اللہ سے محبت کی غذا

ابن القیمؒ فرماتے ہیں: بندہ جب صبح و شام اس حالت میں کرے کہ اللہ کے سوا اس کا کوئی مقصد نہ ہو تو اللہ سبحانہ و تعالیٰ اس بندے کی تمام حاجات و ضروریات کی ذمہ داری خود اٹھا لیتا ہے اور اسے تمام پریشانیوں سے محفوظ رکھتا ہے اور اسکے دل کو اپنی محبت کے لیے اس کی زبان کو اپنے ذکر کے لیے اور اس کی اعضا و جوارح کو اپنی فرماں برداری کے لیے فارغ و مختص کر دیتا ہے، مگر جب کوئی بندہ اس حال میں صبح و شام کرے کہ دنیا ہی اس کا مقصود و منتہی ہو تو اللہ دنیا کے تمام غم، پریشانیاں اور تکفرات اس بندے پر لاد دیتا ہے اور بندے کو بندے کی ذات کے سپرد فرما دیتا ہے۔‘‘

ابن القیمؒ نے اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے کہ محبت الٰہی اور دنیا کی محبت کبھی بھی اکٹھا نہں ہوسکتیں۔ چناں چہ وہ فرماتے ہیں:

’’اللہ کی محبت دنیا کے عاشق کے دل میں داخل نہیں ہوتی جیسے کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں داخل نہںہوسکتا۔‘‘

اللہ بزرگ و برتر نے اسی حقیقت کو اپنی عظیم کتاب میںیوں بیان فرمایا ہے:

ترجمہ: اے نبیؐ! کہہ دو کہ اگر تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے اور تمہارے بھائی اور تمہاری بیویاں اور تمہارے عزیز و اقارب اور تمہارے وہ مال جو تم نے کمائے ہیں اور تمہارے وہ کاروبار جن کے ماند پڑ جانے کا تمہیں خوف ہے اور تمہارے وہ گھر جو تم کو پسند ہیں، تم کو اللہ اور اللہ کے رسولؐ اور اس کی راہ میں جہاد سے عزیز تر ہیں تو انتظار کرو، یہاں تک کہ اللہ اپنا فیصلہ تمہارے سامنے لے آئے اور اللہ فاسق لوگوں کی راہنمائی نہیں کرتا۔‘‘ (توبہ:۲۴)

اس آیت کریمہ نے یہ حقیقت واضح کر دی کہ دنیا کی محبت کو اللہ تعالیٰ کی محبت پر مقدم کرنے کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنے آپ کو ہلاک کر لیتا ہے اور ایسے انسان کے بارے میں آیت کے اختتام پر یہ فیصلہ سنا دیا گیا ہے کہ وہ فاسق و نافرمان ہے اور سیدھے راستے سے ہٹا ہوا ہے۔

یاد رہے کہ دل ہی محبت کا محل و مقام اور ظرف و مستقر ہے۔ دل بھی جسم کی مانند بیمار ہوتا ہے۔ دل کی بیماری کی شفا توبہ اور پرہیزگاری میں ہے۔ دل بھی زنگ آلود ہوتا ہے جیسے لوہا زنگ آلود ہوتا ہے۔ دل کا زنگ اللہ کے ذکر سے اترتا ہے۔ دل بھی جسم کی طرح عریاں ہو جاتا ہے۔ دل کی عریانی کا علاج اور اس کا لباس اور اس کی زینت تقویٰ ہے۔بدن کی طرح دل کو بھی بھوک اور پیاس لگتی ہے۔ دل کے لیے سامان خورد و نوش ہے: معرفت، محبت، توکل، انابت اور خدمت۔

والدین اگر اپنے بچوں کے دلوں کو حب الٰہی سے مالا مال کرنے میں کام یاب ہوگئے تو پھر انھوں نے ان کے لیے حقیقی سعادت حاصل کرلی۔ اب آپ کی اولاد دنیا کو محبت کی آنکھ سے دیکھیں گے وہ دنیا کو خوب صورت دیکھیں گے اور آپ کو یوں معلوم ہوگا کہ آپ اور آپ کی اولاد گویا جنت میں رہ رہے ہیں۔

آپ حیران نہ ہوں، آپ کے بچے کا دل ہی آپ کی کامیاب زندگی کا راز ہے اور جب آپ نے اپنے بچے کے دل کو محبت الٰہی سے بھر دیا تو اس کے بعد آپ کا بچہ خوش بختی کی زندگی جئے گا، اسے اللہ تعالیٰ کے انس کا احساس و شعور رہے گا۔ اسے دل لگی کے لیے برے دوستوں کی تلاش نہ رہے گی۔ نہ ہی وہ ایسی لڑکیوں کی تلاش میں بھٹکے گا جو اللہ کی حدود کا خیال نہیں کرتیں۔ وہ کوئی ایسا تعلق قائم نہ کرے گا جو اللہ کو ناپسند ہے۔ نہ ہی وہ کسی ایسی بے حقیقت محبت کے دام فریب میں الجھے کا جس میں پھنس کر فریقین محبت الٰہی کو نظر انداز کردیتے ہیں اور اللہ کی تعظیم و توقیر کو فراموش کردیتے ہیں۔

جب ہمارے بچوں کے دل محبت الٰہی سے بھرپور ہوجائیں گے تو انہیں ایمان کی مٹھاس کا ذائقہ نصیب ہوگا۔ اللہ کی محبت کی بدولت انہیں احساس تنہائی نہیں رہے گا۔ اس لیے کہ ان کے قلوب ہمیشہ عظیم حقیقی محبت میں مشغول رہیں گے۔ ان کی عقلیں ہمیشہ اپنے خالق و محبوب کے بارے میں سوچتی رہیں گی۔ ان کا خالق و مالک جو محبت کرنے والا ہے، بردبار ہے۔ مہربان ہے اور بے حد رحم کرنے والا ہے۔

بچوں کو اللہ کی محبت سے سرشار کرنے کے طریقے

۱- بچوں کو ان کے پروردگار سے روشناس کروائیے۔ کیوں کہ بندے کو جس قدر اپنے رب کی معرفت زیادہ ہوتی ہے، اسی قدر اپنے پروردگار سے اس کی محبت میں اضافہ ہوتا ہے۔ اللہ کی محبت کے لیے ایک ایسی عقل کی ضرورت ہے جو اللہ کی قدر سے آگاہ ہو، اس کی عظمت و بزرگی سے آشنا ہو اور اس کے اسماء و صفات سے باخبر ہو۔ ایک حدیث میں ہے: ارجحکم عقلا اشدکم حبا ’’تم لوگوں میں سے جو عقل میں ممتاز ہوگا وہی محبت میں بڑھ چڑھ کر ہوگا۔‘‘

۲- ان کی نظر میں دنیا کو معمولی بنائیے:

بچوں کی نگاہ میں دنیا کو چھوٹا اور معمولی بنانے سے میرا یہ ہرگز مقصد نہیں کہ ہم انہیں دنیا سے نفرت دلائیں تاکہ وہ دنیا سے کنارہ کش ہوجائیں، بلکہ میرا مقصود یہ ے کہ ہم بچوں کی ایسی تربیت کریں کہ دنیا ان کے ہاتھوں میں تو رہے مگر ان کے دلوں میں جاگزیں نہ ہو کیوں کہ اللہ کی محبت ایسے دل میں نہیں ٹھہر سکتی، جس میں دنیا کا بسیرا ہو۔ ہمارے لیے اور ہمارے بچوں کے لیے دنیا سے ہمارے موقف کے بارے میں بہترین رہ نمائی وہ ہے جو عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کی ہے۔ وہ کہتے ہیں:

’’رسول اللہﷺ نے مجھے میرے کندھے سے پکڑا، پھر فرمایا: دنیا میں ایسے رہو جیسے تم پردیسی ہو یا راستے سے گزرنے والے ہو اور اپنے آپ کو اہل قبور میں سے ایک شمار کرو۔‘‘

حضرت عبد اللہ بن عمرؓ فرمایا کرتے تھے: جب تم شام کرو تو صبح کا انتظار مت کرو اور جب تم صبح کرو تو شام کا انتظار مت کرو۔ اپنی صحت میں سے اپنے مرض کے لیے کچھ لے رکھو اور اپنی زندگی میں سے اپنی موت کے لیے (تیاری) لے رکھو۔‘‘

دنیا فنا کا گھرہے اور آخرت بقا کا گھر ہے۔ لہٰذا آپ اپنی اولاد کو فانی دنیا کی طرف دل سے مائل نہ ہونے دیں۔ آپ کوشش کریں کہ آپ کے بچے دنیا کو اپنے ہاتھوں میں رکھیں نہ کہ اپنے دلوں میں۔ وہ دنیا کو اپنے سے دور رکھیں نہ کہ اپنے آپ کو دنیا کا غلام بنالیں، ان کی ایسی تربیت کریں کہ وہ دنیا کو اپنی پشتوں کے پیچھے رکھیں نہ کہ اسے اپنا نصب العین بنالیں۔ اگر آپ ایسا کریں گے تو ان کی محبت الٰہی میں اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔

۳- آخرت کی نعمتوں کی منظر کشی

اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتا ہے:

’’مگر تم لوگ دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو، حالاں کہ آخرت بہتر ہے اور باقی رہنے والی ہے۔‘‘ (الاعلیٰ:۱۶،۱۷)

اس آیت کو بچوں کے لیے محرک یا موٹیو قرار دیجیے اور اس کے معانی و مطالب کو ان کے ذہن و دماغ میں گہرائی کے ساتھ بٹھا دیجیے۔ آپ اپنے بچوں کے لیے واضح کیجیے کہ اللہ نے ایمان والوں کے لیے جنت میں نعمتیں تیار کر رکھی ہیں۔ پھر انہیں دعوت دیجیے کہ وہ دنیا کی نعمتوں اور آخرت کی نعمتوں کے مابین مواز نہ کریں۔ بہتر و موزوں ہوگا کہ آپ اس بارے میں اپنی اولاد کو ایسی قرآنی آیت تلاش کرنے کی زحمت دیں، جن سے آیت بالا کے مفہوم کی مزید تقویت و تاکید ہوتی ہے۔ قرآن کی بہت سی آیتیں ہیں جو آخرت میں اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو بیان کرتی ہیں۔ یہاں پر مثال کے لیے صرف ایک آیت کا ترجمہ نقل کیا جاتا ہے:

’’مگر دیکھ لو، دنیا ہی میں ہم نے ایک گروہ کو دوسرے پر کیسی فضیلت دے رکھی ہے اور آخرت میں اس کے درجے اور بھی زیادہ ہوں گے اور اس کی فضیلت اور بھی بڑھ چڑھ کر ہوگی۔‘‘ (الاسراء:۲۱)

آخرت کی نعمتوں کے دائمی ہونے اور ان کے زائل نہ ہونے، جب کہ دنیا کی نعمتوں کے زوال پذیر ہونے اور ہمارے پاس ان نعمتوں میں جو چند ایک ہیں، ان کے عارضی و وقتی ہونے کی ائید کے بارے میں یہ ارشاد الٰہی ہمیشہ بچوں کے سامنے پیش کرتے رہیں۔

ترجمہ: ’’جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ ختم ہوجانے والا ہے اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہی باقی رہنے والا ہے۔‘‘ (النحل:۹۶)lll

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر سمیر یونس

Leave a Reply