مسلم پرسنل لا، ایک اصلاحی مہم کی ضرورت

بیوی کے ساتھ کسی کے تعلقات خراب ہوگئے ہیں، جدائی کی نوبت آگئی ہے، تاہم وہ کہتا ہے کہ میں طلاق نہیں دوں گا بلکہ انتظار کروں گا کہ بیوی خلع لے لے، پہلی صورت میں اسے مہر کی رقم دینی پڑے گی، اور دوسری صورت میں مہر معاف ہوجائے گا۔‘‘ یہ جملہ میں نے کئی بار سنا ہے۔ اس جملے سے قانونی مہارت تو ظاہر ہوتی ہے لیکن ایمان واخلاق کا نور ذرا نظر نہیں آتا۔

حقیقت یہ ہے کہ اگر زندگی پر عقیدہ واخلاق کی حکمرانی ہو تو انسان سخی اور فیاض بن جاتا ہے، اور اگر زندگی صرف قانونی داؤپیچ کی نذر کردی جائے تو انسان خود غرض اور بخیل ہو کر رہ جاتا ہے۔ بڑا فرق ہوتا ہے اس انسان میں جو صرف قانون کی سطح پر جیتا ہے، اور اس انسان میں جو ایمان واخلاق کی بلندیوں میں پرواز کرتا ہے۔ ایمان واخلاق کا حصار نہ ہو تو اسلامی قانون سے بھی بے شمار حیلے اور دھوکے نکال لئے جاتے ہیں۔

قرآن مجید میں قانون، ایمان اور اخلاق تینوں باہم دگر اس طرح جڑے ہوئے نظر آتے ہیں کہ انہیں الگ الگ کرکے دیکھنے کا تصور ہی نہیں کیا جاسکتا۔ قرآن مجید پر عمل کرنے والے کے لئے یہ ممکن ہی نہیں ہوتا ہے کہ وہ قانون سے ملنے والے حق کو تو بڑھ کر لے لے، لیکن اخلاق کی طرف سے عائد ہونے والے تقاضے کو نظر انداز کردے۔

قانون کتنا ہی اچھا ہو، وہ اخلاق کا بدل نہیں ہوسکتا۔ یہ بات ایک مثال سے سمجھی جاسکتی ہے کہ سڑک پر کوئی نامعلوم شخص حادثے کا شکار ہو کر تڑپ رہا ہو، ایسی صورت میں اگر قانون رکاوٹوں سے بھرا ہو تو لوگ اسے اٹھا کر اسپتال لے جاتے ہوئے ڈریں گے کہ کہیں وہ خود الزام کی زد میں نہ آجائیں اور انہیں تھانے اور عدالت کے چکر لگانے پڑیں۔ قانون اگر معاون ہو تو لوگ اسے اسپتال لے جاتے ہوئے خوف محسوس نہ کریں گے۔ تاہم محض قانون خواہ وہ کتنا ہی اچھا ہو، لوگوں کے اندر یہ جذبہ پیدا نہیں کرسکتا ہے کہ وہ نفع نقصان سے بے نیاز ہوکر ایک نامعلوم زخمی کو اسپتال لے جائیں۔ یہ جذبہ تو عقیدہ واخلاق سے پیدا ہوتا ہے۔

عائلی قانون کے حوالے سے ذیل کی کچھ مثالوں پر اس پہلو سے بھی غور کریں:

قانون کی رو سے بلاوجہ طلاق دینے سے بھی طلاق ہوجاتی ہے، اور تین طلاقیں دینے سے تین طلاقیں بھی ہوجاتی ہیں، لیکن ایمان واخلاق کا تقاضا ہے کہ انسان بنا غور و فکر کیے اور بلاضرورت طلاق نہ دے، اور طلاق دے تو بس ایک ہی طلاق دے۔ طلاق سے پہلے اصلاح حال کی ساری کوششیں کرڈالے۔ طلاق کا فیصلہ لینے سے پہلے بزرگوں سے مشورہ اور اللہ کے حضور خیر کی دعا کرلے، اور اس پورے عمل میں کہیں خود غرضی اور نفس پرستی کو بیچ میں نہ آنے دے۔

قانون کی رو سے شوہر چاہے تو بیوی کے خلع مانگنے پر بھی اسے خلع نہ دے، لیکن اخلاق کا تقاضا ہے کہ اگر بیوی ساتھ رہتے ہوئے خوش نہ ہو، تو بیوی کو ساتھ رہنے پر مجبور نہ کرے، سمجھانے بجھانے کے لئے کچھ وقت ضرور مانگے، لیکن اسے اپنی بیوی بنے رہنے اور گھٹ گھٹ کر جینے پر مجبور نہ کرے۔ اور اگر خود اس کی کسی کمزوری کی وجہ سے بیوی خلع طلب کررہی ہو تو کسی معاوضہ کا مطالبہ بھی نہ کرے۔

قانون کی رو سے ہوسکتا ہے طلاق دینے والے کے لئے ضروری نہ ہو کہ وہ طلاق شدہ بیوی کو کچھ دے، لیکن اخلاق کا تقاضا یہ ہے کہ وہ ایسے وقت میں سخاوت وفیاضی کی ایک یادگار مثال قائم کرے۔

قانون کی رو سے ہوسکتا ہے کہ یتیم پوتے کو دادا کے ترکے میں سے حصہ نہ ملے، لیکن اخلاق کا تقاضا ہے کہ زندہ بھائی خود آگے بڑھ کر اپنے مرحوم بھائی کے بچوں کو وراثت میں اتنا ہی حصہ دے دے جتنا خود اسے مل رہا ہے۔

یہ قانونی دفعات نہیں بلکہ اخلاقی تعلیمات ہی ہیں جن سے متاثر ہوکر ایک انسان یتیم بچوں کو اپنی سرپرستی میں لے لیتا ہے، اور سایہ زوجیت سے محروم ہوجانے والی عورتوں کو آگے بڑھ کر زوجیت کا سائے بان پیش کرتا ہے، خواہ اسے کتنی ہی آزمائشوں سے گزرنا پڑے۔ یہ اخلاقی تعلیمات ہی ہیں جو خیر اور بھلائی کے بڑے بڑے کاموں کا محرک بن جاتی ہیں۔

اسلامی قانون اسلامی معاشرہ کا امتیاز ہے۔ اس سے بہتر قانون پیش نہیں کیا جاسکتا ہے، تاہم اسلامی معاشرہ کا اس سے بھی بڑا امتیاز وہ اخلاقی تعلیمات ہیں جو رب حکیم کی طرف سے قانون کے ساتھ ساتھ عطا کی گئی ہیں۔ اسلامی قانون کی ساری آب وتاب انہیں سے ہے۔ ایمان واخلاق کا ساتھ نہ ہو تو قانون بے روح اور بے کشش ہو کر رہ جاتا ہے۔ یاد رہے صرف قانون کی حکمرانی سے اسلامی معاشرہ ایک مثالی معاشرہ نہیں بن سکتا ہے۔ ایک پرکشش مثالی اسلامی معاشرہ کے لئے قانون سے پہلے اور قانون سے کہیں زیادہ ایمان واخلاق کی حکمرانی ضروری ہے۔

قرآن مجید میں جہاں نکاح وطلاق کے قوانین بیان ہوئے ہیں، وہاں تقوی اور احسان کے بار بار تذکرہ سے واضح ہوتا ہے کہ ان قوانین پر عمل آوری کے وقت اللہ کے سامنے جواب دہی کا شدید احساس اور لوگوں کے ساتھ بہترین اخلاق کے ساتھ پیش آنے کا طاقت ور جذبہ بہت ضروری ہے۔ تقوی کا مطلب ہے ضمیر کی وہ طاقت ور آواز جسے کوئی مصلحت دبا نہ سکے، اور احسان کا مطلب ہے اخلاق کی وہ آخری بلندی جہاں انسان پہونچ سکتا ہو۔

اسلام کے عائلی قانون میں بہت سی باتیں اجتہادی ہونے کی وجہ سے اختلافی بھی ہوسکتی ہیں، ہر ہر دفعہ پر طویل بحث بھی ہوسکتی ہے، لیکن ایمان واخلاق کے تقاضوں میں کوئی تقاضا اختلافی نہیں ہے، جو بھی ہے وہ متفقہ طور پر لائق ستائش ہے۔ اسلام کے عائلی قانون کی فکر کرنے والوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ عائلی قوانین کا رشتہ ایمان واخلاق سے دوبارہ جوڑنے کی مہم چلائیں۔ یہ رشتہ جب تک بحال نہ ہوگا اسلام کے عائلی قوانین خطرات سے دوچار رہیں گے، اور مسلم معاشرہ ان گنت عائلی مسائل سے پریشان رہے گا۔

مسلم پرسنل لا کے حوالے سے جو مہمات منائی جاتی رہی ہیں، ان میں مفتیانہ اور مدافعانہ لب ولہجہ حاوی رہا ہے۔ عائلی قانون کے حوالے سے ہر فتوے کا دفاع، اور ہر فتوے پر شدید اصرار، احساس ہوتا ہے کہ اب مسلمانوں کی ضرورت ایک ایسی اصلاحی مہم ہے، جس کا مقصد، دفاع سے آگے بڑھ کر مسلم سماج کے ہر اس پہلو کی اصلاح ہو جہاں خرابی در آئی ہے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر محی الدین غازی

Leave a Reply