وسوسے اور برے خیالات

وسوسہ کیا ہے؟ وسوسہ احکام الٰہی کی حکم عدولی سے شروع ہوتا ہے۔ علماء نے لکھا ہے کہ وسوسہ پریشان خیالات کا ایک تسلسل ہے، جس کی آمد کا سلسلہ کبھی ختم نہیں ہوتا۔ وسوسے کی ایک قسم یہ بھی ہے کہ انسان صرف اپنے خیالات میں اس طرح مگن رہے کہ وہ ’عمل‘ سے دور ہوتا چلا جائے اور ’’خواہشات‘‘ نفس کا اسیر بن جائے، اس کے برعکس حقیقت یہ ہے کہ ’’وسوسہ‘‘ ایک شیطانی عمل ہے جو اللہ کے نیک بندوں کو اپنے معبود سے دور کر دیتا ہے، چوں کہ شیطان نے اللہ تعالیٰ سے اجازت لے رکھی ہے کہ وہ اس کے ’’نیک بندوں‘‘ کو بہرصورت بہکائے گا، اس لیے شیطان اللہ کے بندوں پر پہلا وار ’’وسوسوں‘‘ کے تیر چلا کر ہی کرتا ہے، ایسا تیر کہ جس کے لگنے سے درد نہیں ہوتا، البتہ ایک کسک ضرور محسوس ہوتی ہے، جسے عام زبان میں ’’لذت‘‘ کہا جاسکتا ہے اور وہ وسوسوں کے جال میں ایسا پھنسا رہتا ہے کہ پھر نکلنے کو جی نہیں چاہتا۔

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’تم میں سے کسی میں شیطان یہ سوسہ ڈالتا ہے کہ آسمان کس نے پیدا کیا اور زمین اور ساری مخلوقات کس نے پیدا کیں، یہاں تک کہ اللہ کو کس نے پیدا کیا۔ پس جب اس قسم کے وسوسے پیدا ہوں تو اللہ سے پناہ مانگنا اور ایسے خیالات کو دل سے دور کر کے فورا توبہ کرنا چاہیے۔‘‘ (بخاری و مسلم)

ابن تیمیہؒ نے لکھا ہے: وسوسۂ شیطان کی حیثیت چور یا ڈاکو کی طرح ہے۔ مسافر منزل مقصود تک جانا چاہتا ہے، مگر چور یا ڈاکو راستہ روک لیتا ہے۔ جب بندہ مومن اپنے پروردگار سے راز و نیاز میں مصروف ہوتا ہے اور نماز میں اپنے رب کی جانب متوجہ ہوتا ہے تو شیطان اس کا راستہ روک لیتا ہے۔ اس کی توجہ اس کے محبوب سے پھیرنے کی کوشش کرتا ہے۔ بندہ مومن کو چاہیے کہ وہ اپنا سفر جاری رکھے اور شیطان سے الجھنے اور اس کے پیچھے پڑنے کی کوشش نہ کرے، بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق تعوذ (اعوذ باللہ) پڑھے اور اللہ کی پناہ میں آجائے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

’’جو ہماری راہ میں کوشش کرتا ہے، ہم اسے اپنے راستے کی ہدایت عطا کرتے ہیں۔‘‘

لہٰذا ہمیں وسوسوں اور بری سوچوں کے پیچھے پڑنے کی بجائے اس سے بچنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

حقیقت میں وسوسہ وہم ہے، وہ وسوسہ جو شیطان دل میں ڈالتا ہے، قابل گرفت نہیں۔ قابل معافی ہے۔ شیطان نے اللہ کی طرف سے نکل جانے کا حکم سن کر اللہ سے مہلت مانگی کہ مجھے تاقیامت مہلت عطا فرما۔ اللہ نے اسے مہلت دے دی، شیان نے کہا، اے اللہ، آپ نے مجھے مہلت دے دی۔ اب میں آپ کے بندوں کو سیدھے راستے سے بہکاتا رہوں گا۔ اس نے پہلا قدم حضرت آدم علیہ السلام کی طرف بڑھایا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو حکم دیا تھا کہ تم اور تمہاری بیوی جنت میں رہو اور جہاں سے دل چاہے کھاؤ پیو، البتہ اس خاص درخت کا پھل نہ کھانا اور نہ اس کے قریب جانا۔ شیطان نے آدم و حوا کے دلوں میں وسوسہ ڈالا کہ تمہارے رب نے اس درخت کا پھل کھانے سے تمہیں اس لیے روکا ہے کہ کہیں تم فرشتہ نہ بن جاؤ، لہٰذا تم یہ پھل کھالو۔ شیطان نے قسم کھا کر حضرت آدم علیہ السلام سے کہا کہ میں تمہارا خیرخواہ ہوں۔ آدم و حوا نے وہ پھل کھالیا۔ یہ تھی شیطان کی طرف سے وسوسہ ڈالنے کی پہلی کوشش۔ اسی وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ندا آئی کہ میں نے جو کچھ کہا تھا، تم نے اس پر عمل نہ کیا اور شیطان کے بہکاوے میں آگئے۔ شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے۔ حضرت آدم و حوا نے بارگاہِ الٰہی میں گڑگڑاکر رحم کی درخواست کی، اللہ تعالیٰ نے آپ کی درخواست قبول فرمائی۔

یہ حقیقت ہے کہ ’’وسوسہ‘‘ محض ’’وہم‘‘ ہے، ایسا وہم جو لایعنی ہے۔ یہ نقصان تو پہنچا سکتا ہے مگر اس سے کوئی فائدہ اٹھانا ممکن نہیں۔ آج ہمارا معاشرہ ’’وسوسوں‘‘ کی دلدل میں پھنسا ہوا ہے، جس کی وجہ سے شیطان نے ہمیں اتنا کمزور اور ناتواں کر دیا ہے کہ ان وسوسوں سے نجات حاصل کر کے خالصتا رجوع الی اللہ مشکل ہوگیا ہے۔ سچی بات یہ ہے کہ ہم شیطان کے پھندے میں ’’وسوسوں‘‘ کو خود ہی اپنے اوپر طاری کرچکے ہیں۔ نیک عمل کرتے وقت وہم اور وسوسہ اگر آئے تو اس کی طرف توجہ نہ دینا قابل معافی لیکن اگر نیک کام کے وقت مثلاً نماز کے وقت اس کی طرف بھی توجہ کو اس طرح مرکوز کرلیا کہ تمام معاملات دنیا کا حساب کتاب اسی موقع پر کرنے لگیں، نماز کا ادب و احترام مٹا کر شیطانی وسوسوں میں خود کو ڈال لیں، نتیجہ ظاہر ہے کہ نماز کی افادیت سے محروم ہوگئے۔ وہ نماز جو برائیوں سے روکتی ہے، ہمارے لیے وہ نماز نہ بن سکی اور ہم معاشرتی برائیوں اور دیگر گھناؤنے عمل میں مبتلا ہوگئے۔ اگر پوچھو کہ نماز کیوں نہیں پڑھتے تو جواب ملتا ہے کہ نماز پڑھنا شاید قسمت میں ہی نہیں۔ ادھر نماز کے لیے کھڑے ہوئے، ادھر اگلے پچھلے، آنے والے معاملات کو سلجھانے میں لگ گئے۔ کیا پڑھا کیا نہیں، کچھ پتا نہیں۔ اس لیے بس دعا کریں کہ ہم اس قابل ہوجائیں کہ نماز کو اس کی روح اور تقاضوں کے مطابق پڑھ سکیں۔ شیطان نے کیسا رنگ جمایا، عبد اور معبود کی ملاقات کا تسلسل نہ صرف توڑا بلکہ ختم کرنے کے درپے ہے۔ حالاں کہ رسول اللہﷺ نے فرمادیا: ’’میری امت کے دل میں جو وسوسے پیدا ہوتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے انہیں معاف فرما دیا ہے، جب تک انسان وسوسوں کے مطابق عمل نہ کرے یا زبان سے کچھ نہ کہے۔‘‘ (بخاری)

آج لوگ محض وسوسوں کا شکار ہوکر نماز جیسی عظیم عبادت چھوڑ دیتے ہیں (جس کے متعلق رسول اکرمؐ نے فرمایا کہ قیامت میں پہلا سوال ہی نماز کا ہوگا) غور کریں، فکر کریں، ذرا سوچیں کہ اگر کھاتے وقت یہ خیال آتا رہے کہ کہیں یہ گیہوں خراب نہ ہو، جس کی روٹی کھائی جا رہی ہے، کیا آپ روٹی کھانا چھوڑیں گے۔ یقینا نہیں کیوں کہ زندگی کے لیے کھانا بہرحال ضروری ہے۔ کیا ہم یہ نہیں کرسکتے کہ اس طرح کے خیالوں کو آنے دیں وسوسوں کو پیدا ہونے دیں، لیکن نماز ے غفلت نہ برتیں، نماز میں مصروف رہیں، یہ تو کرسکتے ہیں، پھر کیوں نہیں کرتے؟ بہرحال نماز فرض ہے خیالات پریشاں اور وسوسہ شیطانی عمل ہے۔ شیطان نے اللہ کے نیک بندوں کو بہکانے کا عہد کیا ہوا ہے۔ آئیے وقت کی نزاکت کو سمجھیں پتا نہیں ہمارا کتنا وقت رہ گیا ہے اور کب ہم سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر اگلے جہاں کو چل دیں۔ اس لیے رب کریم نے فرمایا:

’’قسم ہے زمانے کی انسان گھاٹے میں ہے، سوائے ایمان والوں کے اور عمل صالح کرنے والوں کے۔‘‘

اب ہمیں فیصلہ کرنا ہے کہ ’’عباد الرحمن‘‘ بننا ہے یا شیطان سے اپنا تعلق جوڑنا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم پر رحم فرمائے اور ہمارے ہر عمل اور ہماری ہر فکر و سوچ کو اپنے حکم کے مطابق بنا دے۔ آمین۔lll

شیئر کیجیے
Default image
اسد خطیب قاسمی

Leave a Reply