نئی فصل کی کاشت

کچھ دنوں سے اس میں عجیب سا وحشی پن محسوس ہوتا تھا۔ وہ دانت کچکچانے لگتا جیسے اندرون میں کسی جذبہ کی تسکین چاہتا ہو اور وہ ہو نہ پا رہا ہو۔ ننھی فارحہ کو بھی اب وہ ایسی شدید مار مارتا کہ وہ روتی نڈھال سی ہو جاتی۔ کبھی اتنے تیز دانت گاڑتا کہ خون ہی نکل آتا۔ میںپریشان تھی، بے حد پریشان۔ استفسار پر بھی کوئی خاص بات سامنے نہ آئی۔۔۔ بہت سرزنش بھی کی مگر بے سود۔۔۔ ان ہی دنوں ایک واقعے نے میری چولیں تک ہلا ڈالیں۔ ہوا یوں کہ عصر کی ڈھلتی چھاؤں میں کرسی ڈالے صحن میں بیٹھی تھی کہ قریبی درخت پر لگے چڑیا کے گھونسلے سے اڑنے کی کوشش کرتا ننھا بچہ نیچے گر پڑا۔ وہ میرے پاس بیٹھا پتھروں کے ٹکڑوں سے کھیل رہا تھا ایک پتھر اٹھائے بھاگتا ہوا گیا اور اس سے پہلے کہ میں کچھ سمجھتی وہ اس چڑیا کو کچل چکا تھا۔ میں نے انتہائی غصے میں اسے ایک تھیپڑ دے مارا مگر یہ کیا، وہ ٹس سے مس تک نہ ہوا۔ وہ اس کچلے وجود کو دیکھ کر محویت کے ساتھ مسکرا رہا تھا جیسے لذت محسوس کر رہا ہو پھر اس نے میری طرف دیکھا۔ اس کی نظروں میں وحشت و بربریت کے سائے تھے۔ میں اندر سے کانپ گئی۔ اس کے بعد ہفتہ بھر میری طبیعت انتہائی خراب رہی۔ سکون آور دواؤں کے زیر اثر میں زیادہ تر سوئی رہی۔ گھر میں کیا ہو رہا ہے، کون آ اور کون جا رہا ہے، کچھ خبر نہ تھی۔ ہوش آتا تو لگتا جیسے بہت کچھ چھن چکا ہو۔ مایوسی اور اندھیرے کی انتہاؤں میں رب کریم کو پکارا تو کچھ آسرا ہوا۔ پھر وہی دن بھر کی روٹین تھی اور میں مگر وہ آنکھیں میرے سامنے سے نہ ہیئتیں۔ وہ سامنے نظر آتا تو حالت دگرگوں ہونے لگتی وہ بھی زیادہ تر اپنی سرگرمیوں میں مگن رہتا۔ اسکول سے آتے ہی دو تین گھنٹے تک کمپیوٹر پر مصروف رہتا۔ بہ مشکل قرآن پڑھانے لیے بھیجتی مگر وہ اکثر نظر بچا کر دوبارہ کمپیوٹر میں گھس جاتا۔ میں بچوں کو باہر بھیجنے سے بہتر سمجھتی تھی کہ وہ گھر میں مصروف رہیں۔ مگر اس دن سے میں کوئی سرا تلاش کرنے لگی کہ کہیں کوئی چیز غلط اور بہت غلط ہو رہی تھی۔

ان ہی سوچوں میں مگن سر پکڑے بیٹھی تھی کہ پڑوس کی مرغی کک کک کرتی ننھے بچوں کی فوج کے ساتھ کھلے دروازے سے صحن میں بنی کیاری کی طرف بڑھی۔ میرا دماغ کسی انجانے خطرے کے احساس سے جھجھنا اٹھا اور وہی ہوا، اسی لمحہ مرغی نے بھی خطرہ بھانپ لیا تھا۔ وہ کک کک کرتی بچوں کو اپنے پروں میں سمیٹنے لگی۔ وہ ایک درخت کی آڑ میں گھات لگائے مرغی کے بچے کو پکڑنے کی کوشش میں تھا۔ میں ایک جھٹکے سے اٹھی اور اس کا ہاتھ پکڑ کر کھینچتی ہوئی کمرے میں لے آئی۔ وہ انتہائی غصے میں بے قابو ہوا پوچھ رہا تھا امی آپ مجھے اندر کیوں لائیں، مجھے مرغی کے بچے کو پکڑنا تھا۔ اس لمحے اس کی آنکھوں میں کسی محرومی کی اداسی ابھر آئی تھی۔ اب میں نے اس کے معمولات پر تفصیلی نظر رکھنے کی ٹھانی۔ اسکول گئی اس کے دوستوں سے ملی، اساتذہ سے بات کی مگر کوئی سرا ہاتھ نہ آتا تھا۔ کھانا بناتے ہوئے بھی وہی سوچے چلی جا رہی تھی کہ کمپیوٹر کی طرف خیال گیا سر پر ہاتھ مار کر اپنی عقل کا ماتم کرتے اس کے کمرے کی راہ لی۔ اسکرین پر پہلی نظر کیا پڑی میری اوپر کی سانس ااوپر اور نیچے کی نیچے رہ گئی۔ اب میں تہہ تک پہنچ گئی تھی۔ وہ ایک گیم میں ننھی مرغی کے بچوں پر بمباری کر رہا تھا… پتھروں کی بمباری! مرغی کے بچے لہولہان ہوئے، مرتے اور ان کے اعضا بکھر جاتے۔ وہ مگن تھا، ایک وحشیانہ خمار اس کی نگاہوں میں انگڑائیاں لے رہا تھا۔ بڑی ہمت سے وجود کو کمپیوٹر کی طرف سے گھمایا۔ چھوٹا بیٹا ریموٹ پکڑے ٹی وی پر کوئی مووی دیکھ رہا تھا۔ گرتے وجود کے ساتھ جو آخری منظر دیکھا وہ خون میں لت پت نوجوانوں کا تھا جن کے وجود پر ہیرو کا وحشیانہ انداز میں قہقہے لگاتا وجود …ایک وحشت در وحشت تھی جو ہر طرف رقصاں تھی۔ ڈوبتا ضمیر پوچھ رہا تھا، یہ کیسی کھیتی کی تیاری ہے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
آسیہ عمران

Leave a Reply