انٹرنیٹ واچ فاؤنڈیشن کی رپورٹ

انٹرنیٹ واچ فاؤنڈیشن ایک برطانوی ادارہ ہے۔ اس کا بنیادی کام انٹرنیٹ پر غلط مواد کی تلاش اور پھر اسے وہاں سے ہٹانا ہے۔ مذکورہ ادارہ دنیا بھر کی ویب سائٹس سے ایسے مواد کو ہٹانے کا کام کرتا ہے جو بچوں کے جنسی استحصال کا سب ہو یا اس سے متعلق تصاویر یا وڈیو پیش کرتا ہو۔ اس کے علاوہ برطانیہ یں نوجوانوں اور بچوں کے ساتھ یا ان کے خلاف مجرمانہ کردار پر مبنی کسی بھی طرح کی مواد کو پکڑنے اور ہٹانے کا کام کرتا ہے۔

انٹرنیٹ واچ فاؤنڈیشن نے گزشتہ دنوں اپنی ۲۰۱۶ کی رپورٹ پیش کی ہے جس میں یہ واضح کیا ہے کہ دنیا بھر میں انٹرنیٹ پر اپ لوڈ کیے جانے والے غلط مواد کا ساٹھ فیصد اب یورپ میں پایا جاتا ہے جو پہلے کے مقابلے میں انیس فیصد زیادہ ہے۔ یوروپی ممالک میں سے نیدر لینڈ اس وقت اس میدان کی قیادت کر رہا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں سب سے زیادہ غیر قانونی اور غیر اخلاقی مواد اسی ملک سے اب لوڈ کیا جاتا ہے۔ آئی ڈبلیو ایف کی رپورٹ یہ واضح کرتی ہے کہ شمالی امریکی ممالک میں انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں کی طرف سے سخت نگرانی اور رپورٹنگ کے ترقی یافتہ نظام کے سبب اب یہ کام یوروپ کی طرف منتقل ہوگیا ہے۔ مذکورہ ادارہ کی سربراہ سوسی بار گریوز کے مطابق:

’’گزشتہ سالوں کے مقابلے میں حالات اب الٹ گئے ہیں۔ شمالی امریکہ کے مقابلے میں اب یوروپ بچوں کے جنسی استحصال کا سب سے بڑا مرکز بن گیا ہے۔‘‘

انٹرنیٹ اپنے آپ میں ایک بڑی دنیا ہے جس میں ہماری دنیا ہی کی طرح خیر اور شر دونوں طرح کے عناصر موجود ہیں۔ بالکل ہماری اسی دنیا کے مانند انٹرنیٹ کی دنیا پر بھی شر کا غلبہ ہے۔ چناں چہ کہا جاتا ہے کہ دنیا بھر میں ہر لمحہ کہیں نہ کہیں کم از کم ایک ایسی ویڈیو ضرور دیکھی جا رہی ہے جو بچوں کے جنسی استحصال پر مبنی ہے۔ شرم ناک بات یہ ہے کہ اس سلسلے کا جو مواد انٹرنیٹ پر اب لوڈ کیا جاتا ہے اس میں ۵۳ فیصد مواد ایسا ہوتا ہے جس میں جنسی استحصال کا شکار ہونے والے بچے دس سال سے بھی کم عمر ہوتے ہیں جب کہ گیارہ سال سے پندرہ سال کی عمر والے بچوں سے متعلق ۴۵ فیصد مواد ڈالا جاتا ہے۔ اسی میں یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ کوئی دو فیصد مواد ایسا ہوتا ہے جس میں بچوں کی عمر دو سال سے بھی کم ہوتی ہے۔

انٹرنیٹ کی دنیا اگرچہ اپنے تکنیکی مزاج کے اعتبار سے مجرمین کو بہ آسانی پکڑلینے والی ہے لیکن بہت سارے لوگ اس تکنیک کو بہ آسانی دھوکہ بھی دے دیتے ہیں۔ چناں چہ آئی ڈبلیو ایف کے مطابق جو لوگ اس قسم کا مجرمانہ مواد انٹرنیٹ پر اپ لوڈ کرتے ہیں ان میں ۱۱۲ فیصد لوگ ماسکنگ تکنیک استعمال کرتے ہیں جب کہ ۲۵۸ فیصد معاملوں میں لوگ نئے اور فیک ناموں کا استعمال کرتے ہیں۔

انٹرنیٹ واچ فاؤنڈیشن کی ۲۰۱۶ رپورٹ اس حیثیت سے دنیا کے لیے عام طور پر اور مسلمان والدین کے لیے خاص طور پر تشویش اور پریشانی کا سبب ہے، اور یقینا ہونی چاہیے کہ انٹرنیٹ کی دنیا ان کے نو عمروں کے لیے دن بہ دن مخرب اخلاق ہونے کے سبب چیلنج بنتی جا رہی ہے۔ غور کریں کہ موجودہ زمانے میں بچے ابتدائی کلاس سے ہی انٹرنیٹ کا استعمال شروع کردیتے ہیں اور چوتھی، پانچویں کلاس آنے تک تو انٹرنیٹ کے استعمال پرمنحصر ہوم ورک بھی بچوں کو ملنے لگتا ہے۔ ایسے میں والدین کے لیے یہ موضوع بھی اسی طرح تشویش کا سبب بنتا جا رہا ہے جس طرح ان کا جسمانی تحفظ انہیں پریشان رکھتا ہے۔ جن لوگوں کے نزدیک اخلاق کا تحفظ اہم نہیں یا نظریہ اخلاق ہی بگڑا ہوا ہے ان کی بات چھوڑ کر مسلمان والدین کے ساتھ ساتھ وہ لوگ بھی فکر مند ہوں گے جو بچوں کی صحت اور جسمانی تحفظ کے ساتھ فکر و واخلاق کو بھی محفوظ دیکھنا چاہتے ہیں۔ جو والدین خود انٹرنیٹ کا استعمال کرتے ہیں انہیں بہ خوبی اندازہ ہے کہ اس راستے میں کیسے کیسے خطرناک موڑ اچانک آجاتے ہیں اور اگر انسان مضبوط قدموں سے نہ چل رہا ہو تو پھسل جائے۔

اس رپورٹ کے تذکرے کا مقصد صرف یہ ہے کہ والدین اپنے بچوں اور ان کے کمپیوٹر پرنظر رکھیں۔ لیکن یہ کام تو وہ صرف اسی وقت انجام دے سکتے ہیں جب بچے گھر پر کمپیوٹر استعمال کر رہے ہوں اور یہ بات یقینی ہے کہ ان کا اچھا خاصا وقت گھر سے باہر گزرتا ہی ہے۔ ایسے میں ہم انہیں توجہ دلانا چاہتے ہیں کہ والدین اپنے بچوں کی تربیت کے ضمن میں، ان کے ذہن کے اندر اچھائی اور برائی کے تصور کو اس قدر مضبوط بنا دیں کہ ان کا بچہ برائی کے ماحول میں اور برائی کے درمیان رہ کر بھی اس سے گریز کا اہل ہوجائے۔ یہ کام آسان نہیں لیکن حقیقت میں ناممکن یا اتنا مشکل بھی نہیں کہ نہ کیا جاسکے۔ یہ بات ضرور ہے کہ سخت محنت، لگن، توجہ اور بلند اخلاقی سطح کے بغیر یہ ممکن نہیں ہے۔ ہوسکتا ہے کہ بچوں کی تربیت کے ساتھ ساتھ والدین کو بھی اپنی تربیت و اصلاح کرنی پڑے لیکن یہ انہیں ضرور کرنی ہوگی ورنہ ان کی نئی نسل پستی و بداخلاقی کے گہرے گڈھے میں بھی گر سکتی ہے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
ابو حمزہ فلاحی

Leave a Reply