BOOST

ام المومنین حضرت حفصہ بنت عمرؓ

سرکاردو عالم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد نبوی میں تشریف فرما ہیں۔ حضرت عمر فاروقؓ بوجھل قدموں کے ساتھ بارگاہِ رسالت میں تشریف لاتے ہیں۔ نبی محترمؐ اپنے جاں نثار رفیق کے چہرے کی جانب دیکھتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’کیا بات ہے عمر، کچھ افسردہ لگتے ہو؟‘‘ جواب دیتے ہیں: یا رسول اللہؐ ! میری بیٹی حفصہؓ بیوہ ہوگئی ہے، مجھے اس کی شادی کی فکر ہے۔ میں نے عثمانؓ سے بات کی تو انھوں نے منع کر دیا، میں نے ابوبکرؓ سے کہا، تو انھوں نے بھی سنی ان سنی کردی۔‘‘ اپنے پیارے ہم دم رفیق کو آزردہ اور فکرمند پایا تو نبی برحقؓ نے تبسم فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’عمر! تم کیوں فکر کرتے ہو! تمہاری بیٹی کی شادی ایسے شخص سے نہ کردی جائے، جو ابوبکرؓ و عثمان سے بہتر ہو اور عثمانؓ کی شادی ایسی خاتون سے کردی جائے، جو تمہاری بیٹی سے بہتر ہو۔‘‘ نبی محترم صلی اللہ علیہ وسلم کے ان محبت بھرے حوصلہ مند الفاظ نے دل کی اداسی کو اطمینان و سکون کی روح پرور کیفیت میں تبدیل کر دیا۔

اس کے ساتھ ہی حضرت عمر فاروقؓ نے امت مسلمہ کے تمام والدین کو یہ پیغام بھی دیا کہ بیٹیوں کے لیے جلد اچھے اور مناسب رشتوں کی تلاش و جستجو اور فکر کرنا والدین کی ذمے داری ہے۔

ابھی کچھ ہی دن گزرے تھے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دوسری صاحب زادی ام کلثوم کا نکاح حضرت عثمانؓ سے کردیا اور پھر تین ہجری ماہ شعبان کے ایک پر رونق و متبرک دن حضرت عمر فاروقؓ نے اپنی صاحب زادی حضرت حفصہؓ کا نکاح سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ۴۰۰ درہم حق مہر، حضرت حفصہؓ کو ادا کیے۔ یوں حضرت حفصہؓ کا شانہ حرم نبویؐ میں شامل ہوکر ام المومنین کے اعلیٰ و ارفع مقام پر فائز ہوئیں۔ حضرت حفصہؓ کی ولادت اعلان نوبت سے پانچ برس قبل اس زمانے میں ہوئی کہ جب اہل قریش خانہ کعبہ کی ازسرنو تعمیر کر رہے تھے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مبارک ہاتھوں سے حجر اسود نصب فرما کر قریش کے سرداروں کے درمیان بدترین خونیں جنگ کے امکانات کو ختم فرما دیا تھا۔

حضرت حفصہؓ نے قبیلہ بنی عدی کے جس خاندان میں آنکھ کھولی، وہ اپنی شجاعت و بہادری، جرأت و بے باکی و بے خوفی کے سبب پورے قریش میں بڑی عزت و احترام کی نظر سے دیکھا جاتا تھا۔ آپ کے والد حضرت عمر فاروقؓ ایک جری، بہادر اور قبیلے کی ممتاز ترین شخصیت تھے۔ آپ قریش کے ان سترہ افراد میں سر فہرست تھے جو لکھنا پڑھنا جانتے تھے۔ والدہ حضرت زینبؓ خود بھی صحابیہ تھیں اور مشہور صحابی حضرت عثمان بن مظعون کی بہن تھیں۔ حضرت حفصہؓ کا پہلا نکاح، خاندان بنو سہم کے ایک فرزند، حضرت خنیس بن حذافہؓ سے ہوا۔ دونوں میاں بیوی آغازِ اسلام ہی میں مسلمان ہوگئے۔ بعد ازاں، مدینہ منورہ ہجرت فرمائی اورمدینہ کے قریب بستی ’’قبا‘‘ میں رہائش اختیار کی۔ حضرت حفصہؓ کے شوہر، حضرت خنیسؓ ایک نڈر اور بہادر مسلمان تھے۔آپ کی شہادت کے بارے میں سیرت نگار مختلف رائے رکھتے ہیں۔ کچھ کے نزدیک غزوۂ بدر میں زخمی ہوکر شہید ہوئے اور کچھ کی رائے یہ ہے کہ غزوہ بدر میں تو شریک ہوئے، لیکن غزوہ احد میں شہید ہوئے۔ بہرحال یہ بات طے ہے کہ آپ غزوہ میں کفار سے لڑتے ہوئے زخمی ہوئے اور شدید زخموں کی تاب نہ لاکر کچھ ماہ بعد مدینہ منورہ میں انتقال کر گئے۔ اس طرح عدت پوری ہونے کے بعد حضرت حفصہؓ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عقد میں آئیں۔ حضورؐ اکرم سے نکاح کے وقت حضرت حفصہؓ کی عمر بائیس سال تھی۔

حضرت حفصہؓ یوں تو بڑی ہنس مکھ خاتون تھیں، لیکن ان کے مزاج میں تیزی کے بارے میں اہل سیر متفق ہیں۔ مزاج کی یہ تیزی ان کی خاندانی خصوصیات میں سے ہے۔ وہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ نہ جیسے جاہ و جلال، رعب و دبدبے کے حامل صحابی کی بیٹی تھیں۔ حضرت عمر فاروقؓ فرماتے ہیں کہ ’’ہم لوگ زمانہ جاہلیت میں عورتوں کو ذرہ برابر بھی وقعت نہیں دیتے تھے۔ اسلام نے انہیں عزت و وقار اور بلند درجہ دیا اور قرآن میں ان کے متعلق آیات اتریں، تو ان کی قدر و منزلت کا اندازہ ہوا۔‘‘ (صحیح بخاری) بہرحال دوسری ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن کی طرح ام المومنین حضرت حفصہؓ نے بھی دنیا کے عیش و عشرت کے بجائے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور آخرت میں عظیم انعام کو اپنے لیے بہتر اور افضل پایا۔

سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ ’’فقر‘‘ میری شان ہے۔ آپ کا گھر یعنی ازواج مطہراتؓ کے حجرے، انداز رہائش دیکھ کر اندازہ ہو جاتا تھا کہ فقرو فاقے کے ساتھ درویشانہ انداز میں دونوں جہانوں کی شہنشاہی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی کا وصف ہے۔ تمام امہات المومنینؓ کی رہائش کے لیے ایک جیسا چھوٹا سا حجرہ، جس کی دیواریں مٹی کی کچی اینتوں کی۔ چھتیں کھجور کے پتوں کی، دروازے پر کمبل کا پردہ، گھر کے اندر ایک پانی کا مشکیزہ، ایک چکی اور ضرورت کا انتہائی مختصر سا سامان۔ ایسا ہی ایک چھوٹا سا حجرہ، فاروق اعظم، حضرت عمرؓ کی چہیتی بیٹی، سیدہ حفصہؓ کے حصے میں بھی آیا۔

حضرت حفصہؓ توکل علی اللہ، صبر و قناعت، ضبط و تحمل، ایثار و قربانی، سخاوت، وسیع القلبی اور حب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جذبے سے سرشار، کاشانہ حرم نبوی میں اللہ کے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کی خوش نودی کے لیے خود کو وقف کرچکی تھیں۔ وہ جانتی تھیں کہ اللہ کے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کی خوش نودی اللہ کی خوش نودی ہے۔

ام المومنین سیدہ حفصہؓ کا تعلق جس خاندان سے تھا وہ اپنی علمیت، قابلیت اور فصاحت و بلاغت میں پورے قریش میں ممتاز تھا۔ آپ کے والد قریش کے چند پڑھے لکھے لوگوں میں سے تھے۔ سیدہ حفصہؓ کو پڑھنے لکھنے کا شوق ورثے میں ملا تھا۔ آپ جب ازواج مطہرات میں شامل ہوئیں تو لکھنا نہیں جانتی تھیں۔ حضور اکرمﷺ کو جب آپ کے اس شوق کا علم ہواتو آپؐ نے ان کی تعلیم کے لیے خصوصی انتظامات کیے اور ان ہی کے خاندان کی ایک خاتون، حضرت شفاء بنت عبد اللہ کو مامور کیا کہ وہ ان کو لکھنا سکھائیں۔ اس کے ساتھ ہی انھوں نے انہیں زہریلے کیڑے مکوڑوں کے کاٹنے کا دم بھی سکھایا۔ اس کے علاوہ حضور اکرمﷺ خود بھی ان کی تعلیم پر خصوصی توجہ دیتے، کیوں کہ یہ معارف و حقائق اخذ کرنے کی صلاحیتوں سے مالا مال تھیں، لہٰذا سرکار دو عالمﷺ کے فرمودات و ارشادات بڑی توجہ سے سنتیں اور انہیں نہ صرف اپنے قلب و ذہن میں محفوظ کرتیں، بلکہ لکھ بھی لیا کرتیں۔

حضرت حفصہؓ کا ایک وصف یہ بھی تھا کہ آپ حضور اکرمﷺ سے اکثر مسائل بلا تکلف نہایت بے باکی سے دریافت کرلیا کرتیں۔ اور آپﷺ بھی نہایت تحمل کے ساتھ بڑے پیار سے جوابات فرما دیا کرتے۔ ایک مرتبہ نبی برحق صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جو اہل ایمان غزوہ بدر اور بیعت رضوان میں شریک ہوئے، وہ جہنم میں نہیں جائیں گے۔‘‘ آپ نے تھوڑی دیر توقف کر کے فرمایا: ’’یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! اللہ تو فرماتا ہے ’’تم سب میں سے کوئی ایسا نہیں، جو جہنم وارد نہ ہو۔ یہ ایک طے شدہ بات ہے، جسے پورا کرنا تیرے رب کے ذمے ہے۔‘‘ (سورہ مریم) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’ہاں یہ تو ٹھیک ہے مگر ساتھ ہی اللہ نے یہ بھی کہا ہے ’’پھر ہم ان لوگوں کو بچالیں گے جو دنیا میں متقی تھے اور ظالموں کو اس میں زانوؤں کے بل گرا ہوا چھوڑ دیں گے۔‘‘ (سورہ مریم)

حضرت حفصہؓ کا ایک اور اعزاز و امتیاز یہ ہے کہ حضور اکرمؐ کے دور میں قرآن مجید کے تمام کتابت شدہ اوراق اور تختیاں ان کے گھر پر محفوظ تھیں۔ ان کے قرآن سے غیر معمولی شغف کی بنا پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی ہی میں قرآن کریم کے تمام کتابت شدہ اجزاء یک جا کر کے ان کے پاس رکھوا دیے تھے، جو پھر پوری زندگی ان ہی کے پاس رہے۔ جنگ یمامہ کے بعد حضرت عمر فاروقؓ نے حضرت ابوبکر صدیقؓ سے عرض کیا کہ یمامہ کی جنگ میں حفاظ کی کثیر تعداد نے جام شہادت نوش فرمایا ہے، مجھے ڈر ہے کہ اگر دوسری جنگوں میں بھی حفاظ کی اکثریت شہید ہوگئی، تو اس طرح قرآن کریم کا بیشتر حصہ ضائع ہوجائے گا، لہٰذا آپ قرآن جمع کرنے کے لیے اقدامات کریں۔ حضرت ابو بکرؓ کو یہ تجویز پسند آئی۔ انھوں نے حضرت زید بن ثابتؓ کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی، جس نے مختلف صحابہ کرامؓ کے پاس موجود قرآن کریم کے اجزا کو جمع کیا۔ اس کام میں حضرت حفصہؓ کے پاس موجود قرآن کریم کے کتابت شدہ اجزا سب سے زیادہ کارآمد ثابت ہوئے۔ کمیٹی نے تمام جمع شدہ اجزاء کو کتابی شکل میں ترتیب دے کر حضرت ابوبکر صدیقؓ کے حوالے کیا اور یہی وہ مکمل و مستند نسخہ ہے جو تاریخ میں ’’مصحف صدیقی‘‘ کے نام سے مشہور ہوا، اس کی اصل کاپی کو دوبارہ حضرت حفصہؓ کی تحویل میں دے دیا گیا۔

حضرت عثمانؓ کے دورِ خلافت میں اس نسخے کو نہایت خوب صورتی اور اہتمام کے ساتھ کتابت کروا کر اس کی متعدد کاپیاں بڑے بڑے شہروں میں روانہ کی گئیں جب کہ اصل کاپی دوبارہ حضرت حفصہؓ کے پاس محفوظ کردی گئی۔ آج ہم جس قرآن کریم کی تلاوت کرتے ہیں وہ اسی قرآن مجید کی اصل کاپی کی نقل ہے، جو حضرت حفصہؓ کے پاس محفوظ تھی۔ اس طرح اللہ کے کلام کی ترتیب تدوین اور اس کی حفاظت کے سلسلے میں حضرت حفصہؓ کے تاریخی کردار کو کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا اور یہ بات ام المومنین حضرت حفصہؓ کو دیگر امہات المومنینؓ سے ممتاز کرتی ہے۔

یوں تو تمام ازواجؓ باہمی محبت و پیار سے رہا کرتی تھیں، لیکن کبھی کبھی محبت پیار کے ان رشتوں میں وقتی طور پر مدوجزر بھی آتا تھا۔ ایک دوسرے سے ناراضی بھی ہوتی تو ایک دوسرے کی حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایات بھی کرلیا کرتیں، جس پر آپؐ تبسم فرما کر تحمل اور تدبر سے اختلافات و غلط فہمیاں دور فرما دیا کرتے۔ اسی طرح کا ایک واقعہ ترمذی میں درج ہے۔ ایک مرتبہ حضرت صفیہؓ اپنے حجرے میں بیٹھی رو رہی تھیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے، اور ان سے رونے کی وجہ دریافت کی۔ انھوں نے کہا کہ حفصہؓ کہتی ہیں کہ ’’تم یہودی کی بیٹی ہو‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی وقت حضرت حفصہؓ کو بلایا اور فرمایا ’’حفصہ! خدا سے ڈرو‘‘ پھر حضرت صفیہؓ سے فرمایا کہ تم نبی کی بیٹی ہو، تمہارا چچا پیغمبر، تمہارے شوہر پیغمبر، حفصہؓ تم پر کس بات میں فخر کرسکتی ہے۔ (ترمذی)

حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نہایت ذہین، علم دوست اور حاضر جواب تھیں۔ وہ نبی برحق صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت، اطاعت گزاری اور وفا شعاری میں بہت آگے تھیں۔ حضورؐ کے چھوٹے چھوٹے کاموں کو بھی اپنے ہاتھوں سے انجام دینا اپنے لیے باعث فخر و عبادت سمجھتیں۔ فہم و فراست اور قوت حافظہ میں کمال رکھتی تھیں۔ نہایت متقی، پرہیزگار اور عبادت گزار تھیں۔ کثرت سے روزے رکھتیں۔ سیرت کی کتابوں میں تحریر ہے کہ جبرئیل امین نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور فرمایا: ’’یا رسول اللہؐ! حفصہؓ بہت عبادت گزار اور کثرت سے روزے رکھنے والی خوش بخت خاتون ہیں۔ یہ دنیا میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ ہیں اور یہ جنت میں بھی آپ کی زوجہ ہوں گی۔‘‘ حضرت جبرئیل علیہ السلام کا یہ بیان، حضرت حفصہِ کی بزرگی اور اللہ کی ان سے خوش نودی کا مظہر ہے۔ ابن سعد میں حضرت حفصہؓ کے بارے میں تحریر ہے کہ وہ صائم النہار اور قائم اللیل ہیں۔ ایک اور روایت میں ہے کہ آپ اپنی وفات کے وقت بھی روزے سے تھیں۔

حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نہایت فراخ دل اور فیاض خاتون تھیں۔ غربا و مساکین اور مفلوک الحال لوگوں کی مدد دل کھول کر کرتیں۔ وفات سے پہلے اپنے بھائی حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بلا کر وصیت فرمائی کہ ان کے نام جو جائیداد ہے، وہ حاجت مندوں کے لیے وقف کر دیں۔ آپ سے ۶۰ روایتیں منقول ہیں۔ ان میں چار متفق علیہ ہیں، چھ صحیح مسلم میں اور باقی ۵۰ احادیث کی دیگر کتابوں میں ہیں۔ حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی کوئی اولاد نہیں تھی۔

ابن سعد کے مطابق ام المومنین حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا وصال، ماہِ شعبان ۴۵ ہجری میں ہوا، اس وقت آپؐ کی عمر ۶۳ سال تھی۔ نماز جنازہ مدینہ منورہ کے حاکم مروان بن حکم نے پڑھائی۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی نماز جنازہ میں موجود تھے۔ آپ کے بھائیوں حضرت عبد اللہ، حضرت عاصم اور بھتیجوں نے جنت البقیع میں تدفین کی۔ ام المومنین حضرت حفصہؓ کی سیرت طیبہ، جہاں امت مسلمہ کی خواتین کے لیے صبر و قناعت، ایثار و وقار، مہر و محبت اور توکل علی اللہ کا عظیم پیغام ہے، وہیں مردوں کے لیے بھی صبر و تحمل، عفو و درگزر اور پیار و محبت کا ایسا درس ہے کہ جو گھریلو زندگی کی خوش گوار اور کامیاب بنانے میں نہایت معاون و مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
محمود نجمی

تبصرہ کیجیے