خوش آمدید رمضان!

رمضان المبارک کی آمد سے قبل اللہ کے رسولؐ نے جو عظیم الشان خطبہ ارشاد فرمایا، اس میں کہا کہ:

۱- لوگو! تم پر ایک عظیم اور بابرکت مہینہ سایہ فگن ہونے کو ہے جس کا ذکر قرآن حکیم میں اس طرح ہوا:

ترجمہ: ’’رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا، جو نسل انسانی کے لیے ہدایت ہے اور اس میں روشن اور نمایاں حق و باطل میں امتیاز کرنے والے دلائل ہیں۔ اس کتاب کا نزول سب سے آخری رسول جناب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے قلب اطہر پر ہوا جسے جلیل القدر فرشتے جبریل امین لے کر آتے رہے۔یہ کتاب ہدایت نسل انسانیت کے لیے کامیاب زندگی گزارنے کا پاکیزہ منشور ہے۔ اس کے نزول کی ابتدا رمضان المبارک کی مبارک رات سے ہوئی۔

’’ہم نے اس قرآن کو شب قدر میں نازل کیا ہے۔‘‘

یہ عظیم کتاب دنیا کے تمام خزانوں سے بہتر ہے۔

ترجمہ: ’’اے نبیؐ! ان سے کہیے ’’یہ اللہ کا فضل اور اس کی مہربانی ہے کہ یہ کتاب اس نے بھیجی ہے، اس پر لوگوں کو خوشی منانی چاہیے۔ یہ ان سب چیزوں سے بہتر ہے جنہیں لوگ سمیٹ رہے ہیں۔‘‘ (یونس:۵۸)

قرآن کا راستہ سب سے سیدھا ہے:

ترجمہ:’’حقیقت یہ ہے کہ قرآن وہ راہ دکھاتا ہے جو بالکل سیدھی ہے۔‘‘ (بنی اسرائیل:۹)

اور رسول اللہﷺ نے یہ خوش خبری دی ہے، ترجمہ: (اس پوری دنیا میں) تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو قرآن کا علم حاصل کرے اور پھر دوسروں کو اس کی تعلیم دے۔‘‘

۲- اللہ تعالیٰ نے اس ماہ میں اعمال صالحہ کی قدر و قیمت کو بڑھا دیا ہے، نوافل کا ثوابِ فرائض کے برابر اور فرائض کا درجہ ستر فرائض کے برابر اور جس قدر بندۂ مومن کا خلوص بڑھتا جائے گا، اجر و ثواب میں اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔ اس خوش خبری کو سنیے:

جو لوگ اللہ کی راہ میں اپنا مال خرچ کرتے ہیں ان کی مثال ایسی ہے جیسے ایک دانہ بویا جائے جس سے سات بالیاں اُگیں اور ہر بالی میں سو سو دانے ہوں اور اللہ جس کے لیے چاہے اس سے بھی زیادہ اجر بڑھا دیتا ہے (اس کے دربار میں کسی بات کی کمی نہیں ہے) اور رمضان المبارک میں اس کی رحمت بے پناہ ہو جاتی ہے جس کا حساب لگانا ناممکن ہے۔

۳- حالت صوم میں صرف بھوک پیاس پر ہی صبر نہیں ہوتا بلکہ روزے کی حالت پر زبان و بیان کی لغزشوں سے بچنا، آنکھ، کان کی حفاظت کرنا، خواہشاتِ نفس کو زیر کرنا، حصولِ رزق میں جائز ذرائع استعمال کرنا بھی ہوتا ہے تاکہ بندہ مومن اخلاق و کردار کی بلندیوں کو چھولے۔

استاذ عفیف عبد الفتاح طبارہ نے اپنی مشہور کتاب ’’روح الدین اسلامی‘‘ میں بڑی مفید گفتگو فرمائی ہے ’’صبر اخلاقی فضائل میں سے ہے اور یہ ایک ایسی روحانی خوشبو ہے کہ جب بندہ مومن اس کا عادی بن جاتا ہے تو اس کے رنج و الم، دکھ اور مصائب ہلکے پڑ جاتے ہیں اور اس کے قلب میں سکون و اطمینان گھر کرلیتا ہے اور یہ بات اس کے زخموں کی دوا بن جاتی ہے، جن سے وہ کرب و اذیت محسوس کر رہا تھا‘‘ اور رب کریم کی طرف سے یہ مژدہ جانفرا اُسے ایسے ملتا ہے۔

ترجمہ: ’’بلاشبہ صبر کرنے والوں کو ان کا اجر بلا حساب دیا جائے گا۔‘‘

۴- یہ ہمدردی و غم خواری کا مہینہ ہے۔ غریبوں، مسکینوں، بیواؤں، یتیموں کے ساتھ حسن سلوک اور مروت کا بہت بڑا اجر ہے۔ رب تعالیٰ کا فرمان ہے: ’’(انسان غور تو کر کہ تونے) دشوار گزار گھاٹی کو عبور کرنے کی ہمت نہ کی او رتم کیا جانو کہ وہ دشوار گزار گھاٹی کیا ہے؟ وہ ہے کسی گردن کو غلامی سے چھڑانا، یا فاقہ کے دنوں میں مسکینوں، غریبوں کو کھانا کھلانا کسی قرابت دار یتیم کو یا کسی خاکسار مسکین کو۔‘‘

یہ عظیم مہینہ رحمت، مغفرت اور جہنم کی آگ سے چھٹکارا دلانے کے لیے ہر سال آتا ہے۔ اس کی عظمت کے بارے میں حضور پاکؐ نے فرمایا کہ اس کا ابتدائی عشرہ رحمت درمیانی عشرہ مغفرت اور آخری عشرہ جہنم کے عذاب سے چھٹکارے کا ہے۔ اسی طرح ایک اور مرتبہ آپؐ نے ارشاد فرمایا:

جس نے رمضان کے مبارک مہینے میں ایمان اور احتساب کے ساتھ روزے رکھے اس کے پچھلے تمام گناہ معاف کردیے گئے۔ آئیے اس عظیم مہینے کا دل کی گہرائیوں سے استقبال کریں اور اس مہینہ میں تقویٰ کے حصول اور گناہوں سے مغفرت کی ابھی سے منصوبہ بندی کرلیں کہ اس کا کوئی بھی لمحہ ہم سے چھوٹ نہ جائے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
شیخ عمر فاروق

Leave a Reply