6

بچوں کو کام میں لگائیے!

ایک نیک آدمی نے وفات پائی اور اپنے پسماندگان میں ایک بیوی، دو بیٹے اور چار بیٹیاں چھوڑیں۔ تنگ دستی کی وجہ سے بڑا بیٹا اپنی تعلیم مکمل نہ کرسکا۔ اس کی والدہ نے اس کو قائل کرنے کی بے حد کوشش کی کہ وہ اپنی تعلیم مکمل کرے، مگر بیٹے نے یہی ٹھان لی کہ وہ اب کوئی کاروبار ہی کرے گا، تاکہ وہ اپنی بہنوں اور بھائی کی پرورش کرسکے۔ اس نے انہیں اپنے آپ پر ترجیح دی اور ان کی خاطر ایک بہت بڑی قربانی دی۔ اس کا مقصد اپنی والدہ کا بوجھ اٹھانا تھا۔ اس نے پرچون کی دکان کھول لی اور چوں کہ وہ سچا اور امانت دار تھا اور خرید و فروخت میں نرمی اختیار کرتا تھا لہٰذا لوگوں نے اسے پسند کیا اور خریداری کے لیے اس کی دکان کی طرف بڑھے۔ ادھر نوجوان نے طے کرلیا کہ وہ ہر حال میں اپنی والدہ کی خدمت کرے گا۔ اس نے اپنی امی کی اس طرح خدمت کی کہ اس کا دل بیٹے کی محبت سے بھرپور ہوا اور وہ اس سے خوش تھی۔

اللہ تعالیٰ نے نوجوان کی مدد کی اور وہ اپنی تین بہنوں کی شادی کے فرض سے سبک دوش ہوا۔ اس نے وہ گھر بھی مکمل کرلیا جو اس کا والد زیر تعمیر چھوڑ کر فوت ہوگیا تھا۔ اس نوجوان نے نہ تو اپنی والدہ کی عزت و تکریم اور خدمت میں کوئی کمی ہونے دی اور نہ ہی اپنی شادی شدہ بہنوں کے ساتھ حسن سلوک ترک کیا۔ وہ اپنے چھوٹے بھائی پر بہت ہی مہربان تھا۔ ہر طرح کی شفقت کرتا۔ وہ اس محبت و شفقت میں حد سے بڑھ گیا، حتی کہ وہ اس سے معمولی سا کام بھی نہ لیتا حالانکہ چھوٹا بھائی بیس سال کی عمر کا ہوگیا۔

میں نے اس نوجوان دکاندا رسے کئی بار کہا کہ وہ اپنے چھوٹے بھائی کو اپنے کام میں لگائے مگر وہ ہر بار دکھ اور افسوس کے ساتھ ملے جذبہ شفقت سے معمور ہوکر مجھے یہی جواب دیتا۔ ’’میں اس کا نہ صرف بڑا بھائی ہوں، بلکہ اس کے باپ کی جگہ ہوں، میں کوشش کر رہا ہوں کہ اسے باپ کی وہ شفقت دوں، جس سے وہ باپ کی وفات کی وجہ سے محروم رہا ہے۔‘‘

میرے اور اس نوجوان کے مابین اس موضوع پر طویل مکالمے ہوئے، بحث و تمحیص ہوئی مگر وہ اپنی رائے پر ہی ڈٹا رہا اور اپنے موقف میں ذرا تبدیلی پر آمادہ نہ ہوا۔

موسم گرما کی تعطیلات کے دوران بڑے بیٹے نے مجھے فون کیا اور درخواست کی کہ میں اس سے ملوں اور اس کے اور اس کے چھوٹے بھائی کے مابین فیصل بنوں جو اب یونی ورسٹی میں زیر تعلیم تھا۔ میں جب اس نوجوان سے ملا تو اس نے اپنے بھائی کے خلاف شکایات کا ایک دفتر کھول دیا۔ اس نے اپنے چھوٹے بھائی کی کارستانی کی تفصیلات سے مجھے آگاہ کیا تو خود بھی خوب رویا اور مجھے بھی رلایا۔ میں نے اس نوجوان سے کہا: ’’آپ نے اپنے بھائی کے ساتھ اچھا سلوک کرنا چاہا مگر آپ نے اس کا نقصان کر دیا۔ آپ کو اپنے پیارے رسول حضرت محمدﷺ کی سنت پر عمل کرنا چاہیے تھا۔ آپ جب کسی نوجوان کو دیکھتے اور وہ آپ کو اچھا لگتا تو آپؐ دریافت فرماتے: ’’کیا یہ کوئی کام کرتا ہے؟‘‘ جب آپﷺ کو یہ بتایا جاتا کہ وہ کچھ نہیں کرتا تو آپﷺ فرماتے: ’’یہ میری آنکھ سے گر گیا ہے۔‘‘

بڑے بھائی کو اپنے چھوٹے بھائی کے خلاف جو اس قدر شکوہ شکایات تھیں تو اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ وہ فارغ تھا اور اس پر کوئی ذمہ داری نہ تھی۔ اس کی پوری زندگی فراغت سے بھرپور تھی، وہ کھیل کود میں مشغول رہتا تھا۔ اس کے سونے اور جاگنے کے اوقات میں نظم و ضبط نہ تھا۔ وہ بہت جھوٹ بولتا تھا۔ وہ اپنے کالج میں فیل ہوجاتا تھا اور گھر والوں کو بتاتا تھا کہ وہ امتحان میں پاس ہوا ہے۔ وہ سگریٹ نوشی کرتا تھا، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر وہ منشیات کا عادی ہوچکا تھا۔ اس کا بہت سی بدقماش لڑکیوں اور بدچلن عورتوں کے ساتھ رابطہ تھا۔ وہ اپنے بھائی کی دکان سے رَقم چرا لیتا تھا، حالاںکہ یہ دکان پورے خاندان کا واحد سہارا تھی۔

میں نے یہ سن کر کہا:ہمارے نبی کریمؐ نے فرمایا ہے: ’’دو نعمتیں ہیں جن کے بارے میں بہت سے لوگ دھوکے میں پڑے ہیں، صحت اور فراغت۔‘‘ (بخاری)

اس ارشادِ نبویؐ کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں کی اکثریت صحت اور فراغت کے بارے میں مغلوب ہو جاتی ہے۔ صحت و تندرستی اور وقت جب میسر ہو تو اس سے کام کرنے میں مدد ملتی ہے مگر افسوس کہ لوگوں کی اکثریت صحت و وقت دونوں کی قدر و قیمت سے ناآشنا ہیں۔ انہیں اس نقصان کا زندگی بھر احساس نہیں ہوتا، یہ لوگ بہت سے فوائد سے محروم رہتے، انہیں صحت و فراغت کا احساس اس وقت ہوتا ہے جب موت کا لمحہ آجاتا ہے یا جب قیامت کی گھڑی آجائے گی۔

قرآن کریم نے اس حقیقت کو متعدد مقامات پر بیان کیا ہے: ’’یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کو موت آجائے گی تو کہنا شروع کرے گا کہ اے میرے رب، مجھے اس دنیا میں واپس بھیج دیجیے جسے میں چھوڑ آیا ہوں، امید ہے کہ اب میں نیک عمل کروں گا۔ ہرگز نہیں، یہ تو بس ایک بات ہے جو وہ بک رہا ہے۔ اب ان سب (مرنے والوں) کے پیچھے ایک برزخ حائل ہے، دوسری زندگی کے دن تک۔‘‘

ارشاد الٰہی ہے: ’’جو رزق ہم نے تمہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرو قبل اس کے کہ تم میں سے کسی کی موت کا وقت آجائے اور اس وقت وہ کہے کہ اے میرے رب، کیوں نہ تونے مجھے تھوڑی مہلت اور دے دی کہ میں صدقہ دیتا اور صالح لوگوں میں شامل ہو جاتا۔‘‘ لہٰذا عقل مند کو چاہیے کہ وہ صحت و فرصت کو موقع غنیمت سمجھے اور اس سے بھرپور فائدہ اٹھائے۔ یہ فرصت نوجوانی کے مرحلے میں وافر مقدار میں ہوتی ہے۔ اسی طرح فراغت کے لمحات کو بھی ضائع نہیں کرنا چاہیے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
تحریر ڈاکٹر سمیر یونس

تبصرہ کیجیے