کفایت شعاری اور میانہ روی

بڑے لوگوں کی آمدنی کے ایک نہیں ہزاروں ذرائع ہوتے ہیں اور اس میں جعل سازی ہو، ہیرا پھیری ہو، چاپلوسی ہو اور ظاہر و باطن کا فرق ندارد ہو تو پھر تو کیا کہنے ’’وارے نیارے‘‘ ہو جاتے ہیں لیکن غریب کی ٹکسال تو کفایت شعاری ہے محنت اور حلال رزق ہے۔ آئیے اس بارے میں ذرا کھل کر بات کریں۔

سب سے پہلے تو ہم اللہ اور اس کے رسول سے اپنے تعلق کا جائزہ لیں، جہاں جہاں ہمیں جھول اور دوری نظر آرہی ہو اس کو بڑی ایمان داری سے دور کرنے کی کوشش کریں اور پھر اپنے معمولات، مصروفیت اور آمد و صرف کا ایک روڈ میپ تیا رکریں اللہ کا نام لے کر اس پر چلنے کی کوشش کریں۔ انشاء اللہ اس کے بڑے خوش گوار نتائج محسوس شکل میں سامنے آئیں گے۔

پہلا کام تو یہ کرنا ہے کہ اپنے وقت کو تقسیم کریں، اور پھر تقسیم کار۔ تقسیم وقت میں سب سے پہلے صبح کا اٹھنا ہے۔ موذن کی اس صداء کے بعد ’’الصلوۃ خیر من النوم‘‘ سونے یا سوتے رہنے کا تو کوئی جواز ہی نہیں۔ حضرت ابوبکرؓ فرماتے ہیں۔ مجھے ان لوگوں پر تعجب ہے جن سے پہلے چڑیاں اٹھ جاتی ہیں۔ ضروریات سے فارغ ہونا، مطالعہ قرآن وغیرہ، تھوڑی ورزش کرنا نہانا دھونا، یہ سب نمازِ فجر سے قبل کے معمولات ہیں اگر ہم ان کو موخر کرتے ہیں تو گویا دن بھر میں کہیں نہ کہیں عدم توازن کا شکار ہونا پڑ سکتا ہے۔

اس کے بعد ناشتہ پانی ہے۔ یہاں ہمیں اس بات کا بہت خیال رکھنا ہے کہ جو بھی ہو وقت سے قبل تیار ہو جائے، ایسا نہ ہو، بچے اسکول جانے کو کھڑے ہوں، رکشا والا آواز لگا رہا ہو اور ادھر بچوں کے منہ میں ایک نوالہ بھی نہ گیا ہو اور اسکول کا وقت یا صاحب کے کام پر جانے کا وقت نکلا جا رہا ہو۔ اسی طرح بستر پر جانے سے پہلے ایک ایک چیز کو دیکھ لینا ہے۔ صبح کی چائے کے لیے دودھ چینی اور چائے پتی ہے کہ نہیں، برتن اپنی جگہ پہنچ گئے کہ ابھی ہنوز گندے ہیں، ماچس، لائیٹر ادھر ادھر تو نہیں پڑے ہیں۔ اسی کے ساتھ یہ بھی کہ بچوں کے جوتے چپل بستہ اور ماہانہ فیس کا صبح دن ہے تو اس کا اہتمام، یہ جملہ امور بھی زندگی کے شعار میں شامل ہیں اور یہ سب کچھ اپنے وقت پر انجام پا رہا ہے تو وقت اور پیسے کی بچت کا ایک اہم جز بن جاتا ہے۔

اب گھر کے بجٹ کی باری آتی ہے۔ آمدنی جو بھی ہو اس میں سے کم سے کم پانچ ورنہ دس فیصد ضرور بچانا ہے اور باقی رقم سے دیکھنا ہے کہ اشیائے خورد و نوش کی کتنی ضرورت ہے اور اس پر ہم کیا خرچ کرسکتے ہیں، نیز کس نوعیت کی کون چیز ہمارے بجٹ کے لحاظ سے بہتر ہوگی۔ جیسے چاول ہے اس کی کتنی ہی قسمیں ہیں ہمیں ہماری معاشی حالت کس قسم کا چاول استعمال کرنے کی اجازت دے رہی ہے۔ اس کے ساتھ یہ بھی بہت ضروری ہے کہ کیا چیز کتنی بنائیں۔ بے اندازہ دال یا ترکاری سبزی بنالی، تین تین وقت ہوگئے ختم ہی نہیں ہوتی یہاں تک کہ اس میں باس آنے لگی اور وہ بے مزہ ہوگئی۔ اس کی بے ترتیبی اشیاء کو بھی برباد کرتی ہے اور صحت کو بھی۔ اسی طرح سبزی ترکاری کو مزیدار اور ذائقہ دار بنانے کے لیے خوب گھی تیل استعمال کرتے ہیں جس سے بجٹ الگ متاثر ہوتا ہے اور صحت پر بہت مضر اثرات پڑتے ہیں۔ زیادہ گھی تیل ہاضمہ کے سٹم کو بہت متاثر کرتا ہے یا تو دستوں کا عارضہ ہوجاتا ہے یا دائمی قبض رہنے لگتا ہے۔

فیملی کی بجٹ کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ ہمیں اشیائے خوردنی کے حالیہ قیمتیں معلوم ہوں۔ ہم اپنی ضرورت کے لحاط سے اور وقت پر کھانا بناتے ہیں تو ایک طرف فضول کرچی سے نجات ملے گی دوسری طرف میانہ روی اور اعتدال پسندی ہمیں دکھاوے اور بے جااصراف و تصنع سے باز رکھے گی۔

تقریبات اور بے جا رسم و رواج پر لگام بھی ہمیں اپنی حد میں رہنے میں بہت معاون ثابت ہوتے ہیں۔ قرض لے کر رسموں کو پورا کرنا پورے بجٹ کو تہہ و بالا کر دیتا ہے۔ قرض ایک لعنت ہے، اگر خدانخواستہ یہ قرض کسی سودی ادارے کا ہے تو پھر اس سے نجات پانا آسان نہیں رکھا اور سوکھا کھانا کہیں بہتر ہے قرض کے رہتے ہوئے تر نوالے کھانے سے۔

ہماری آمدنی اگر محدود اور نپی تلی ہے تو پھر تو بہت ہی بیدار رہنے کی ضرورت ہے۔ نگاہ آخری ہفتے اور آخری ہفتے کی آخری تاریخوں پر رہتی ہے تو درمیان کا وقت بہ آسانی گزر جاتا ہے۔

اکثر یہ بھی ہوتا ہے کہ تنخواہ ملتی ہے یا آمدنی کچھ وافر ہو جاتی ہے تو خوب گل چھرے اڑتے ہیں اور اس کے بعد چہرے پر ہوائیاں اڑنے لگتی ہیں۔ یہ بے اعتدالی بڑی جان لیوا ثابت ہوتی ہے۔ پھر سادگی اور کفایت شعاری کی طرف لوٹنا مشکل ہو جاتا ہے۔

اللہ اور اس کے رسولؐ کو ہر وقت اپنے پیش نظر رکھنا نیز شکر سے اپنی زبان تر رکھنا اور دوسروں سے ریس نہ کر کے اپنے سے نیچے زندگی گزار رہے افراد پر نظر رکھنا یہ بھی میار نہ روی پر قائم رہنے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔ مختصر یہ ہے کہ ہمیں حقیقت پسند ہونا بہت ضروری ہے۔ کبھی کبھی چٹنی روٹی کا بھی ذائقہ لینا ضروری ہے اور یہ بھی ضروری ہے ہم اپنا وہ وقت یاد رکھیں جب ہمارے یا ہمارے والدین کے پاس کچھ نہیں تھا۔ چھوٹا سا مکان تھا، کبھی کبھی روکھی روٹی کیا فاقہ کی نوبت بھی آجاتی تھی۔ اپنا گزرا ہوا وقت یاد رکھنا ہمیں نعمتوں کی قدر سکھاتا ہے۔

آخر میں اس حدیث مبارکہ پر میں بات ختم کرتی ہوں کہ تین نعمتیں بڑی زبردست ہیں۔ ذکر کرنے والی زبان، شکر کرنے والا دل اور محنت کرنے والا جسم۔

ہاں ایک بات بہت ضروری رہ گئی اور وہ ہے اپنے عزیزوں کو یاد رکھنا، خاص طور سے ان کو جو کسی وجہ سے پریشان حال ہوں ساتھ ہی اپنے ہم سایہ سے اچھے روابط رکھنا اور ان کے یہاں کوئی چیز بطور تحفہ بھیجنا توشہ آخرت ہے۔

قلم کو رکھنے سے قبل یہ بھی بتانا چاہوں گی کہ اللہ سے دعا برابر کرتی رہیں۔ اس لیے کہ الدعاء صلاح المومن ہے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
اسماء خانم

Leave a Reply