عادت سے مجبور

کسی شہر میں ایک سمیت نام کاگرہ کٹ رہتا تھا۔ اس کے ماموں کی بڑی دوکان اور چھوٹی بیٹی تھی۔ اچانک ماموں کا انتقال ہوگیا۔ رشتے داروں نے بیٹی کی شادی سمیت سے کردی تاکہ کاروبار اور بیٹی دونوں کو سنبھالا مل جائے۔ اس طرح بن بلائے ایک پاکٹ مارکے اچھے دن آگئے اور وہ گرہ کٹ سے دوکاندار بن گیا۔ ایک دن سمیت کے صحافی دوست پرنب نے دیکھا کہ لوگ ریلوے پلیٹ فارم پر اسے گالیاں بک رہے ہیں۔اس پر تھوک رہے ہیں اور وہ بڑی بے حیائی سے مسکرا رہا ہے۔ پرنب نے پوچھا اس بیچارے کوکیوں برا بھلا کہہ رہے ہو؟ لوگوں نے جواب دیا۔ یہ پاکٹ مار ہے اس نے ٹرین میں ابھی ابھی ان دوبھائیوں کی جیب پر ہاتھ صاف کیا ہے۔ پرنب نے دیکھا کہ جن کی جیب کٹی ہے وہ کافی مسکین لوگ ہیں۔ پرنب بولا ارے بھائی یہ تو بازار کی سب سے بڑی دوکان کا مالک ہے۔ اس کے پاس بہت مال و دولت ہے یہ بھلا ایسی اوچھی حرکت کیوں کرسکتا ہے؟ مجمع بھڑک گیا کچھ لوگوں نے کہا تم اس کی وکالت نہ کرو۔ یہ رنگے ہاتھوں پکڑا گیا ہے۔ پرنب نے کسی طرح سمجھا بجھا کر معاملہ رفع دفع کیا اور اپنے دوست سے پوچھا یار اب تومیری طرح تو بھی خوشحال ہوچکا ہے۔ یہ پرانا دھندہ چھوڑ کیوں نہیں دیتا؟ گرہ کٹ بولا کیا کروں یار عادت سے مجبور ہوں۔ جب بھی کسی کی جیب میں نوٹ محسوس کرتا ہوں میرے ہاتھ میں کھجلی ہونے لگتی ہے۔ پرنب بولا وہ تو ٹھیک ہے لیکن اب تیری حیثیت بدل گئی۔ میں نے کس قدر محنت و مشقت کرکے تیری شبیہ سدھاری ہے۔ اب لوگ تیرا شمار شرفاء میں کرنے لگے ہیں۔اپنی عزت کا نہ سہی ، میری محنت کا تو کچھ خیال کیا کر؟

سمیت نے جواب دیا یار تو بھی عجیب آدمی ہے۔ ایک بار محنت کرتا ہے اور اس کا معاوضہ وصول کرلینے کے بعد پھر اضافی مطالبہ کرتا ہے۔ ہمارا حساب بے باق ہوچکا ہے۔پرنب نے تائید کی جی ہاں میں جانتا ہوں لیکن یہ بتا کہ تیرے پاس اس قدر دھن دولت پہلے ہی سے موجود ہے پھر تو نے یہ ذلیل حرکت کیوں کی؟ پاکٹ مار بولا تو کون سا فقیر ہے ؟ تیرے پاس بھی تو کوئی کمی نہیں ہے اس کے باوجود تو نے میری پردہ پوشی کیوں کی ؟ پرنب خود اپنے دام میں پھنس چکا تھا۔ وہ بات بنانے کیلئے ہنس کر بولا یار میں کیا کروں یہ میرا پیشہ ہے میں صحافی جو ہوں۔ اس کے سوا اور کر بھی کیا سکتا ہوں ؟ تونے شہنواز زیدی کا وہ شعر نہیں سنا کہ

ہر ایک چیز اگر تیرے اختیار میں ہے

تو میں نے ہونے دیا ، جو ہوا میں کیا کرتا

سمیت یہ سن کر خوش ہوگیا اور بولا یا ر ایک بات بولوں! میں شاعروں کو بے وقوف سمجھتا تھا لیکن یہ شہنواز زیدی تو بڑا سمجھدار لگتا ہے۔ کیا تو مجھ کو اس سے ملاسکتا ہے؟ پرنب نے سوال کیا ،’’ کیوں تو اس سے مل کر کیا کرے گا؟‘‘ ارے بھائی کبھی کبھار شعر شاعری سے دل بہلا لیا کروں گا۔ میں گرہ کٹ ہوں تو کیا ہوا؟ آخر میں بھی تو ایک انسان ہوں۔ پرنب کیلئے یہ عجیب انکشاف تھا کیونکہ وہ گرہ کٹ کو شاعر تو کجاانسان بھی نہیں سمجھتا تھا۔ اچھا مجھے تیری شاعری کی دلچسپی کا پتہ نہیں تھا؟ ابھی تجھے پتہ ہی کیا ہے۔ یہ شعر سننے کے بعد مجھے وہ شعر یاد آگیا ؟

کروں گا کیا جو سیاست میں ہو گیا ناکام

مجھے تو اور کوئی کام بھی نہیں آتا

پرنب نے چونک کر پوچھا یار تیری تجارت میں یہ سیاست کہاں سے آگئی ؟ گرہ کٹ ہنس کر بولا: تو نے پکڑا تو سہی مگر غلط پکڑا۔احمق شعراء آج بھی تجارت یا سیاست چھوڑ کر محبت کے پھیرے میں پڑے رہتے ہیں حالانکہ اس کل جک میں صحافت کی طرح سیاست بھی ایک تجارت ہے۔گرہ کٹ کی منطق پر پرنب کے چودہ طبق رو شن ہوگئے۔ وہ بولاکیا مطلب ؟کیاآج کل گرہ کٹ اور سیاستداں میں کوئی فرق نہیں ہے۔سمیت بولا: فرق توہے مگراتنا کہ ایک تو کبھی کبھارپکڑا بھی جاتا ہے مگر دوسرے پر الزام تک نہیں آتا۔ کیوں جانتے ہو ؟ نہیں جانتا تو سن بقول شاعر

چرا کے خواب وہ آنکھوں کو رہن رکھتا ہے

اور اس کے سر کوئی الزام بھی نہیں آتا

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر سلیم خان

Leave a Reply