غزل

خوشی میں دیکھ لیا حادثے میں دیکھ لیا

مزاج اس کا ہر اچھے برے میں دیکھ لیا

نہ دوسروں پہ کبھی انگلیاں اٹھائیں گے

جو ہم نے خود کو کبھی آئینے میں دیکھ لیا

وہ چاہتا ہی نہیں ہے تنازعوں کا علاج

وہ کج مزاج ہے ہر مسئلے میں دیکھ لیا

جناب شیخ ابھی اور رات ہونے دو

اگر کسی نے تمہیں میکدے میں دیکھ لیا

طلسم ٹوٹ گیا ذات کی بلندی کا

پلٹ کے جب بھی ترے سلسلے میں دیکھ لیا

وہ دن بھی کیا تھے کہ فائق پہ تھا عتاب نظر

اب ایسا کیا ہے جو اِس دل جلے میں دیکھ لیا

شیئر کیجیے
Default image
ابرار فائق

Leave a Reply