ایک شمع جلانی ہے! (پانچویں قسط)

فصل بہار میں گل تر ہے لہو لہو

احساس داغ داغ ہے منظر لہو لہو

بیٹیاں تو بیٹیاں ہی ہوتی ہیں۔ وہ اپنے دل کا حال، اپنے حالات اور اپنے احساسات اپنے والدین بالخصوص ماں اور بڑی بہنوں سے شیئر کرہی لیتی ہیں۔ شادی کے بعد تو لڑکی اپنی ماں کے مقابلے اپنی شادی شدہ بہنوں کو خود سے زیادہ قریب محسوس کرتی ہیں اور تقریبا اپنا ہر احساس، ہر حال، ہر شکوہ اور ہر خیال اِن سے شیئر کرلیتی ہیں۔

سمجھ دار مائیں اور بہنیں ان موقعوں پر گھروں کو بنائے رکھنے اور جوڑے رکھنے والی ہی نصیحتیں کرتی ہیں۔ ہر ماں اپنی اولاد سے محبت ہی کرتی ہے مگر محبت زہر بن جاتی ہے جب وہ دوسری محبت پر وار کرتی ہے۔ اگر کچھ آزمائشیں ان کی قسمت میں لکھی تھیں تو مائیں خود اپنے ہاتھوں اس سے بڑی بڑی آزمائشیں اپنی اولاد کی جھولی میں ڈال دیتی ہیں۔ وہ اس غلط فہمی، بلکہ سچ تو یہ ہے کہ اس خوش فہمی، میں پڑ جاتی ہیں کہ انھوں نے اپنے وقت میں خاموش رہ کر غلطی کی تھی اور اپنے ان بڑوں کو قصوروار ٹھہراتی ہیں جنھوں نے انھیں خاموش رہ کر صبر سے نبھانے کی تاکید کی تھی اور اب وہ یہ خوش گمانی کرتی ہیں کہ جو کچھ بغاوت، نفرت اور عداوت کے بیج وہ اپنی اولاد کی زندگی اور دلوں میں بو رہی ہیں وہ اِن سے اگنے والے درختوں کی چھایا میں آرام سے رہیں گی مگر وہ بھول جاتی ہیں کہ بغاوت اور نفرت کے بیج تناور درخت نہیں بنتے بلکہ یہ کیکٹس (صحرائی پودا) بن جاتے ہیں جن کی جڑیں پھیلتی چلی جاتی ہیں اور دل کی زمین سے ساری نمی چوس لیتے ہیں۔ یہ کیکٹس محبت و سکون کے آس میں پھیلتے چلے جاتے ہیں، دل سے محبت کی نمی چھین لیتے اور گھروں اور رشتوں کو مرجھا دیتے ہیں۔

اب ایک اور گھر ٹوٹنے کی ڈگر پر پہنچ رہا تھا… خیر خواہ ماں اولاد کے لیے پھولوں کی آس میں کانٹے بچھا رہی تھی … شیطان نے اپنے ہتھیاروں کو نئے روپ دے رکھے تھے… پھر سے آدم و حوا شیطان کی باتوں میں آکر ایک اور غلطی کرنے جا رہے تھے۔

٭

قتل کرتے ہوئے ان کو یہ گماں تک بھی نہ تھا

خون کی دھار سے ہوسکتے ہیں گھائل قاتل

’’غافرہ ذرا دو کپ چائے بنا دو… اور ساتھ ہی کچھ نمکین بھی دے دینا۔‘‘ ابتسام نے عجلت سے کچن میں کام کرتی غافرہ سے کہا تو غافرہ کا منہ بن گیا۔

’’ایک تو یہ آپ کے دوست بھی ناوقت بے وقت نازل ہوتے رہتے ہیں… اب سارا کام چھوڑ کر چائے پانی کرو‘‘ غافرہ نے جھنجھلا کر ہاتھ میں پکڑا چمچ پٹخنے کے انداز میں رکھا تو ابتسام کی ہنسی چھوٹ گئی۔

’’کتنی بار بتاؤں میری اچھی بیگم؟ یہ میر اکالج کے زمانے کا دوست ہے۔ بیوی کے ساتھ آیا ہے ملنے۔ اس کی بیوی کو میں نے امی کے کمرہ میں بٹھایا ہے۔ ابتسام نے غافرہ کی چڑچڑاہٹ کا مزہ لیتے ہوئے اسے اطلاع دی۔

’’یا اللہ! نہ جان نہ پہچان میں تیرا مہمان ۔ میں کیا بات کروں! آپ بھی نہ حد کرتے ہیں‘‘ غافرہ چڑ سی گئی۔‘‘

’’عورتوں کو باتیں بنانے اور سوری باتیں کرنے کے لیے جان پہچان کی کیا ضرورت …! تم بھی نا حد کرتی ہو۔‘‘ ابتسام نے جاتے جاتے اسی کے ٹون میں جواب دیا تو غافرہ ہنس دی اور سالن کا برتن چولھے سے اتار کر تیل گرم ہونے کڑاہی میں رکھ دیا۔ ساتھ ہی تیزی سے پکوڑے کا مصالحہ تیار کرنے لگی۔

چائے اور پکوڑے تیار کر کے اس نے دو ٹرے تیار کیے ایک ابتسام کو مہمان خانے میں دے آئی اور دوسری اپنی ساس کے کمرے میں لے آئی جہاں ابتسام کے دوست کی بیوی بیٹھی تھی۔ اس کی ساس فضا آپی کے گھر گئی ہوئی تھیں۔

’’السلام علیکم…‘‘ اس نے کمرے میں داخل ہوتے ہی سلام کیا لیکن سامنے بیٹھی خاتون کو دیکھ کر اس پر حیرت کا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔ یہی حال سامنے بھی تھا!

’’تم … تم غافرہ ہونا…،، غافرہ بتول، آنے والی نے کنفیوزڈ لہجے میں پوچھا۔

’’اور تم طیبہ… ’طیبہ ملک‘ غافرہ نے دبے دبے جوش سے کہا۔

’’یا اللہ… یقین ہی نہیں ہو رہا ہے‘‘ دونوں ہی بڑے جوش سے ایک دوسرے سے لپٹ گئیں۔

دونوں ہی اسکول کے زمانے کی دوست تھیں اسکول چھوٹ گیا۔ وقت آگے ہی بڑھتا گیا لیکن اتنے سالوں بعد بھی دوستی کے رنگ تازہ تھے۔ اسکولی دور کے دوستوں کا بھی کوئی ثانی نہیں ہوتا۔ درمیان میں بھلے ہی لمبا عرصہ آجائے دوستی۔ ور محبت میں فرق نہیں آتا۔

’’میں تو ابتسام سے ناراض ہو رہی تھی کہ کسی انجان خاتون سے میں کیا بات کروں گی اور دیکھو تم تو اپنی ہی نکلیں۔ غافرہ بہت خوش تھی۔

’’مجھے تو اب بھی یقین نہیں آرہا کہ یہ تم ہو… بہت اچھا لگ رہا ہے یوں عرصہ بعد تم سے مل کر…‘‘ طیبہ نے بھی اپنی خوشی کا اظہا رکیا اور پھر دونوں ہی باتوں میں مگن کیا ہوئیں بلکہ غرق ہوگئیں۔ کس کس سہیلی کی کب شادی ہوئی؟ کہاں ہوئی؟ کس کی باقی ہے؟ پرانی یادیں اور باتیں… ابتسام اسی دوران ایک چکر بھی لگا گیا لیکن دونوں ہی باتوں میں اتنی مگن تھیں کہ احساس ہی نہ کر پائیں۔

’’اور تم بتاؤ، سسرال میں کون کون ہے۔‘‘ غافرہ نے پوچھا۔

’’فیضان تیسرے نمبر کے ہیں، ان سے بڑے ایک بھائی اور ایک بہن ہیں اور ان سے چھوٹی ایک بہن ہے۔ بڑے بھیا اور بڑی آپی کی شادی ہوچکی اور چھوٹی پڑھائی کر رہی ہے۔ ساس اور سسر بھی اللہ کے فضل سے موجود ہیں۔ سسر تھوڑے بیمار رہتے ہیں۔‘‘ طیبہ نے تفصیل سے جواب دیا۔

’’اوہ پھر کیسے گزر رہی ہے تمہاری زندگی جوائنٹ فیملی میں؟‘‘ غافرہ نے بڑے تجسس سے سوال کیا۔

’’ارے نہیں، میں سب کے ساتھ نہیں رہتی۔ شادی کے چند ماہ بعد ہی میںنے فیضان سے ضد کرکے الگ گھر لینے کو کہہ دیا تھا۔ میں تو اس چڑیا گھر میں نہ رہ سکتی تھی۔ بھابھی کے تین بچے، آئے دن نند کے چکر، ان کے بچے، ساس بھی سماجی اعتبار سے خوب ایکٹیو ہیں ان کے ملنے ملانے والے اور سسر کی تیمار داری کو آنے والے، مرا تو سانس لینا دشوار ہوگیا تھا۔ طیبہ نے منہ بنا کر کہا۔

’’فیضان بھائی نے سن لی تمہاری بات!‘‘ غافرہ نے حیرانی سے پوچھا۔

’’ہاں، فیضان مجھ سے بہت محبت کرتے ہیں۔ انھوں نے فورا ہی مجھے نیا گھر لے دیا۔ قسطوں میں ادائگی کر رہے ہیں۔ اصل مزہ تو اپنے گھر میں آتا ہے نا! مجھے تو بڑی بھابھی پر حیرانی ہوتی ہے کہ وہ کیسے رہتی ہوں گی۔ ویسے حیرت تو مجھے تم پر ہو رہی ہے کہ آخر تم کیسے رہ لیتی ہو…‘‘ طیبہ کا تو انداز ہی نرالا تھا۔

’’نہیں… ایسا کچھ نہیں، میں نے کبھی الگ رہنے کا سوچا ہی نہیں ورنہ ابتسام بھی میری بات کبھی نہ ٹالتے۔‘‘ غافرہ نے پھیکی ہنسی کے ساتھ کہا تو طیبہ مسکرا دی۔ نہ جانے کیوں غافرہ کو وہ مسکراہٹ مضحکہ اڑاتی لگی تھی۔

’’خیر تمہاری خوبی اور صلاحیت ہے بھئی! ورنہ الگ گھر، اپنا گھر، جہاں کسی کی بے جا دخل اندازی نہ ہو، اپنی مرضی چلے، جہاں کی ملکہ ہم خود ہوں، کس لڑکی کی خواہش نہیں ہوتی؟‘‘طیبہ نے اس کی مسکراہٹ کے ساتھ ایک بات کہی اور اس بات نے غافرہ کی خواہش کو مزید ہوا دے دی۔

بیگم فائقہ کی وقتاً فوقتاًکہی جانے والی وہ ساری باتیں اور نصیحتیں جو اس کے لاشعور میں جگہ بنائے بیٹھی تھیں اب مناسب ہوا پانی دیکھ کر امڈ آئی تھیں۔ کچھ دیر بعد طیبہ توچلی گئی لیکن غافرہ کے دل و دماغ میں ایک جنگ چھڑ گئی تھی۔

٭

جو تار سے نکلی ہے وہ دھن سب نے سنی ہے

جو ساز پہ گزری ہے وہ کس دل کو پتا ہے؟

’’ابتسام… میں آپ سے کچھ کہوں تو آپ مانیں گے کیا؟ اگر تم کہوگی کہ ابتسام میرے لیے چاند تارے توڑ لائیں یا پھر فرہاد کی طرح دودھ کی نہر کھودیں، مجنوں بن کر دیوانہ بنے صحرا میں پھریں تو بیگم صاحبہ یہ ہم سے نہ ہوگا۔‘‘ ابتسام نے موبائل اسکرین پر سے نگاہیں ہٹا کر شوخی سے کہا تو ٖغافرہ اسے گھور کر رہ گئی۔

’’نہیں یہ سب نہیں کہوں گی، در اصل میں سوچ رہی تھی کہ‘‘ غافرہ ایک لمحے کے لیے جھجک کر رک گئی۔

’’کیا سوچ رہی ہیں‘‘ ابتسام اس کے انداز کو دیکھ کر سنجیدہ سا ہوگیا۔

’’میں سوچ رہی تھی کیوں نہ ہم الگ گھر لیکر رہیں، اپنا گھر۔‘‘ غافرہ نے بالآخر ہمت کر کے کہہ ہی دیا۔

’’الگ گھر…؟‘‘ غافرہ، یہ بھی تو ہمارا ہی گھر ہے نا؟‘‘ یا تو ابتسام بات سمجھ نہیں پایا تھا یا جان بوجھ کر نہ سمجھنے کی ادا کاری کر رہا تھا۔

’’ہاں! مگر میں صرف اپنے گھر کی بات کر رہی ہوں، جہاں صرف میں اور آپ رہیں۔‘‘ غافرہ کے لہجے میں شوق تھا اور چاہ تھی۔

’’تمہیں یہاں کوئی مسئلہ ہے کیا؟‘‘ ابتسام نے سنجیدگی سے پوچھا۔

’’مسئلہ… ہوں!‘‘ غافرہ نے ایک تلخ ہنسی کے ساتھ گردن جھٹک دی۔ مگر خواہش کا تقاضا تھا کہ مصلحت کے دامن کو ہاتھ سے نہ چھوڑا جائے۔

’’دراصل میں پرائیویسی چاہتی ہوں… میں چاہتی ہوں کہ میرا اپنا ایک گھر ہو، جہاں میری مرضی چلے، میں اپنی مرضی اور پسند سے ہر کام کرسکوں، گھر سجا سکوں، کھانا بنا سکوں، جہاں میری بات چلے۔‘‘ آہ…

ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے!

’’غافرہ! یہ بھی تمہارا اپنا گھر ہے۔ یہاں بھی تم اپنی مرضی سے یہ سب کچھ کر سکتی ہو۔ اس گھر کو بھی اس شوق اور جذبہ محبت سے سنوارو۔‘‘ ابتسام نے اسے سنجیدگی سے سمجھایا۔

’’خاک میری چلتی ہے۔ ہر کام تو آپ کی امی سے پوچھ کر کرنا پڑتا ہے۔ آئے دن آپ کی بہنوں کے، بچوں سمیت، چکر لگتے رہتے ہیں۔ نہ میری مرضی ہی چلتی ہے اور نہ ہی پرائیویسی نام کی کوئی چیز ہے۔‘‘ غافرہ کا پارہ ہائی ہونے لگا۔

’’تمہیں میری ماں اور بہنوں سے آخر مسئلہ کیا ہے؟ ہاں… امی اس گھر کی بڑی ہیں انہی کی مانی جائے گی اس گھر میں۔ وہ تو تمہیں کبھی نہیں ٹوکتیں کسی بھی بات پر… تم خود ہی کسی چیز میں انٹرسٹ نہیں لیتی ہو! اور رہا مسئلہ بہن کا تو وہ آئے گی، ایک نہیں سو بار آئے گی… ان کے ماں باپ کا، بھائی کا گھر ہے… ابتسام کا آج ضبط ہی جوا بدے گیا تھا۔

’’ہاں وہی تو میں کہہ رہی ہوں کہ یہ ان سب کا گھر ہے میر انہیں… مجھے میرا گھر چاہیے۔ طیبہ کے لیے آپ کے دوست نے تو شادی کے چند ماہ بعد ہی علیحدہ گھر لے دیا تھا۔ لوگ اپنی بیوی سے محبت کرتے ہیں تو اس کی بات بھی مانتے ہیں… آپ تو بس نبھا رہے میرے ساتھ… محبت تو سرے سے ہے ہی نہیں۔‘‘ غافرہ روہانسی ہوگئی۔

’’پہلی بات محبت کرنے نہ کرنے کے لیے اس سطحی چیز کو معیار نہ بناؤ اور دوسری بات تمہاری عقل مند دوست نے تمہیں صرف آخری نتیجہ بتایا ہے کہ وہ علیحدہ گھر لے کر رہ رہی ہے لیکن اگر ذرا تفصیل بھی پوچھ لیتیں تو تم کو پتہ چلتا کہ صرف اپنا گھر بچانے کی خاطر فیضان نے لوگوں کے سمجھانے پر اس چیز کو قبول کیا ورنہ وہ تو طیبہ کو چھوڑ ہی دینا چاہتا تھا جو شادی کے چند ماہ بعد ہی ایک بے جا اور احمقانہ ضد پکڑے جا بیٹھی تھی۔‘‘ ابتسام کے لہجے میں بلا کی تلخی تھی۔

’’تو کیا آپ کو اپنا گھر عزیز نہیں؟‘‘ غافرہ کے لہجے میں تلخی سے زیادہ طنز تھا۔

’’تو کیا اب تم مجھے دھمکی دے رہی ہو کہ تم بھی وہی احمقانہ حرکت کروگی!‘‘ ابتسام غرایا۔

’’دھمکی نہیں دے رہی سچ کہہ رہی ہوں۔ جب بیوی کے لیے ایک گھر نہیں لے سکتے، اس کی کوئی چھوٹی سی فرمائش پوری نہیں کرسکتے تو پھر شادی کرنے کی ضرورت ہی کیا تھی اگر ذمہ داری نہیں اٹھا سکتے تھے تو…‘‘ غافرہ نے اب ساری حدیں پار کرتے ہوئے ابتسام کی مردانہ انا پر وار کر دیا تھا۔’’اور ماں بہنیں اتنی ہی پیاری ہیں تو ان ہی کے ساتھ رہیں نا بیوی کا بوجھ کیوں؟‘‘ غافرہ کی آواز بھی اونچی ہوگئی تھی اور لہجہ باغیانہ… مرد چاہے کتنا ہی صلح جو اور مصلحت پسند ہو عورت کا باغی لہجہ اور وہ بھی اپنے گھر والوں کے خلاف، وہ یہ باتیں برداشت نہیں کر پاتا۔

’’اتنی اونچی آواز اور اس لہجہ میں مجھ سے بات مت کرو۔‘‘ ابتسام نے سختی کے ساتھ اس کا بازو پکڑ لیا کہ اس کی انگلیاں غافرہ کے بازو میں پیوست سی ہوگئیں۔

’’اگر اتنی ہی ناخوش ہو میرے ساتھ تو تم اس گھر سے آرام سے جاسکتی ہو، وہیں جاؤ جہاں تم خوش رہو۔ تم جیسی عورتیں گھر بسا ہی نہیں سکتیں۔‘‘ غصہ کی شدت سے اس کی آنکھیں سرخ ہوگئی تھیں جب کہ غافرہ درد سے کراہ اٹھی تھی۔

’’ہاتھ چھوڑیے میرا… مجھے بھی کوئی شوق نہیں ہے آپ کے ساتھ رہنے کا… جا رہی ہوں میں اپنے امی ابا کے گھر… اور جب تک آپ میرے لیے علیحدہ گھر نہ لیں گے میں واپس نہیں آنے والی؟‘‘ غافرہ نے جھٹکے سے اپنا بازو ابتسام کی گرفت سے چھڑایا… بے دردی سے گال پر پھیلے آنسو صاف کیے اور کمرہ سے نکل گئی۔

’’سوچ لو… تم خود ہی گھر چھوڑ کر جا رہی ہو اور تمہیں خود ہی واپس آنا ہوگا… اس خام خیالی میں مت رہنا کہ میں تمہیں منانے یا لینے آؤں گا یا میرے گھر سے کوئی آئے گا۔‘‘ ابتسام ایک ایک لفظ چبا چبا کر کہہ رہا تھا۔ جب کہ غافرہ ایک ہاتھ سے بیگ گھسیٹتے ہوئے اس دہلیز کو پار کر رہی تھی جس میں اس نے نئی زندگی کے خوابوں کو آنکھوں میں سجا کر قدم رکھا تھا اور اب ٹوٹے بکھرے خوابوں کو پلکوں میں سمیٹے جا رہی تھی۔ ابتسام نے سختی سے منہ بند کر رکھا تھا کہ اس کی رگیں تک ابھر آئی تھیں۔ اس نے انتظار کیا کہ شاید غافرہ پیچھے مڑ کر دیکھ لے تو وہ جان جائے گا کہ غافرہ اس سے سچ میں محبت کرتی ہے اور یہ بس ایک کمزور لمحہ تھا جس کا شیطان نے فائدہ اتھایا اور غافرہ گردن اٹھائے دل کی فصیلوں سے دور چلی گئی۔ ابتسام دکھے دل کے ساتھ اسے اس دہلیز کو پار کرتے ہوئے دیکھتا رہا جہاں وہ غافرہ کو بڑے ارمانوں اور محبت کے ساتھ بیاہ کر لایا تھا۔ وہ اب اپنے ارمانوں کا خون ہوتے دیکھتا رہ گیا۔

یہ سب منظر دو آنکھیں اور بھی دیکھ رہی تھیں، وہ کھلا دشمن آج پھر جشن کی تیاری کر رہا تھا۔ آج کا تاج اس کے سر پر رکھا جانے والا تھا کہ اس نے شوہر اور بیوی کے درمیان جدائی ڈال دی تھی۔ جب کہ باقی ساری فضا میں اداسی گھل گئی تھی۔ سورج نے اداسی کے ساتھ اپنی کرنیں سمیٹ لی تھیں۔ ہوائیں ماتم کرتی محسوس ہو رہی تھیں اور شام بھی دھواں دھواں سی تھی۔lll

شیئر کیجیے
Default image
سمیہ تحریم امتیاز احمد

Leave a Reply