اہل ایمان کے درمیان صلح صفائی

اللہ تعالیٰ کو اپنی مخلوق کے جو اعمال بہت محبوب اور جو کام بہت زیادہ پسند ہیں ان میں ایک صلح کرانا بھی ہے۔ چوں کہ ہر انسان کا مزاج دوسرے سے مختلف ہوتا ہے اس لیے اکٹھے رہن سہن، لین دین اور باہمی معاملات و تعلقات میں اکثر اوقات دوسرے کی خلاف مزاج باتوں سے غلط فہمیاں پیدا ہوجاتی ہیں اور یہ غلط فہمیاں بڑھتے بڑھتے نفرت و عداوت، قطع کلامی و قطع تعلقی، دشمنی اور لڑائی جھگڑے، جنگ و جدل، خون خرابے اور قتل و غارت تک جا پہنچتی ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ معاشرے میں فساد شروع ہو جاتا ہے اور انسانی نظام زندگی تباہ ہوکر رہ جاتا ہے حتی کہ خاندانوں کے خاندان اجڑ جاتے ہیں۔

اس موقع پر اسلام ہماری کیا راہ نمائی کرتا ہے:

ترجمہ: ’’بے شک اہل ایمان بھائی بھائی ہیں، تو (نزاع کی صورت میں) تم اپنے بھائیوں کے درمیان صلح کرا دو اور اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔‘‘ (الحجرات:۱۰)

قرآن کریم میں متعدد مقامات پر صلح کی اہمیت و ضرورت، اس کی ترغیب اور خاندانی و معاشرتی نظام زندگی میں اس کے کردار پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ اسے ’’خیر‘‘ سے تعبیر کیا گیا ہے، اسے ضروری قرار دیا گیا ہے، ایسے لوگوں کی مدح اور تعریف کی گئی ہے جو صلح پسند ہوں۔

باہمی تنازعات اور لڑائی جھگڑوں کا ہونا معاشرے میں عام بات ہے۔ یہ سماج کے دو افراد کے درمیان بھی ہوسکتا ہے اور دو خاندانوں کے درمیان بھی۔ اس سے آگے بڑھ کر دو گروہوں اور قبیلوں کے درمیان بھی ہوسکتا ہے اور دو سلطنتوں کے درمیان بھی۔ اسی طرح یہ تنازعہ دو قریبی اور رحمی رشتہ داروں کے درمیان بھی ہوسکتا ہے۔ بھائی بھائی کے درمیان بھی ہوسکتا ہے اور شوہر بیوی کے درمیان بھی، باپ بیٹے کے درمیان بھی ہوسکتا ہے اور چچا زادوں کے درمیان بھی۔

جس نوعیت اور جس سطح کا بھی تنازعہ ہو اس میں صلح صفائی کی اہمیت ہماری معاشرتی زندگی کی جان ہے۔ اسلام کیوں کہ تعلقات کو مضبوط اور مستحکم بنانا چاہتا ہے اس لیے تنازعات اور لڑائی جھگڑوں کو پسند نہیں کرتا اور اس بات کی تاکید کرتا ہے کہ تنازعہ کی صورت میں سماج کے بااثر اور باشعور افراد کو فورا آگے بڑھ کر صلح صفائی کرا دینی چاہیے۔

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اہل قباء کسی معاملے پر باہم جھگڑ پڑے یہاں تک ہاتھا پائی اور ایک دوسرے پر پتھر پھینکنے کی نوبت آگئی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کو اطلاع کی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین سے فرمایا: ہمارے ساتھ چلو ہم ان کے درمیان ’’صلح صفائی‘‘ کراتے ہیں۔ (بخاری)

حضرت ابو الدرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’کیا میں تمہیں ایسی چیز کے بارے میں نہ بتاؤں جو درجے میں (نفلی) روزے (نفلی) نماز اور (نفلی) صدقے سے بھی زیادہ فضیلت والی ہے۔ صحابہ کرامؓ نے عرض کیا: کیوں نہیں؟ ضرور بتائیے! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ لوگوں کے درمیان ’’صلح صفائی‘‘ کرانا ہے۔ اس لیے کہ باہمی ناچاقی اور پھوٹ دین کو ختم کرنے والی چیز ہے۔‘‘ (جامع ترمذی حدیث نمبر2509)

مذکورہ حدیث سے صلح صفائی کرانے والے کے لیے اجر کی بشارت دی گئی ہے اور اس کے اجر کو نفل روزوں اور نمازوں پر بھی فضیلت دی گئی ہے، اسی طرح ایک حدیث میں خود افراد کو بھی اس بات کے لیے اکسایا گیا ہے کہ کسی کے ساتھ تنازعہ کی صورت میں وہ خود آگے بڑھ کر اپنے بھائی کے ساتھ صلح اور معاملات کی درستگی کے لیے کوشش کریں۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’جنت کے دروازے سوموار اور جمعرات کو کھولے جاتے ہیں۔ ان دو دنوں کے اندر لوگوں کی مغفرت کا فیصلہ کیا جاتا ہے لیکن مشرک آدمی اور باہمی عداوت رکھنے والوں کی مغفرت نہیں کی جاتی۔ (فرشتوں کو حکم دیا جاتا ہے کہ) انہیں دیکھتے رہو! انہیں مہلت دو یہاں تک کہ وہ دونوں آپس میں ’’صلح صفائی‘‘ کرلیں۔‘‘ (جامع ترمذی)

حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’اے ابو ایوب! میں تمہیں ایسی نیکی کے بارے میں بتلاتا ہوں جو اللہ تبارک و تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو محبوب ہے وہ یہ ہے کہ جب لوگ لڑجھگڑ پڑیں یا (ان کی محبت میں کسی وجہ سے کمی آجائے یعنی) فساد میں مبتلا ہوجائیں، تو ان کے درمیان ’’صلح صفائی‘‘ کرانا۔ (مجمع الزوائد)

صلح کروانے سے متعلق چند بنیادی باتیں:

٭ صلح کرانے والے کو چاہیے کہ وہ اخلاص نیت کے ساتھ صلح کرائے۔ مال کمانے، شہرت، دکھلاوے اور ریاکاری اور دنیاوی مفادات سے بالاتر ہوکر خالص اللہ کی رضا کے لیے صلح کرائے۔

٭ صلح کے لیے عدل و انصاف کو ضرور ملحوظ خاطر رکھے اور ظلم و نا انصافی سے دور رہے۔

٭ صلح کے لیے پہلے اس معاملے کے بارے میں اہل علم سے راہ نمائی ضرور لے۔

٭ صلح میں کسی فریق پر حکم لگانے میں عجلت اور جلد بازی سے کام نہ لے بل کہ انتہائی غور و خوض کے ساتھ فیصلہ کرے۔

٭ صلح کے لیے ایسے وقت کا انتخاب کرے جب فریقین صلح کے لیے رضامند ہوں اور ان کا غصہ وغیرہ ٹھنڈا ہو جائے۔

٭ صلح کراتے وقت نرم الفاظ اور دھیما لہجہ اختیار کرے اور فریقین کو ان کے عمدہ اوصاف اور خاندانی شرافت یاد دلائے تاکہ وہ ’’صلح صفائی‘‘ کے لیے جلد تیار ہوجائیں۔

ان احادیث کے مطالعہ سے یہ بات ہمارے سامنے بہت واضح ہوجاتی ہے کہ معاشرہ کتنا ہی اچھا ہو اس میں تنازعات اور اختلافات کا نمودار ہونا فطری بات ہے۔ چناں چہ صحابہ کرام کے درمیان بھی لڑائی جھگڑے اور تنازعات اٹھتے تھے مگر ان کی خوبی یہ تھی کہ وہ انصاف پر قائم رہنے میں اور دوسرے کا حق ادا کرنے میں سبقت لے جانے والے تھے۔ چناں چہ ان کے تنازعات حل ہو جاتے اور وہ پھر سے تمام تلخی کو بھلا کر باہم شیر و شکر ہوجاتے۔

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کا ایک دوسرے کے لیے ایثار اور قربانی اسلامی معاشرے کی جان ہے اور معاشرے سے تنازعات کا خاتمہ اسی وقت ممکن ہے جب دین کے ماننے والے جذبہ ایثار اور انصاف پر قائم رہنے کی فکر کے ساتھ ساتھ ظلم و زیادتی کے جذبات کو اپنے اندر نہ پنپنے دیں۔ لیکن اس کے باوجود اگر کوئی خرابی تعلقات میں پید اہوتو سماج کے باشعور لوگوں کو آگے بڑھ کر اسے رفع کر دینا چاہیے اور اسی کے اجر کے بارے میں یہ حدیثیں بیان کرتی ہیں۔ باہمی صلح کی بنیاد ایک دوسرے کے لیے ایثار اور عفو و درگزر کرنا اور ایک دوسرے کو معاف کردینے کا جذبہ ہے۔ جب کہ انانیت، ضد اور ہٹ دھرمی اس راہ کی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ ایک شخص حق و انصاف پر رہتے ہوئے بھی محض اللہ کی رضا کی خاطر اپنے حق سے دستبردار ہوکر فریق مخالف کو معاف کر سکتا ہے جب کہ ایسا بھی ممکن ہے کہ ایک شخص حق بہ جانب نہ ہوکر بھی محض اپنی انا کی خاطر اپنی ضد پر اڑا رہے۔

ایسے میں معاف کردینے والا اور اپنے حق سے دست بردار ہو جانے والا شخص عظیم اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک محبوب اور مکرم ہے جب کہ ضدی اور ہٹ دھرم انسان اگر کامیاب ہو بھی جائے تب بھی وہ ناکام اور اللہ تبارک و تعالیٰ کے غضب اور اس کی لعنت کا حق دار ٹھہرتا ہے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
محمد الیاس

Leave a Reply