رمضان المبارک

اسلام کی ہر عبادت اپنے اندر ایک مقصد لیے ہوئے ہے اور وہ مقصد ہے حضرت انسان کو اللہ تعالیٰ کا بندہ بنانا، یہ بندہ کیا ہے؟ سادہ الفاظ میں اس کے معنی ہیں غلام، اور غلام وہ ہوتا ہے جو اپنے آقا کے ہاتھ میں بک چکا ہو۔ ہم نے اسلام کا اعلان کر کے یا وراثت میں اسے قبول کر کے اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی عبدیت میں دے دیا ہے اور رضا کارانہ طو رپر یہ اعلان کر دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پیدائشی طور پر جو آزادی اختیار و عمل ہمیں عطا کی تھی، ہم اس سے دستبردار ہوگئے ہیں اور اپنے ارادے اور عمل کو اپنے رب کی مرضی کے تابع کر دیا ہے۔ اب ہم وہی کچھ کریں گے جو ہمارا رب، ہمارا حقیقی آقا ہم سے کرانا چاہتا ہے اور ہر اس کام سے رک جائیں گے جو اسے ناپسند ہے کہ غلام کی اپنی مرضی ہوتی ہی کب ہے؟ ہمیں تو ہمارے رب جلیل نے یہ حکم دے رکھا ہے کہ ’’تم تسلیم و رضا کے دین میں پورے کے پورے داخل ہوجاؤ اور شیطان نافرمان کے نقوش پا کو اپنا رہبر نہ بناؤ کہ وہ تمہارا اعلانیہ دشمن ہے۔

ہمیں جو نظامِ عبادت عطا ہوا ہے اس کے پانچ بنیادی ستون ہیں: (۱) توحید و رسالت کا اقرار (۲) صلوٰۃ (نماز) (۳) روزہ (۴) حج اور (۵)زکوٰۃ۔ ان میں سے پہلی تین زبانی و بدنی عبادتیں ہیں۔ چوتھی مالی اور بدنی اور پانچویں خالصتاً مالی عبادت ہے۔ (عبادت کا مفہوم: وظیفہ غلامی یا کارِ گلامی ذہن سے محو نہ ہونے پائے)۔

اس نظامِ عبادت کے ایک ایک جز پر تھوڑا سا غور کرنے سے معلوم ہو جاتا ہے کہ ہمارا آقا ہمارے اندر کے انسان کو کیسا بنانا اور دیکھنا چاہتا ہے۔ اگر ہماری عبادات نے ہمیں ویسا ہی بنا دیا جو ہمارا آقا ہمیں بنانا اور دیکھنا چاہتا ہے تو فھو المراد، و گرنہ یہ بیکار مشق ہے کہ اگر ہماری عبادت ہمیں اللہ کا بندہ ہی نہ بنا سکی تو یہ عبادت (بندگی) کہلانے کے قابل نہیں ہے۔

اسلام کے پورے نظام عبادات میں روزے کو یہ خصوصیت حاصل ہے کہ اس میں ریا (دکھاوے) کا عنصر نہیں ہے (یا ہے تو بہت کم) اور ریا وہ ہلاکت خیز بیماری ہے کہ کیے کرائے کو اکارت کر کے رکھ دیتی ہے۔ روزے دار کے اس عمل خیر کو انسان خود یا پھر اس کا مالک ہی دیکھتا ہے۔ اس لیے فرمایا کہ روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا اجر عطا کروں گا۔ (الحدیث)

ماہ رمضان کی اہمیت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خود ہی بتایا کہ یہ وہ مہینہ ہے کہ جس میں قرآن نازل کیا گیا۔ یعنی وہ الہدیٰ جس کو ہر نمازی دن میں کم از کم سترہ مرتبہ اپنے اللہ سے طلب کرتا ہے ’’اھدنا الصراط المستقیم‘‘ اور اس دعا کے جواب میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ’’ذالک الکتاب لا ریب فیہ‘‘ (البقرۃ:۲) ’’وہ ہدایت جو مجھ سے تم نے طلب کی ہے نا! وہ اس کتاب میں اکمل صورت میں موجود ہے، جس میں کسی شک اور ترودد کا کوئی شائبہ تک موجود نہیں ہے (کہ اس کی حفاظت کا فول پروف نظام ہم نے خود اپنے ذمے لے رکھا ہے) البقرۃ:۲ لیکن یہ رہ نمائی دے گی صرف ان کو جو متقی ہوں گے یعنی شرک (غیر اللہ کی بندگی و غلامی کی گندگی سے) اپنے آپ کو بچانے کی ہمہ وقت اور ہمہ جہت کوشش کریں گے۔

قرآن کریم کو اس ماہِ مبارک میں آسمان دنیا پر اتارا گیا اور جس رات کو اتارا گیا اسے لیلۃ القدر کہا گیا جو ہزار مہینوں کی بندگی و غلامی سے بھی افضل ہے (القدر) اور یہ خوش خبری بھی رمضان المبارک اور نزول قرآن کی اس رات کے بارے میں قابل لحاظ ہے کہ جس نے رمضان المبارک کے روزے ایمان اور خود احتسابی کے ساتھ رکھے، اسی طرح جس نے لیلۃ القدر کو اللہ کے حضور قیام کیا ایمان اور خود احتسابی کے ساتھ، اس کے تمام گناہ (غیر غلامانہ حرکتیں) جو اب تک اس سے سرزد ہوئے، معاف کردیے جائیں گے (بشرطیکہ) رمضان المبارک کے بعد وہ پھر کوئی نیا کھاتہ نہ کھول لے کہ چلئے آیندہ رمضان میں پھر بخشش کروالیں گے!!

یہ بات میں نے محض تفنن طبع کے لیے نہیں کہی بلکہ ہم فی الواقع وہ ہستی ہیں کہ ہمارا طرزِ عمل بالعموم ہر عبادت کے بارے میں ایسا ہی ہے۔ الاماشاء اللہ!

سورۂ بقرہ کے آغاز میں بھی اور رمضان المبارک کی فرضیت کے بعد بھی یہی بات کہی گئی ہے لعلکم تتقون (البقرۃ:۱۸۳) تا کہ تم اللہ سے ڈرنے والے (متقی) بن جاؤ۔ یعنی قرآن حکیم سے استفادہ اور رمضان المبارک کے قیمتی لمحات سے بہرہ ور ہونے کا دار ومدار ہے تقویٰ پر، اور تقویٰ کی تفسیر اس سے بہتر کیا ہوگی کہ ہیبت و جلال کے پیکر عمر فاروقؓ کو حضرت ابی بن کعبؓ اس کی تفسیر یوں سمجھا رہے تھے کہ اے عمرؓ! کبھی آپؓ نے کانٹوں سے پٹی پڑی راہ پر سفر کیا؟ جی ہاں! پھر آپؓ کیا کرتے تھیَ اپنا دامن سمیٹ کر چلتا تھا کہ کوئی کانٹا دامن سے الجھ نہ جائے۔ عمرؓ کا جواب تھا تو اے عمرؓ شیطان لعین نے مومن کی راہ میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کے بے شمار کانٹے بچھا رکھے ہیں۔ ان کانٹوں سے مومن کا اپنے دامن کو بچا کر نکل جانا اور اس حال میں اپنے آقا کے حضور پہنچنا کہ اس کا دامن اپنے آقا کی ہر قسم کی نافرمانی سے پاک ہو، بس یہی تقویٰ ہے۔

افسوس کہ ’’تقویٰ‘‘ اور ’’متقی‘‘ کو ہم نے نظام کفر اور شرک کے ساتھ سمجھوتہ کر کے ایک اور ہی رنگ دے دیا ہے۔ ایک خاص وضع کا لباس، داڑھی کا ایک مقررہ یا بے قید سائز، کچھ مخصوص اوقات میں نوافل و اذکار کا اہتمام اور اسی قسم کا سلوک رمضان المبارک کے ساتھ ہم نے روا رکھا ہوا ہے۔ بس

رہ گئی رسم اذاں روحِ بلالی نہ رہی

فلسفہ رہ گیا تلقین غزالی نہ رہی

اور ہمارے بے مغز ذکر و فکر پر تو علامہ اقبالؒ نے شیطان رجیم کا وہ ’’وعظ‘‘ اس طرح بیان کیا تھا:

مست رکھو ذکر و فکر صبح گاہی میں اسے

تا بساطِ زندگی میں اس کے سب مہرے ہوں مات

بساطِ زندگی میں ہمارے سب مہرے پٹ چکے ہیں، لیکن کیا مجال کہ ہم ’’متقین‘‘ کی جبین پر کبھی کوئی شکن نمودار ہوئی ہو! ہم وہی ’’رند کے رندر ہے ہاتھ سے جنت نہ گئی‘‘ کی کیفیت سے سرشار ہیں اور وعدہ فردا پر خوش ہیں، لیکن کہاں کا وعدہ فردا؟ اور کس سے؟ خوش ہیں کہ ساقی کوثر، شفیع محشرﷺ کی امت سے ہیں۔

کچھ فرماتے ہیں جس نے کلمہ توحید پڑھ رکھا ہے، اسے جہنم میں نہیں جانا۔ بس ’’ہمیں آگ چھوئے گی ہی نہیں اور اگر ایسا ہو بھی گیا تو یہ چند دن کی بات ہوگی۔‘‘ (البقرہ:۸۰) آگے سب خیریت ہے۔ خدا کے نیک بندو! جسے تم کتاب الہدیٰ مانتے ہو، جس ہدی کی دن میں ان گنت بار کم از کم ۱۷ بار اللہ تعالیٰ سے اس قدر التجا کرتے ہو وہاں تو یہ لکھا ملتا ہے:

ترجمہ: ’’اے رب! یہ لوگ کس منہ سے مجھ سے شفاعت کی امید رکھتے ہیں کہ انھوں نے تو اس قرآن کو طاق نسیاں کی نذر کر رکھا تھا۔‘‘ (الفرقان:۳۰)

اور محضعقیدۂ توحید کو نجات کا ذریعہ جاننے والے حضرت وہب بن منبہؓ کی اس حدیث کو پیش نظر رکھا کیجیے نا! ان سے پوچھا گیا کہ کیا لا الٰہ، جنت کی کنجی نہیں ہے؟ فرمایا یقینا ہے، مگر ہر کنجی کے دندانے بھی ہوتے ہیں، جن سے قفل کھلتا ہے۔ اگر آپ لوگ آخرت میں ایسی کنجی لے کر حاضر ہوئے جس کے دندانے (عمل)ہوئے تو یقینا جنت کے دروازے وا ہوں گے اور اگر بغیر دندانوں کی کنجی لے کر حاضر ہوئے تو مایوسی ہوگی (یعنی بغیر عمل کے محض لا الٰہ الا اللہ کے عملی تقاضوں سے خالی ہوئی تو جنت کا دروازہ کھل نہ پائے گا۔

روزے کا ایک اور مقصد سورہ بقرہ میں یہ بتایا گیا ہے کہ : ترجمہ: ’’تاکہ رمضان المبارک اور قرآن حکیم کی اس نعمت کو پاکر بطور تحدیث نعمت، تمام عالم انسانیت پر اللہ تعالیٰ کی کبریائی کا ڈنکا بجانے کے قابل ہوسکو۔‘‘

اللہ اکبر! مسلمانوں کا محبوب شعار ہے یعنی اللہ (جس پر ہم ایمان رکھتے ہیں) بڑا ہی نہیں سب سے بڑا ہے، بڑائی اس پر ختم ہو جاتی ہے۔

یہ رمضان المبارک اور یہ کتاب ہدیٰ کا نادر تحفہ پانے کے بعد بھی ہم سب کچھ کرتے رہے مگر اللہ تعالیٰ کی وسیع سلطنت کے اس صوبہ (زمین) پر اس کی کبریائی کا نظام قائم نہ کرسکے تو ہماری کنجی (لا الٰہ الا اللہ کا اقرار) بغیر دندانوں کے رہے گی اور قفل بغیر دندانوں کی کنجی کے نہیں کھلا کرتے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم یہ رمضان المبارک اور مقام عبادات، شعور و ادراک کے ساتھ ادا کرنے کے قابل ہوسکیں اور آخرت کی رسوائی سے اللہ ہمیں بچا لے آمین۔lll

شیئر کیجیے
Default image
غلام محمد اعوان

Leave a Reply