رشتے، خاندان اورعورت

ہمارا خاندانی نظام ٹوٹ رہا ہے، بکھر رہا ہے، ہماری وہ مشرقی، معاشرتی روایات، جن پر ہمیں فخر ہوتا تھا، اب ماضی کی داستانیں بن گئی ہیں۔ہم سب بدل گئے ہیں یا معاشرہ تبدیل ہوگیا ہے؟ یہ اس دور کا اہم ترین سوال ہے اور ستم تو یہ ہے کہ ہمارے سربراہان اکابرین اس تبدیلی کو سنجیدگی سے نہیں لے رہے۔ انہیں احساس ہی نہیں کہ نام نہاد ترقی کے جنون میں ہم اجتماعیت چھوڑ کر انفرادیت کی طرف جا رہے ہیں۔

مشرقی اور مغربی دنیا میں جہاں دیگر ہزاروں فرق ہیں، وہاں سب سے اہم فرق خاندان کے تصور کا ہے۔ مشرق میں خاندان کا مطلب دادا دادی، ماں باپ، بھائی بہن کے ساتھ رہنا اور ان کے علاوہ نانا نانی، چاچا چاچی اور دیگر رشتے داروں سے رابطہ رکھنا ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ محلے کے دیگر افراد اور بزرگوں سے بھی ادب سے برتاؤ خاندانی آداب کا حصہ سمجھا جاتا تھا۔

مغرب میں چوں کہ اب خاندان باقی نہیں رہا، اسی لیے اس کی باقیات کو محفوظ کر کے اسے یاد کیا جاتا ہے اور ’’فیملی ڈے‘‘ یا ’’خاندان کا دن‘‘ منایا جاتا ہے۔ بدقسمتی سے ہم مشرقی لوگ بھی مغربی روایتوں سے لطف اندوز ہونے لگے ہیں اور ہم میں بھی اب اس طرح کے دن منانے کی روایت کا آغاز ہو چلا ہے۔ ’’خاندان‘‘ کا تصور مختصر ہوکر ’’میرے گھر‘‘ تک محدود ہوگیا ہے، بس عید اور بقرعید کی چھٹیوں کے موقع پر خاندان کو جمع کر کے ہلاّ گلّا کیا جاتا ہے یا خدانخواستہ خاندان میں کسی کی وفات پر خاندان مل بیٹھتا ہے۔ اس طرز زندگی کی ابتدا کرنے والوں کو انداہ ہی نہیں کہ وہ ہماری روایات کو پامال کر کے مضبوط مشرقی اقدار کا خاتمہ کر رہے ہیں۔

چند عشروں قبل ہماری سوچ یہ تھی کہ ہماری ترقی سے ہمارا خاندان ترقی کرے گا۔ اگر ہم کوئی کارنامہ کرنا چاہتے تھے تو ہماری سوچ یہ ہوتی تھی کہ اس کامیابی سے ہمارے ملک، خاندان اور شہر کا نام روشن ہوگا۔ اب ہماری سوچ کا دائرہ مختصر ہوگیا ہے۔ ہم اپنے یا اپنی اولاد کے بارے میں سوچتے ہیں۔ ایک لمحے کے لیے تصور کرلیں کہ اگر کل ہماری سوچ صرف ہم تک رہ گئی تو کیا ہوگا؟ اگر ہماری اولاد بالغ ہوتے ہی ہم سے جدا ہوجائے تو ہم پرکیا بیتے گی؟

حقیقت یہ ہے کہ زندگی کی آسائشیں حاصل کرنے کے جنون میں ہم حقیقی خوشیوں کے اسباب کو فراموش کر بیٹھے ہیں۔ زندگی کی گہماگہمی، افراتفری اور بھاگ دوڑ میں اپنے آپ سے ملنے کا وقت نہیں ملتا تو خاندان اور خاندان والے کسے یاد رہ سکتے ہیں!

افسوس آج کے سائنس و ٹیکنالوجی کے دور میں انسانی رشتوں کی اہمیت ختم ہوتی جا رہی ہے۔ خونی رشتوں کی زنجیریں اور ان کی کڑیاں ٹوٹ رہی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ معاشرہ خاندان سے تشکیل پاتا ہے۔ خاندان والوں کی محبتیں، چاہتیں، باہمی ایثار، اپنائیت، ایک دوسرے کا خیال اور خوشی و غم میں شرکت سے زندگی کو رونقیں ملتی ہیں، لیکن مادہ پرستی اور جاہ پرستی کاندانوں کو توڑنے کا سبب بن رہی ہے۔ خود غرضی نے ہمیں اپنے جال میں پھانس لیا ہے۔ آج تو یہ حال ہے کہ خاندان میں بھی ہم ان سے ملنا پسند کرتے ہیں، جن سے ہمیں کچھ دنیاوی فائدے کی امید ہوتی ہے۔

اسلام نے زندگی کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت کے ساتھ ساتھ والدین اور قرابت داروں سے نیک سلوک کرنے کا حکم دیا ہے اور حقوق العباد کی اہمیت بتائی ہے۔ معاشرے کے تمام افراد کے حقوق کے بارے میں تمام باتیں ہمارے پیارے نبیﷺ نے جابجا بیان کی ہیں، معاشرے کے تمام افراد کے فرائض اور ھقوق مقرر کیے ہیں، تاکہ آپس کے جھگڑوں اور رنجشوں سے محفوظ رہتے ہوئے خاندانی نظام اور معاشرے کو مضبوط بنایا جاسکے۔ والدین یا ساس سسر کو تو چھوڑیں، اسلام میں پڑوسیوں تک کے اتنے حقوق بیان کیے گئے ہیں کہ لوگوں کو شبہ ہوا کہ کہیں پڑوسیوں کا حصہ وراثت میں تو نہیں ہوجائے گا؟

خاندان کا وجود والدین کے والدین اور ان کی اولاد سے آتا ہے۔ جب اولاد بڑی ہوتی ہے تو ان کی شادی کے نتیجے میں دو مختلف خاندان ملتے اور نئے رشتے جنم لیتے ہیں۔ معاشرے کی تشکیل رشتوں کے اس بناؤ سے ہی ہوتی ہے۔ خوش گوار زندگی کے لیے ہم سب کو دوسروں کی مدد اور محبت کی ضرورت ہوتی ہے۔ خاندان کے افراد زنجیر کی صورت میں ایک دوسرے سے باہم جڑے ہوتے ہیں۔ جتنا پیار، اپنائیت، خلوص و محبت ہوگی، رشتے میں اتنی ہی پائے داری ہوگی۔اور یہ سب تبادلے کی اشیا ہیں، انہیں حاصل کرنے کے لیے دوسروں کو بھی یہی سب دینا پڑتا ہے۔ خاندانی رسم و رواج، ملنا ملانا، خوشی غمی میں شرکت اور روابط رکھنا خاندان کو پائیداری بخشتا ہے۔ یہی روابط اپنے دکھ سکھ کے موقع پر ایک نعمت محسوس ہوتے ہیں۔ دوسروں کی خوشی میں شریک ہونا، غموں میں ساتھ دینا، ایک دوسرے کو تحفے تحائف دینا، دعوتیں کرنا، مزاج پرسی کو جانا، عیادت کرنا، تعزیت کرنا… یہ سب خاندانی روابط کا حصہ ہیں۔ اور ہر دکھ درد کی مشکل گھڑی میں یہی روابط کام آتے ہیں۔ اگر اللہ نے آپ کو مال و دولت سے نوازا ہے تو دوسروں کی مدد کریں… اگر نہیں تو مشکل وقت میں ان سے محبت کے چند بول ضرور بولیں۔ صلہ رحمی اور ہمدردی کرنے والے کو خاندان میں لوگ عزت اور محبت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

مرد کی دنیا گھر کے باہر کی ہوتی ہے۔ اسے گھر سے نکل کر بیرونی دنیا میں کام کرنا ہوتا ہے، جب کہ گھر کے اندر عورت کی حکمرانی ہوتی ہے۔ خاندان کو مضبوط بنانے میں خواتین کی ذمہ داری اہم ہوتی ہے۔ خاندان کو ایک اکائی بنانے اور ایک دوسرے کو باہم پیوست رکھنے میں ایک عورت ہی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ خواتین اگر چاہیں تو اپنی سمجھ داری سے خاندانی روابط کو اتنا مضبوط بنا سکتی ہیں کہ وہ بڑے سے بڑے جھٹکے سے بھی نہ ٹوٹیں۔ اور یہی عورت اپنی نادانی سے ان خاندانی روابط کو اس طرح بکھیر سکتی ہے کہ افراد کے باہمی روابط ختم ہوجائیں اور خاندان ٹوٹ جائیں۔ انسانی رشتوں کی اہمیت خواتین سے زیادہ کوئی نہیں جانتا۔ رشتے داریاں نبھانا، رشتوں کی نزاکتوں کو سمجھنا، ان کے تقاضوں کو پورا کرنا، خاندان کے تمام افراد کو ملانا، باہمی اختلافات ختم کرانا خواتین کی اہم ذمے داریوں میں شامل ہے۔ چوں کہ خواتین فطرتاً حساس اور نرم دل ہوتی ہیں لہٰذا بہتر طریقے سے ان ذمے داریوں سے نبرد آزما ہوتی ہیں۔ عورت بیٹی، بیوی اور ماں کے روپ میں خاندان کو آپس میں ملا کر رکھنے کا فرض احسن طریقے سے ادا کرتی ہے۔

خاندان میں عورت کی اہمیت مسلمہ ہے۔ ابتدا سے ہی بیٹی کے روپ میں بھی وہ خاندان کے افراد کے درمیان پیار و محبت بڑھانے کا ذریعہ بنتی ہے۔ لڑکیاں اپنی امن پسند، مصلحت پسند طبیعت کے سبب خاندان کو بہت سے جھگڑوں سے دور رکھتی ہیں اور لڑکوں کے مقابلے میں نانا نانی، دادا دادی، چچا، ماموں اور خالہ، پھوپھی سے محبت زیادہ کرتی ہیں۔ بیٹی بڑی ہوکر بیوی کے روپ میں نئے خاندان میں شامل ہوکر نئی زندگی میں قدم رکھتی اور خاندان کے درمیان رابطے کا کام دیتی ہے۔ سمجھ دار لڑکی اپنی فہم و فراست سے دو خاندانوں کو ایک کردیتی ہے او راپنی محبت و اطاعت سے سسرال میں سب کا دل جیت سکتی ہے اور شوہر کے خاندان کو اپنا بنا سکتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اسلام نے ساس سسر کے کوئی حقوق مقرر نہیں کیے ہیں، لہٰذا ساس سسر کی خدمت تو دور کی بات ہے، ان کی عزت بھی نہیں کی جاتی۔ لیکن کیا یہ حقیقت نہیں کہ وہ ساس سسر تو بہو کے لیے ہوتے ہیں، شوہر کے تو والدین ہوتے ہیں۔ اس کو تو اپنے والدین کے حقوق کی آگاہی ہونی چاہیے اور جب شوہر ان حقوق کو ادا کرے تو بہتر یہ ہو کہ بیوی اس کا ہاتھ بٹائے۔ لیکن اگر ایسا کرنا ممکن نہ ہو تو کم از کم شوہر کی راہ میں رکاوٹ نہ کرے۔ بہو کو صرف ایک بات یاد رکھنی چاہیے کہ جلد ہی وہ بھی کسی کی ساس بننے والی ہے۔ ہر فرد کوشش کرے کہ سب کے حقوق کی ادائیگی ہوسکے۔ شوہر کے والدین یا دیگر بزرگ جو ایک چھت تلے رہتے ہیں، ان کے ساتھ محبت و ہمدردی کا سلوک کیا جانا چاہیے۔ انہیں اپنے والدین کی طرح سمجھا جائے۔ شوہر کا وجود، اس کی تعلیم و تربیت سب کچھ ان کی محنتوں کے باعث ہی ممکن ہوا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ انھوں نے بہت مشکل اور بہت دشوار زندگی گزاری ہو۔ بزرگوں کے لیے چند لمحوں کی توجہ بھی بہت ہوتی ہے، جواب میں وہ آپ کے بچوں کی عمدہ نگہداشت کرسکتے ہیں۔

بچپن ہی میں اگر والدہ اولاد کو باہمی پیار و محبت، الفت اور باہمی احترام کے ساتھ رہنے کی تعلیم دے اور بچوں کو بزرگوں کے احترام کی اہمیت بتائے تو بچوں کو یہ باتیں تمام عمر یاد رہیں اور ساری عمر کام آئیں۔ خاندان کی ماں اگر بزرگ ہوتو ساس، نانی یا دادی کی صورت میں خاندان کو اکٹھا رکھنے کی بھاری ذمے داری بھی اسی پر عائد ہوتی ہے۔ یہی کلیہ مرد پر لاگو ہوتا ہے۔ والد، دادا، نانا یا سسر سب پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔

خاندان بزرگوں ہی کے دم سے مضبوط ہوتا ہے۔ ایک اور اہم بات ہمیں فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ یہ بزرگ ہی خاندان کے بچوں کی بہتر تربیت کرسکتے ہیں، بگاڑ کی صورت میں بھی بہترین اصلاح کرسکتے ہیں۔ جہاں انسان ہوں گے وہاں کچھ نہ کچھ اختلافات بھی ہوں گے۔ اختلافات کے مواقع پر باہمی احترام، درگزر، برد باری اور رواداری سے کام لیا جائے تو مسائل آسانی سے حل ہو جاتے ہیں۔

اگر بزرگ سب کے مسائل اور شکایات ہمدردی سے سنیں اور ان شکایت و مسائل، ظلم و زیادتیوں کا ازالہ اس طرح کریں کہ بات بڑھنے کے بجائے ختم ہوجائے تو خاندان برقرار رہ سکتا ہے۔

جو رشتہ جتنا قریبی ہے، اس کے ساتھ اتنا ہی قریب ہونے کا حکم دیا گیا ہے۔ دنیا میں محبت سے بڑا کوئی ہتھیار نہیں، اور اسی ہتھیار کے سہارے خاندانی رشتوں کو مضبوط سے مضبوط تر بنایا جاسکتا ہے۔ بس اس حقیقت کو تسلیم کرنے کی ضرورت ہے کہ زندگی اجتماعیت کا نام ہے۔ روزانہ صرف چند لمحے، چند منٹوں کی سلام دعا رشتوں کو دوام عطا کرسکتی ہے۔ اپنوں کا نہ ہونا اتنی تکلیف نہیں دیتا، جتنا کہ اپنوں کے ہوتے ہوئے بھی ان سے دور رہنا ہوتا ہے۔ محبت کے ہتھیار سے رشتوں کو مضبوط بنایا جاسکتا ہے، انسان اپنے خاندان کو کتنا بھی بھولنا چاہے، ہر دکھ سکھ میں خاندان اور خاندان والے ہی کام آتے ہیں۔ زندگی کے ہر پہلو کی خوب صورتی انسانوں کے باہمی روابط سے بڑھتی ہے۔

پرسکون زندگی کے لیے خاندان کا، رشتے داروں، عزیزوں اور اقربا کا ہونا لازمی ہے۔ اگر ہم تمام تر رعنائیوں اور خوب صورتی کے ساتھ زندگی کے روز و شب دیکھنا چاہتے ہیں تو دن کا کچھ حصہ خاندان اور رشتوں کے لیے مخصوص کرنا ہوگا۔ ان سے ملنا، دعا سلام کرنا، ان کی دعائیں لینا اور ان کے لیے دعائیں کرنا ہوں گی۔ اس تبدیلی کے بعد ہی ممکن ہو سکتا ہے کہ ہمیں ان خوشیوں کے لیے کسی ایک مخصوص دن کا انتظار نہ کرنا پڑے، جس میں مغرب مبتلا ہے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر عبد التوحید

Leave a Reply