا کر اپنا پلہّ جھاڑ لینا کافی ہے؟ کیا اہل ایمان کے ذریعہ اپنے شرعی احکامات کی پامالی کا ان سانحات میں عمل دخل نہیں ہے؟ اور کیا اس جانب توجہ دہانی امت کی ذمہ داری نہیں ہے؟ جب کوئی اپنے دین سے انحراف کرکے خود اپنی ذات پر ظلم کرنے کے نتیجے میں جبروتشددکا شکارہوجائے توایسی صورتحال میں دوسرے ظالم فریق کی مخالفت مشکل ہوجاتی ہے۔ خارجی رکاوٹیں معاشرے میں شریعت کے نفاذ میں رکاوٹ بنتی ہیں مگر انسانی نفس فرد کو روکتا ہے ایسے میں خارجی سے زیادہ موانع داخلی ہیں ۔ اس بابت بنی اسرائیل کی کوتاہی پر قرآنی وعید ملاحظہ فرمائیں ’’ تو کیا تم کتاب کے ایک حصے پر ایمان لاتے ہو اور دوسرے حصے کا انکار کرتے ہو پھر تم میں سے جو لوگ ایسا کریں، ان کی سزا اس کے سوا اور کیا ہے کہ دنیا کی زندگی میں ذلیل و خوار ہو کر رہیں اور آخرت میں شدید ترین عذاب کی طرف پھیر دیے جائیں؟‘‘lll

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر سلیم خان

Leave a Reply